گرمیوں کی چھٹیوں میں سربراہ ادارہ کیا کام کر یں؟

موسم گرما کی چھٹیوں میں طلبہ تعلیمی و با مقصد سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ایک اہم ترین ہدف ہے ، تاکہ چھٹیوں سے پہلے پڑھاۓ گئے اسباق چھٹیوں کے دوران یا بعد میں بھی یادرہ سکیں ۔ عصر حاضر میں طلبہ و طالبات کوگر میوں کی چھٹیوں کے دوران مصروف رکھتا اساتذہ کے لیے ایک بہت بڑا پینج ہے۔ معاشرے میں موجود بے شارنی تفریحی ذرائع اور طلبہ وطالبات کو ان کے ہدف کے راستے سے بھٹکانے والے عوامل کی موجودگی میں طلبہ وطالبات کو موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران بھی مصروف پر رکھنا بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ لہذامدرسین کو اس چینج سے عہدہ برآ ہونے کے لیے غور وخوض کی بہت ضرورت ہے اورایک مثالی اور ذ مہ دار سر براہ ادارہ ہی اس ذمہ داری سے کما حقہ نبردآزما ہوسکتا ہے ۔

سر براہ ادارہ کی ذمہ داریاں سکول کے دنوں میں جہاں سر براہ ادارہ مختلف سرگرمیاں سرانجام دے کر تدری عمل کو یقینی بنا تا ہے ، وہاں چھٹیوں میں میذ مہ داری دوگئی ہو جاتی ہے ۔ گرمیوں کی تعطیلات میں سر براہ ادارہ درج ذیل کام کر کے بہتر طور پراستفادہ کر سکتے ہیں ۔ سکول کے اندر عمارت، درخت ودیگر اشیا کی حفاظت کے لیے پالیسی بناۓ ۔ پودوں کو پانی دینے کی ذمہ داری لگاۓ اور با قاعدگی سے چھٹیوں کے دوران

چیک کرنے کا اہتمام کرے۔ سکول کی عمارت کو چھٹیوں میں کو چنگ کلاسز یا اکیڈمی کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے اپنے کسی استاد اسا تذہ کی کمیٹی بنائی جاسکتی ہے۔ اس

کے علاوہ سکول میں کھیلوں کے مقابلے کروائے جا سکتے ہیں۔ چھٹیوں میں طلبہ و طالبات کو با مقصد علمی ، ادبی اور تفریحی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کرے، جیسے مطالعہ کی عادت پیدا کر نے کے لیے لائبریری ممبرشپ دلوائی جاۓ مختلف لینگویج کورسز کا اہتمام کیا جاۓ ،کمپیوٹر میں مہارت پیدا کر نے کے لیے کورسز کر واۓ جائیں ،خوشخطی کی کلاسز منعقد کی جائیں تعلیمی سیر عجائب گھر ،سائنس میوزیم ، تاریخی مقامات وغیرہ کا اہتمام کیا جاۓ ،معلومات پر بنی ٹیلی ویژن پروگرامز دیکھنے کے حوالے سے بتا یا جاۓ اور اخبار بینی کی عادت پیدا کی جاۓ ۔ بچوں میں لکھنے کی عادت پیدا کر نے کے لیے روزانہ ڈائری لکھوانے کا اہتمام کیا جاۓ۔

چھٹیوں کا ہوم درک صرف تحریری نہ ہو بلکہ بچوں کو خقیقی اور تخلیقی Projects دیے جائیں تا کہ ان میں تعلیمی | مہارتیں پیدا ہوں ۔ ساجی بہبود کے حوالے سے کوئی نہ کوئی ڈمہ داری بچوں کو ضرور دی جاۓ مثلا گھر کے بزرگ یا بچے کی دیکھ بھال وغیرہ ۔سکول کے اندر سمر کیمپ کے ذریعے بھی طلبہ و طالبات کو موسم گرما کی چھٹیوں میں روزانہ یا ہفتہ وانعلی سر گرمیوں میں مصروف رکھا جا سکتا ہے ۔ اس سلسلے میں صبح سے لے کر دو یا تین گھنٹے تک مختلف سرگرمیوں کوسرانجام دیا جائے۔ طلبہ و طالبات کوروزانہ کی بنیاد پر ٹائم ٹیبل تیار کر کے بھی دیا جا سکتا ہے ۔ تا کہ وہ دن کا مخصوص حصہ صرف تعلیمی سرگرمیوں میں گزار سکیں۔ 

لکھائی کی مہارت کے لیے انگریزی اور اردو مضامین ، سائنس مضامین کے ماڈلز کی تیاری ، اخبارات ، میگزین اور کتابیں پڑھنا،علم کے اضافے کے لیے معلوماتی پروگرامات دیکھنا، انگریزی کی لکھائی اور بولنے کی مہارت کے لیے انگریزی پروگرامات دیکھنا اور چارٹس کی تیاری وغیرہ کا اہتمام کیا جا سکتا ہے ۔ اسا تذہ کے لیے فاصلاتی یا فارمل ریفریشر کورسز کا اہتمام کرے ۔ اس حوالے سے مختلف اداروں کی خدمات لی جاسکتی ہیں ۔ ٹیچر ٹر ینگ پر خصوصی تو جہ دے۔

یہ بھی بہتر ہے کہ تمام اسا تذہ چھٹیوں میں ایک ہفتے کے لیے آئیں سلپس پڑھیں اور سلیس کی تکمیل کے لیے پلانگ کر لیں ۔ یوم آزادی کے حوالے سے سکول میں اچھا پروگرام منعقد کروانے کے لیے تیاری ان چھٹیوں میں کروائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ عیدمن کے حوالے سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ 

گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران طلبہ و طالبات کو با مقصد تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے روایتی طریقہ ہوم ورک سے ہٹ کر جد ید تقیقی قسم کے منصو بہ جات کی با مقصد اور تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لیے تحمیل پر مبنی ہوم ورک Assign کر نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چھٹیوں کا کام اتنا ہوجس کو بچے آسانی سے کر سکیں ،اتنازیادہ نہ ہو کہ طلبہ کی باقی تمام دلچسپیاں ختم ہوکر رہ جائیں ۔ اعلی نتائج کے لیے بہترین یہ ہے کہ چھٹیوں کا کام اتنا ہو کہ طلبہ بآسانی اس کو پایمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ کچھ وقت سیر وتفریح اور کھیل کود کے لیے بھی نکال سکیں ۔ کیوں کہ ایک صحت مند جسم میں ہی ایک صحت مند دماغ ہوتا ہے ۔اس لیے ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے سیر وتفریح اور کھیل کو دنہایت ضروری ہے ۔

سکول کی ایڈورٹائزمنٹ کے لیے چھٹیوں کو بطریق احسن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے مقامی کمیونٹی اور سوسائٹی کے نامورافراد سے ملاقاتیں کی جا سکتی ہیں ۔ والد ین سے رابطہ کیا جائے ۔ انھیں کانوں تاں سکول کی تو قعات اور والدین کی ذمدار اواں سے آ کاو یا جائے ۔ والدین اس حوالے سے کمزوریوں کوم سے کم کرنے کے لیے دار ادا کر سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے 67 منصوبہ بندی ے کے والد ین کو گائیڈ کیا جہات اور ٹھیں بچوں کی کاور ہاں کو سجھنےاور انہیں دور کر نے کی رہنمائی دی جا سکتی ہے ۔ چیک لسٹ بنائی جاسکتی ہے کہ بچے کی چھٹیوں سے قبل کسی بھی مضمون یا صلاحیت میں کمزوری کے قابل نظر صورتحال کیا ہے اور بعد میں رفتہ رفتہ کیا پریشان ہو گی۔ 

کمزوری کے پیش نظر سرگرمیاں ترتیب دی جائیں اور انہیں لاگو کرنے کے لیے نظام الاوقات مرتب کیا جاۓ ۔

بچوں کی مشاورت سے چھٹیوں کا ایک ٹائم ٹیبل بنا کر والد ین کود یا جہاے جس میں پڑھنے کھیلنے سونے ،نماز ، تلاوت قرآن ، کھانے ،دوستوں رشتہ داروں سے ملنے، سیر اور ورزش ، ہوم ورک لکھنے اور سبق یاد کرنے کے اوقات کار درج ہوں ۔ ٹائم ٹیبل میں بچے کے آرام اور دلچسپی کا ہرمکن حد تک خیال رکھا جاۓ اور اس کے مطابق عمل کو یقینی بنایا جائے ۔ والدین بچے کی تمام سرگرمیوں کی گمرانی کر میں، بالخصوص ہوم ورک ساتھ ساتھ چیک کر یں ۔ زیادہ بہتر ہے کہ تفویض کیے گئے ہوم ورک کے ایام کے حساب سے حصے بنالیے جائیں تا کہ جائزہ لینا اور ہوم ورک مکمل کرنا آسان ہو جاۓ که روزانہ کتنا ہوم ورک کر نا ضروری ہے ۔

قرآن مجید پڑھنا اور سمجھنا بحیثیت مسلمان ہماری اولین ذمہ داری ہے ۔ اس حوالے سے والد ین کو بدف دیا جاۓ کہ گرمیوں کی چٹیوں میں ناظر و قرآن بچے کو ہر صورت پڑھانا ہے ۔ اس کے لیے صبح اور شام قریبی مسجد یا مدر سے میں بچے کو داخل کروائیں یا خود پڑھائیں ۔

حفظان صحت کے پیش نظر بچوں کو موسم کی شدت اور گرمی اور دھوپ سے بچانا بھی بے حد ضروری ہے ۔اس کے لیے والدین کو دن کے اوقات میں ان ڈور سرگرمیاں بنا کر دیں اور سہ پہر کے بعد کھیلنے کودنے یا باہر نکلنے وغیرہ کا ٹائم میں د یا جا

ۓ۔۔گرمی میں مشروبات اور سادہ غذا کا شیڈول بنایا جا سکتا ہے۔ رمضان کا مبارک مہینہ بھی چھٹیوں کے اندر آ رہا ہے۔ اس حوالے سے بچوں کو روزے رکھنے، درس و تدریس سنے، نماز میں پڑھنے ، ذکر واذکار کرنے ، پاک صاف اور با وضو ر ہنے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں اور ثواب سمیلنے کی بھی ترغیب دیں۔ روزانہ کی بنیادوں پراحادیث ، آیات ، دعائیں وغیرہ کا نصاب بنا کر بچوں کو یادکرنے کے لیے با قاعدہ ہوم ورک دیں تا کہ اس کا جائزہ بھی لیا جا سکے ۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں