بچوں کی توجه ( Concentration ) بڑھانے کے 10 آسان طریقے
بچوں کے لیے جتنا ضروری اپنی تعلیم کو وقت دیتا ہے انتاہی ضروری یہ بھی ہے کہ وہ اس وقت میں توجہ سے پڑھائی کریں تا کہ جو کچھ انہیں سیکھنا چاہیے ،سکھ سکیں۔ لیکن کم و بیش سب ہی بچوں کے ساتھ ایک مشکل یہ پیش آتی ہے کہ وہ پڑھتے ہوئے توجہ نہیں دے پاتے اور ان کی توجہ ادھر ادھر دیگر کاموں کی طرف رہتی ہے ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سادقت پڑھتے رہنے اور کتابوں کے سامنے بیٹھے رہنے کے باوجود وہ بہت کم سیکھ پاتے ہیں۔ کچھ بچوں کے ساتھ تو یہ مسئلہ کچھ زیادہ ہی ہوتا
ہے اور اس کی وجہ سے والد ین بھی پر یشان ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو جب ہوم ورک کے لیے کہیں یا کوئی کتاب پڑھنے کے لیے دیں تو بچے کچھ ہی دیر میں اکتا جاتے ہیں اور اس کام کو نچوڑ کر دیگر دلچسپیوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ ذیل میں ہم ای چند آسان اور قابل عمل
تجاویز درج کرر ہے ہیں جن کی مدد سے والدین بچوں کو اپنی توجہ پڑھائی پر مرکوز کرنے اور یکسوئی سے پڑھائی کرنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کے بچے کے ساتھ بھی عدم تو بہی کا مسئلہ در پیش ہے تو ہماری گزارش ہے کہ بچوں کو ڈانٹنے ڈپنے یامار پیٹ سے پہلے ان تجاویز کو ضرور آزمائے اور پھر ہمیں تائے کہ آپ نے انہیں کتا مفید پایا۔
بڑے کاموں کو چوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کیے:
بچے کام کی زیادہ مقدار دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں ، انہیں یہ کام کرنا مشکل محسوس ہو تا ہے اور وہ اس سے فرار کی راہیں تلاش کرنے لگتے ہیں۔ کوشش کیے کہ بچوں کو ان کے کام چوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے دیں تاکہ وہ باآسانی کر سکیں۔
تو جہ بٹانے والی اشاء بٹاد یجیے:
جب بچے اپنا ہوم ورک یار یڈ نگ و غیر و کر ر ہے ہوں توان کے قریب کوئی ایساکام نہ ہو جس سے ان کی توجہ بٹ سے۔ مثال کے طور پر ٹی وی وغیر ہ بند ہو نا چاہیے ۔ نیز والدین کو بھی چاہیے کہ آپی گفتگو کسی اور جگہ کریں اور بچے کو یکسوئی سے پڑھنے دیں۔
بچوں کے پاس ٹی وی یا موبائل نہ ہو :
دوسروں کے بات کرنے بتنا نقصان دہ یہ بھی ہے کہ بچوں کے پاس کوئی موبائل فون یا ٹی وی وغیرہ موجود ہو اور وہ بچوں کی دسترس میں ہو۔ اگر ایسا ہوگا تو یقینا بچے ان چیزوں کی جانب متوجہ ہوں گے اور اپنے کام پر توجہ نہیں دیں گے۔
ہوم ورک یا سٹڈی ٹائم طے کیجیے:
بچوں کا ٹائم ٹیبل بنایئے اور ان کے لیے مختلف کام کر نے کو وقت مختص کیے ۔ لینی انہیں معلوم ہو کہ اب پڑھائی کا وقت ہے اور اب کھیل کا۔ اسی طرح اگر کوئی اضافی مطالعہ یار یڈ نگ کروائی جارہی ہے تو روزانہ ایک ہی وقت میں کروائی جائے۔
جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ کیجیے:
سست اور کابل بچے کسی طرف اپنی توجہ مبذول نہیں کر پاتے ۔ بچوں کو جسمانی طور پر ایٹ اور چاق و چوبند بنائے ۔ ان کے لیے جسمانی کھیل کھیلنے کا بند و بست کیجے تا کہ ان کا جسم مضبوط ہو اور مضبوط جسم کے ساتھ کاموں پر توجہ دے سکیں۔
وقت کے لحاظ سے مقاصد کا تعین کیجیے:
بچوں کو بتائے کہ ان کے پاس ہر کام کے لیے ایک محدود وقت ہو تا ہے اور اس میں اپنا مقصد حاصل کر نا چاہیے ۔ مختلف کاموں کے ختم کر نے کا وقت لینی ڈیڈ لائن طے کیے اور انہیں اسی وقت میں اپنے کام نبٹانے اور اہداف حاصل کر نے کا عادی بنائے ۔
بچوں کے آرام کا خیال رکھیے:
بچوں کے لیے مناسب نیند اور آرام بہت ضروری ہے اور ان کی غیر موجود گی میں کام کی رفتار اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔ بچوں کو رات کے علاوہ دن میں سونے کے لیے ایک دو گھنٹے ضرور دیجیے تاکہ وہ فریش ہو سکیں۔
کھیل کود کامناسب و قت دیجیے:
مسلسل پڑھتے رہنانہ توکامیابی کی ضمانت ہے اور نہ اس سے بچوں میں دلچپی پید اہو تی ہے۔ بچوں کو کھیل کو دکے لیے مناسب وقت دیجیے ۔ ہاں کھیل کے دوران انہیں اپنا خیال رکھنا، قوانین کی پاسداری کر ناد غیر و غیر ہ ضرور سکھاۓ۔
اچھی خوراک کھائیے:
بچوں کو ہمیشہ انچا کھانا د یے ۔ مختلف اقسام کے پھل اور میوہ جات یادداشت اور ذہانت میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ بے آرامی، ناقص خوراک اور بازاری غذائیں بچوں کی صحت اور توجہ دونوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں