(۱) سوال کرنے سے :
دوسروں سے چیزیں مانگنے کی عادت بھی بچوں میں عموماً پائی جاتی ہے۔ اپنی اولاد کو سکھائیں کہ شدید ضرورت کے بغیر
کسی سے کوئی چیز نہ مانگیں
حضور ﷺ نے فرمایا :
''جس بندے نے سوال کا دروازہ کھولا اللہ
عزوجل اس پر فقر کا دروازہ کھول دے گا۔''
(جامع الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء مثل
الدنیا مثل اربعۃ نفر،الحدیث ۲۳۳۲، ج۴، ص ۱۴۵)
(۲) اُ لٹا نام لینے سے :
اصل نام سے ہٹ کر کسی کا اُلٹا نام (مثلاً لمبو، ٹھنگو، کالو وغیرہ)
رکھنےسے سامنے والے کو تکلیف پہنچتی ہے اور یہ منع ہے۔
(۳) مذاق اڑانےسے :
یعنی
کسی کوگھٹیا یا حقیر جانتے ہوئے اِس کے کسی قول یا فعل وغیرہ کو بنیاد بنا کر اس کی
توہین کی جائے اور یہ حرام ہے۔
(حدیقہ ندیہ،ج۲،ص۲۲۹)
(۴)عیب اُچھا لنے سے :
کسی کا عیب معلوم ہوجانے پر اسے کسی دوسرے پر ظاہر کرنے کی بجائے خاموشی
اختیار کرنی چاہئے، والدین کو چاہيئے کہ
اپنے بچوں کو اس سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''جو اپنے بھائی کی پردہ پوشی کریگا اللہ
تعالیٰ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا اور جو اپنے بھائی کے راز کھولے گا تو اللہ
تعالیٰ اس کے راز کھول دے گا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر ہی میں رسوا ہو جائے گا ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الحدود،الحدیث ۲۵۴۶،ج۳،ص۲۱۹)
(۵) تکبر سے :
خود کودوسروں سے افضل سمجھنا تکبرکہلاتا ہے۔
(مفردات امام راغب،ص۶۹۷)
اورتکبرحرام ہے۔
(حدیقہ ندیہ،ج۱،ص۵۴۳،۵۴۴)
یہ
بات اپنی اولاد کے دل میں بٹھا دیجئے کہ سب مسلمان برابر ہیں کسی مسلمان کو دوسرے
مسلمان پر پرہیزگاری کے سوا کوئی برتری نہیں ہے اور یہ کہ غریب بچے بھی تمہارے
بھائی ہیں اس لئے انہیں حقیر مت جانو۔
(۶) جھوٹ سے :
اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن ہی سے جھوٹ کے خلاف نفرت بٹھا دیں
تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی سچ بولنے کی عادت اختیار کريں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بد
بو سے ایک میل دور ہوجاتا ہے ۔''
(جامع الترمذی،کتاب البر والصلۃ،باب ماجاء فی
الصدق والکذب ،الحدیث۱۹۷۹،ج۳،ص۳۹۲)
(۷) غیبت سے :
غیبت
سے مراد یہ ہے کہ اپنے زندہ یا مردہ مسلمان بھائی کی غیرموجودگی میں اس کے چھپے
ہوئے عیوب کو اس کی برائی کے طور پر ذکر کیا جائے ، اسے غیبت کہتے ہیں ۔
مثلاً :
'' مجھے بے وقوف بنا رہا تھا '' ،
'' اس کی نیت خراب ہے ''،
'' ڈرامے باز ہے '' وغیرہ ۔
(ماخوذ از بہارِ شریعت،حصہ ۱۶،ص۶۴۵)
اپنے بچوں کو غیبت کی نحوست سے بچائيے ، یہ بہت خطرناک مرض
ہے ۔
(۸) لعنت سے :
لعنت سے مراد کسی کو اللہ کی رحمت سے دور کہنا ہے ۔ یقین کے ساتھ کسی پر بھی
لعنت کرنا جائز نہیں چاہے وہ کافر ہویا مومن ، گنہگار ہویا فرمانبردار کیونکہ کسی
کے خاتمہ کا حال کوئی نہیں جانتا۔
(حدیقہ ندیہ ،ج۲،ص۲۳۰)
اپنے بچوں کو اس کے مضر اثرات سے بچائیں ۔
حضرت حضور ﷺ نے فرمایا :
" کسی مومن پر لعنت کرنا اِسے قتل کرنے
کے مترادف ہے ۔''
(صحیح البخاری،کتاب الایمان والنذور ،با ب من
حلف بملۃ سوی ملۃ الاسلام الحدیث۶۶۵۲،ج۴،ص۲۸۹)
(۹) چوری سے:
بچپن کی عادت بہت مشکل سے چھوٹتی ہے ۔ اس لئے بچے گھر کی چھوٹی موٹی چیزیں
چرا کر کھا جاتے ہیں یا کسی کے گھر سے چرا لاتے ہیں اگر انہیں مناسب تنبیہ نہ کی
جائے تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے ہیں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''چور پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی
ہے۔''
(صحیح مسلم،کتاب الحدود،باب حد السرقۃونصابھا،الحدیث۱۶۸۷،ص۲۶ ۹)
(۱۰) بغض وکینہ سے :
بچوں کے دل میں کسی کا بغض بیٹھ جانا نا ممکن نہیں ، بچوں
کو اس سے متعلق بھی معلومات دیجئے اور بچنے کا ذہن بنائيے۔
(۱۱) حسد سے:
یہ
تمنا کرنا کہ کسی کی نعمت اس سے زائل ہوکر مجھے مل جائے ''حسد'' کہلاتاہے ۔ حسد
کرنا بالاتفاق حرام ہے۔
(حدیقہ ندیہ،ج۱،ص۶۰۰)
اپنے
بچوں کوحسد سے بچائيے ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
'' اپنے آپ کو حسد سے بچاؤ کہ حسد نیکیوں کو
اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،با ب فی
الحسد،الحدیث ۴۹۰۳،ج۴،ص۳۶۰)
لیکن اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھے بھی مل جائے اور اسے
بھی حاصل رہے رشک کہلاتا ہے اور یہ جائز ہے ۔
(۱۲) بات چیت بند کرنے سے :
ہمارے معاشرے میں معمولی وجوہات کی بنا پر تعلُقات ترک کرنے اور بات چیت بند کردینے میں کوئی قباحت
محسوس نہیں کی جاتی ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ تین
دن سے زیادہ کسی مسلمان کو چھوڑ رکھے ۔ اگر تین دن گزر جائیں تو اسے چاہيے کہ اپنے
بھائی سے مل کر سلام کرے، اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو (مصالحت کے) ثواب میں
دونوں شریک ہیں اور اگر سلام کا جواب نہ دے تو جواب نہ دینے والا گنہگار ہوا اور
سلام کرنے والا ترکِ تعلقات کے گناہ سے بری ہوگیا ۔''
( سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب فیمن یھجر
اخاہ المسلم،الحدیث۴۹۱۲،ج۴،ص۳۶۳)
(۱۳) گالی دینے سے :
کسی کو گالی دیتا دیکھ کر بچے بھی اسی اندازکو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
انہیں اس کی ہلاکتوں سے آگاہ کر کے بچنے کی تاکید کریں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا :
''مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت میں
ڈالنے کے مترادف ہے ۔''
(الترغیب والترھیب ، کتاب الادب ،باب الترھیب
من السباب ...الخ،الحدیث۴۳۶۳،ج۳،ص۳۷۷)
(۱۴)وعدہ خلافی سے :
حضور ﷺ نے فرمایا:
''جو کسی مسلمان سے وعدہ توڑے ، اس پر اللہ
تعالیٰ ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول نہ ہوگا نہ
نفل ۔''
(صحیح البخاری ،کتاب فضائل المدینہ ،باب حرم
المدینہ ،الحدیث۱۸۷۰،ج۱،ص۶۱۶)
اپنے بچوں کو وعدہ خلافی سے بچنے کی تربیت دیجئے ۔
بشکریہ وٹس ایپ گروپ "آؤ مطالعہ کریں"






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں