مسلمانوں کو اب مساجد میں کچھ تبدیلی کرنے ہی پڑے گی


مسلمانوں کو اب مساجد میں کچھ تبدیلی کرنے ہی پڑے گی
مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی جگہ ہی نہ بنائیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر
*
وہاں غريبوں کے کھانے کا انتظام ہو۔
*
ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی کائونسلنگ ہو۔
*
ان کے خاندانی جھگڑوں کو سلجھانے کا انتظام ہو۔
*
مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعداجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے۔
*
اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلئے عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو۔
*
آپس میں رشتے ناطے کرنے کیلئے ضروری واقفیت کا موقع ملے۔
*
نکاح کا بندوبست سادگی کیساتھ مساجد میں کیےجانے کو ترجیع دی جائے۔
*
قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو۔ کیونکہ صدقات و خیرات کرنے میں ہم مسلمانوں کا کوئی ثانی نہیں۔
*
بڑی جامعہ مساجدسے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کیساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو۔
*
ہماری مساجد میں ایک شاندار لائبریری ہو، جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتابیں مطالعہ کے لئے دستیاب ہوں۔
بہت ہو چکا مساجد کے در و دیوارکے رنگ و روغن پر، بیت الخلاء کے سنگ مرمرپر، قمقموں فانوس و جھومر پر، ائیرکنڈیشن اور کولروں پراور نفیس قالینوں پر خرچ . . .
مناسب حد تک وہ بھی کرتے رہیں مگراب وقت آگیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پربھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔
مگر کیسے۔۔۔؟
قوم میں صلاحیت مند افراد کی کمی نہیں ہے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو اس کارخیر کیلئے استعمال کریں۔
اپنے ٹرسٹوں کے شاندار اسپتال اور اسکول و کالج کھولے جائیں جہاں بلا تفریق مذہب و ملت ہر کسی کو انتہائی رعایتی قیمت میں بہترین علاج اور اعلی تعلیم کے حصول کا موقع ملے۔ خدارا اپنے اندر سر سید احمد اور سر گنگا رام جیسے لوگ پیدا کریں۔
ان میں سے کوئی بھی تجویز نئی نہیں ہے تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی صلعم کے مدینہ میں ہوتے تھے
جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گئے ... اور چلے ہی جا رہے ہیں۔
خدارا اب رک جائیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدل لیں۔۔۔!
اس پبلک ویلفیئر میسج کو ضرور شیئر کریں۔ جزاک اللہ


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں