بچوں میں خوداعتمادی کی کمی کی وجہ!
والدین جب اپنے بچوں سے شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے بڑھ کر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کو خوش رکھیں اور کسی معاملے میں شکایت کا موقع نہ دیں ایسے بچوں میں فرمانبرداری اور خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس کے برعکس وہ والدین جو اپنے بچوں سےسختی کامعاملہ کرتےہیں تو ایسی صورت حال میں بچے باغی ہوجاتے ہیں اور خوب بدتمیزی کرتے ہیں‘ بچوں پر سختی صرف ان کی اصلاح کے لیے کرنی چاہیے۔ بے جاروک ٹوک بچوں کو ضدی اور ہٹ دھرم بنادیتی ہے۔ یہی پودے جب تناور درخت بن جاتے ہیں تو ان کو سیدھا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ والدین اس بات پر توجہ دیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ باپ معمولی بات پربچوں کے سامنےشور شرابا کرنا شروع کردیتا ہے یا بچوں کی غلطی پر بجائے نرمی اور اصلاح سے کام لینے کےانہیں سب کے سامنے خوب بے عزت کیا جاتا ہے‘ اس طرح بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ احساس محرومی بچوں میں خوداعتمادی کے پرخچے اڑا دیتا ہے
بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے 8 مفید مشورے
والدین اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ذہین دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں تاکہ بچے حصول علم کے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے والدین خصوصا ماؤں کی جانب سے مختلف طریقے بھی اختیار کیے جاتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے بچے کم سنی میں تنہائی، لا پرواہی جیسی عادات کے ساتھ بول چال میں نہایت کمزور واقع ہوتے ہیں مگران کے بعض جسمانی اور نفسیاتی عوارض کو دور کردیا جائے تو وہ بچے کامیاب سائنسدان،علماء، موسیقار ، موجد اور فن کار بن کر ابھرسکتے ہیں۔,,
والدین جب اپنے بچوں سے شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو بچوں کو اس سے بڑھ کر کوشش ہوتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کو خوش رکھیں اور کسی معاملے میں شکایت کا موقع نہ دیں ایسے بچوں میں فرمانبرداری اور خوداعتمادی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے اس کے برعکس وہ والدین جو اپنے بچوں سےسختی کامعاملہ کرتےہیں تو ایسی صورت حال میں بچے باغی ہوجاتے ہیں اور خوب بدتمیزی کرتے ہیں‘ بچوں پر سختی صرف ان کی اصلاح کے لیے کرنی چاہیے۔ بے جاروک ٹوک بچوں کو ضدی اور ہٹ دھرم بنادیتی ہے۔ یہی پودے جب تناور درخت بن جاتے ہیں تو ان کو سیدھا کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ والدین اس بات پر توجہ دیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ باپ معمولی بات پربچوں کے سامنےشور شرابا کرنا شروع کردیتا ہے یا بچوں کی غلطی پر بجائے نرمی اور اصلاح سے کام لینے کےانہیں سب کے سامنے خوب بے عزت کیا جاتا ہے‘ اس طرح بچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ احساس محرومی بچوں میں خوداعتمادی کے پرخچے اڑا دیتا ہے
بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے 8 مفید مشورے
والدین اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ ذہین دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں تاکہ بچے حصول علم کے میدان میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے والدین خصوصا ماؤں کی جانب سے مختلف طریقے بھی اختیار کیے جاتے ہیں۔ دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ بہت سے بچے کم سنی میں تنہائی، لا پرواہی جیسی عادات کے ساتھ بول چال میں نہایت کمزور واقع ہوتے ہیں مگران کے بعض جسمانی اور نفسیاتی عوارض کو دور کردیا جائے تو وہ بچے کامیاب سائنسدان،علماء، موسیقار ، موجد اور فن کار بن کر ابھرسکتے ہیں۔,,
مصرکے ایک ممتاز ماہر نفسیات ڈاکٹر مجد العجرودی نے اخبار ’الیوم السابع‘ سے بات کرتے ہوئے ایسے آٹھ مفید مشورے بیان کیے ہیں جو تمام والدین بالخصوص ماؤں کے لیے ان کے بچوں کی ذہنی نشونما کے حوالے سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ مفید مشورے کیا ہیں؟ آپ بھی جانیے۔
* 1۔ بچے میں خود اعتمادی پیدا کرنا۔ چونکہ بچہ اپنے ماں باپ کی آنکھوں میں خود کو دیکھتا ہے۔ اگر بچے کی زیادہ سے زیادہ تعریف وتوصیف کی جائے گی تو اس میں خود اعتمادی میں اضافہ ہوگا اور یوں اس کی ذہنی صلاحیتوں کی بہتر انداز میں نشو ونما ہوسکے گی۔
* 2۔ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش صرف والدین تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ بچے کو ’محدود ذہنیت‘‘ کا الزام نہیں دینا چاہیے بلکہ ماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے اس کے اساتذہ اور دوستوں کو بھی اس بات پرقائل کریں کہ وہ بچے میں خود اعتمادی کےفروغ کی کوشش کریں۔
* 3 ۔ بچے کو ڈرانے دھمکانے اور اسے دوسرے بچوں کی نظر میں گرانے سے گریزکریں، چاہے وہ بار بار غلطی کیوں نہ کرے۔ بار بار کی ڈانٹ ڈپٹ سے بچہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔
* 4 ۔ بچے کی ان خوبیوں کو تلاش کریں جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ اس کی آواز اور قدرت کلام کو بہتر بنانے پر توجہ دییجیے۔ اسے گھر میں ایسا ماحول فراہم کیجیے تاکہ وہ اسکول میں بھی اپنے اوپر اعتماد پید اکرسکے۔
*5 ۔ بچے کی ذہانت سے زیادہ اس پر کام کا بوجھ نہ ڈالیے۔ ایسا نہ ہو کہ کام کے بوجھ تلے دب کر بچہ ناکام ہواور مایوس ہوجائے۔
بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
*6 ۔ بچے کی محدود صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں ہمہ وقت اس کی مدد جاری رکھیں۔ پینٹنگز پر توجہ دینےکے بجائے بچے کے تدریسی مواد مثلا اس کی لکھائی پڑھائی میں اس کی مدد کیجیے۔
*7 ۔ دوسرے بچوں کے سامنے اپنے بچے کو نفسیاتی طورپر گرانے کی کوشش نہ کیجیے بلکہ دوسروں کے سامنے بھی اپنے بچے کی تعریف کیجیے۔
*8 ۔ بچے کے پسندیدہ [مثبت] مشاغل میں اس کی مدد کیجے تاکہ اس میں دوسرے بچوں کے درمیان رہتےہوئے خود اعتمادی کا احساس پھلتا پھولتا رہے۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں