حکایت:ادھورا علم


’’ایک نحوی صاحب (علم نحو کا عالم) کشتی پر سوار تھا۔
جب کشتی بادِ موافق کے سہارے مزے سے دریا پر تیرتی جا رہی تھی تو نحوی نے ملّاح سے بات کرنی شروع کی۔’’
بھائی ملّاح ٗ کیا تم نے نحو پڑھا ہے۔؟
‘‘ملاح نے کہا ’’نہیں‘‘نحوی نے جواب دیا۔
پھر تم نے اپنی آدھی عمر برباد کردی۔ملّاح جواب سُن کر لاجواب اور خاموش ہو گیا۔۔۔۔
جب کشتی عین دریا کے وسط میں جا رہی تھی تو قضا کار بادِ مخالف زور سے چلنے لگی۔
ملّا ح نے کہا ۔’’کشتی بچتی نظر نہیں آتی تیر کر پار اُترنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔
‘‘ پھر نحوی صاحب سے پوچھا ’’ کیا آپ تیرنا جانتے ہیں‘‘؟
نحوی نے کہا ’’ کبھی اس طرف خیال ہی نہیں گیا۔
ساری عمر کتابوں میں رہے۔
‘‘ ملاح نے کہا ’’ پھر آپ نے ساری عمر یوں ہی برباد کی۔یہاں فنِ تیراکی کام آتا ہے –
علم نحو اب ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا۔‘‘
درج بالا حکایت یہ بتاتی ہے کہ حصولِ تعلیم کے ساتھ ہنر مند ہونا سونے پر سہاگہ ہے۔ بسا اوقات صرف تعلیم سے ہی کام نہیں چلتا بلکہ ٗ ہنر مندی سے ظفریابی ملتی ہے ۔اسی طرح نرا ہنر مند ہونا بھی کمال نہیں ہے ٗ تعلیم بھی ضروری ہوجاتی ہے۔اگر یہ دونوں مل جائیں تو انسان کبھی دوسروں کا محتاج نہ رہے۔دوسرے یہ کہ علماء کو اپنی تعلیم پر ناز نہیں کر نا چاہیے ۔کبھی کبھی منہ کی کھانی پڑتی ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں