شناخت، identity، पहचान

 کسی بھی معاشرے میں بقاء کے لیے شناخت کا ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی تین بڑی قسمیں ہیں۔

۱)دائمی شناخت

۲)مجموعی شناخت

۳)حاصل کردہ شناخت

دائمی شناخت

شناخت کا یہ وہ روپ ہے جوکہ تغیّر سے آزاد ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی خاص  تبدیلی وقوع پذیر  نہیں ہوتی۔جیسا کہ جلد  کا رنگ، قد( ایک خاص  عمر  کے بعد)، شکل ( ایک خاص عمر کے بعد) ، جسم کی ماہیت، آنکھو ں کا رنگ، اُنگلیوں کے پوروں کے نشان  وغیرہ ۔ یہ شناخت  خداداد عنایت  ہے جس میں تبدیلی عموماً نا ممکن ہوتی ہے ۔ یہ شناخت  عمر بھر انسان کے ساتھ  رہتی  ہے۔ دور حاضرکی بنیادی ضروریات جیسا کہ شناختی کارڈا ور پاسپورٹ وغیرہ پر پہچان کے لیے اسی شناخت کو حجت تسلیم کیا جاتا ہے۔

مجموعی شناخت 

شناخت کی یہ قسم انسان کو اُسکے گردونواح کی بدولت عطاء ہوتی ہے۔ انسان   دنیا میں اپنےاِرد  گِرد موجود لوگوں اور مقامات  کی وجہ سے جانا  اور پہچانا جاتا ہے۔اسکا     قبیلہ ، مذہب،دفتر، محلّہ ،ایمان ، مسلک اور اس سے مطابقت رکھتی بہت  سی چیزیں اُسکی  شناخت بناتی  ہیں ۔ شناخت کی اس قسم کو وقتاً  فوقتاً   ماحول کے تبدیل  کیا جا سکتا ہے۔

حاصل کردہ شناخت

 یہ شناخت کی وہ قسم جو انسان اپنی محنت کے بل بوتے پر تخلیق  کرتا ہے۔قومی و انفرادی سینچائی  میں انسانکا کردار،  اسکا حصہ، اسکا  مقام،اسکا   علم  اورمعاشرتی امور میں  اسکی شمولیت اِسے   ایک باوقار  شخصیت  کی پہچان دیتی ہے۔ دنیا میں ہماری پہچان کی وجہ ہمارا وہ مقام ہے جو ہم کسی بھی مخصوص شعبے میں کڑی محنت کے بعد حاصل کرتے ہیں ۔

 لوگوں کی اکثریت کو  ہم اُنکی دائمی یا مجموعی  شناخت کی بجائے اُنکی حاصل کردہ شناخت سے  پہچانتے ہیں ۔ جیسا کہ اصحاب کرام   کی کثیر تعداد، نامور دانشور حضرات،نیوٹن، سقراط، قائداعظم اور سیّد مودودی وغیرہ کا شمار اُن افراد میں ہوتا ہے  جنھوں نےاپنےاپنے شعبہ جاتِ زندگی میں انتھک کاوشوں کے بعد تاریخ کے سنہری اوراق پر اپنا نام درج کروایا۔  حاصل کردہ شناخت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں اِن اشخاص کو اِنکی    دائمی اور مجموعی  پہچان سے زیادہ  حاصل کردہ شناخت کی  بدولت یاد کیا جاتا ہے۔  

موجودہ حالات کے تناظُر میں  یہ بات سوچنے سے تعلق رکھتی  ہے کہ میری حاصل کردہ شناخت کیا ہے ؟کیا میری زندگی کاکوئی  ایساپہلو بھی ہے جسے میں بطورِ حاصل کنندہ  فخریہ  انداز سے دنیاوی منصفوں کے سامنے پیش کر سکتا ہوں۔

۔ خدا کے ہاں  بھی آپکی  دائمی  اور مجموعی  شناخت کی بجائے آپکے  اعمال(حاصل کردہ شناخت) کا مواخذہ کیا جائے  گا۔ لہذا   آج سے اس عزم کا اِعادہ کیجئے  کہ  آپ اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنی شناخت کو سنوارنے کے لیے بروئے  کار لائیں گے  اور بروزِ محشر بارگاہ ِخدا میں  سرخ رو ہوں گے۔

تحریر: محمد مشتاق مانگٹ

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں