غسل خانہ، bathroom، स्नानघर

آج کل نئے رواج کے تحت دیہاتوں میں عموماً نئے بننے والے گھروں میں غسل خانہ اور لیٹرین ایک ہی جگہ بن رہی ہے۔ شہروں میں تو کئی دہائیوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ مگر دیہاتوں میں اس پریکٹس کے نئے ہونے پر 7 بنیادی غلطیاں کی جاتی ہیں۔ جنہیں میں نے اپنے آس پاس ہر دوسرے گھر دیکھا ہے۔ 

1. اس کمبائنڈ واش روم کا ایک تو سائز ہی بہت چھوٹا رکھا جاتا اور پھر سات یا آٹھ فٹ چھت رکھ کے اوپر گیلری بنا دی جاتی ہے۔ جو کہ بہت بڑا بلنڈر ہے۔ نہاتے ہوئے اس بند بے کے اندر اتنی حبس ہو جاتی ہے۔ کہ رہے رب کا نام، سانس گھٹنے لگتا ہے۔ 

2۔ ایگزاسٹ پنکھے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ جو کہ بہت ضروری ہے۔ واش روم ہی ایسی جگہ بناتے جہاں سے کوئی روشن دان اور ایگزاسٹ لگ سکے۔ 

3. جہاں کموڈ نہ ہو وہاں سیٹ پر پانی کی ٹینکی لگانے کا رواج نہیں ہے۔ لوٹے بھر بھر کے لگے رہو منا بھائی 

4. واش روم کے دروازے پر میٹ اور سلیپر نہیں رکھا جاتا۔ کہ اپنا گندہ جوتا باہر اتار کر واش روم میں وہی سلیپر پہن کر جائیں۔ دوسرا یہ کہ واش روم والا جوتا پہن کر سارے گھر میں تو نہ چلیں۔ کسی جگہ نماز بھی پڑھنی ہوتی 

5. واش روم میں چھوٹا وائپر نہیں رکھا جاتا۔ کہ نہانے کے بعد وائپر لگا کر ہر کوئی باہر آئے۔ ٹائل لگی ہوتی وائپر نہ لگے تو پانی سے کوئی بھی پھسل سکتا ہے۔ کئی پھسل کر ہڈیاں تڑواتے بھی ہیں۔ 

6. کچھ لوگوں نے گیس کے انسٹنٹ گیزر ہی بلکل بند واش رومز میں لگائے ہوئے۔ جو ان کی جان تک لے سکتے ہیں۔ 

7. جو صابن واش روم کے باہر بنے بیسن پر ہاتھ منہ دھونے کے لیے رکھا ہوا ہوتا ہے وہی اندر نہانے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔ ایک ہی صابن کی ٹکیا دن میں کئی بار اندر جاتی باہر آتی۔ یار ایک صابن دانی اندر لگا کر ایک ٹکیا اندر بھی رکھ دو۔ 

آپ یا آپ کے آس پاس کوئی اس پریکٹس میں ہے تو اسے گائیڈ کریں۔ واش روم کی چپل اور اندر وائپر کو تو پڑھی لکھی بھی اکثریت نظر انداز کر رہی ہے۔ یہ گھر میں چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی ہمارے رہن سہن ، شخصیت اور میچورٹی کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ یقین مانیں ان معمولی سی عادتوں اور باتوں کی وجہ سے پڑھے لوگ عام لوگوں میں اپنے بچوں کا رشتہ نہیں کرتے کہ عام سطح کی سوچ والے گھرانے کو یہ سب کبھی بھی سمجھایا نہیں جا سکتا۔

 اور بھی ایسی کئی باتیں ہیں جن کا اکثریت کو یا تو پتا ہی نہیں یا معمولی سمجھ کر اگنور کر رہے ہیں۔سات مزید ضروری باتیں جنہیں جاننا آپ کے لیے ضروری ہے۔ 

1. شاور لے کر اپنے کپڑے کبھی بھی ذیادہ وقت کے لیے یا کئی دن تک واش روم میں نہ لٹکتے رہنے دیں۔ ناں ہی سونے کے وقت پہننے والا ٹراؤزر شرٹ واش روم میں رکھا کریں۔ واش روم میں ایسے لٹکتے ہوئے کپڑے جراثیم سے بھر جاتے ہیں۔ 

2. کچھ لوگوں نے تولیے کا ہینگر مستقل واش روم کے اندر ہی فکس کر دیا ہوا۔ نہا کر یا ہاتھ منہ صاف کرکے اسی پر تولیہ ڈال دیتے ہیں۔ یہ بھی غلط ہے ادھر ہی ٹائلٹ ہوتا جس سے نکلنے والے جراثیم تولیے کو قابل استعمال نہیں رہنے دیتے۔ تولیہ نہا کر فورا باہر دھوپ میں خشک ہونے کے لیے ڈالیں۔ اور ہر ہفتے تولیے تو دھوئیں۔

3. کوشش کریں ہر کسی کا اپنا الگ تولیہ ہو۔ اسکن ٹائپ ہر کسی کی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک ہی گھر میں کچھ لوگ صاف رہتے اور کچھ گندے۔ کسی کو الرجی یا کوئی انفیکشن ہو سکتا ہے۔ ابھی تو کرونا بھی چل رہا۔ تولیہ سب کا الگ رہا۔۔ہمارے گھر میں سب کا کئی سالوں سے اپنا اپنا تولیہ ہے۔ 

4. باتھ روم کا دروازہ استعمال کے بعد ہمیشہ بند کر دیں۔ گندی جگہ ہوتی ہے۔ اس کی سمیل کمرے میں یا گھر میں نہ پھیلنے دیا کریں۔ 

5. دروازے کی چٹکی ٹاپ پر نہیں لگانی پلیز۔ درمیان میں لگائیں۔ یا چار فٹ پر لگا لیں۔ گھر میں کوئی چھوٹے قد کا فرد مہمان آجائے یا کوئی مہمان آیا ہوا بونا واش روم جانا چاہے تو وہ کیا کرے گا؟ 

6. گھر میں بہنیں بھی ہیں بھائی بھی۔ والدین کوشش کریں کہ بیٹوں اور بیٹیوں کے باتھ روم الگ الگ رکھیں۔ بیٹے اپنے باتھ روم صاف بھی خود کریں۔ اور وہ بہنوں نے باتھ روم میں نہ جائیں۔ دونوں کے استعمال کی کچھ چیزیں واش روم میں پڑی ہو سکتی ہیں۔ جن کا پردے میں رہنا ہی مناسب ہے۔۔اگر ایسا ممکن نہیں تو لڑکے لڑکیاں اپنی مخصوص ضرورت کی اشیاء باتھ روم میں نہ چھوڑ آیا کریں۔ 

7. واش روم میں دانت صاف کرنے کے برش نہ رکھیں۔ چاہے آپ انہیں اوپر سے کور کرکے ہی کیوں نہیں آرہی نہیں وہاں رکھنے۔ جب صبح شام برش کرنے جائیں تو ساتھ لے جائیں ساتھ ہی باہر لے آئیں۔

از: خطیب احمد

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں