حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم بحثیتِ محسنِ نسواں

باب١:قبل از اسلام عورت کا مقام

قدیم دور میں عورت

اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں تمام دنیا کی اقوام میں  عورت کی حیثیت گھریلو استعمال کی اشیاء سے زیادہ نہ تھی۔ جانوروں  کی طرح اس کی خرید وفروخت ہوتی تھی۔ اس کو اپنی شادی بیاہ میں کسی قسم کا کوئی اختیار نہ تھا اس لئے ولی جس کے حوالے کردیتے وہاں جانا پڑتا تھا ۔عورت کو اپنے رشتہ داروں کی میراث میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا بلکہ وہ خود گھریلو اشیاء کی طرح مال وراثت سمجھی جاتی تھی اور مردوں کی ملکیت تصور کی جاتی تھی اس کی ملکیت کسی چیز پر نہ تھی اور جو چیزیں عورت کی ملکیت کہلاتی تھیں ان میں اس کو مرد کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے تصرف کا کوئی اختیار نہ تھا ۔  یہاں تک کہ یورپ کے وہ ممالک جو آج کل دنیا کے سب سے زیادہ متمدن ملک سمجھے جاتے ہیں ان میں بعض لوگ اس حد کو پہنچے ہوئے تھے کہ عورت کے انسان ہونے کو بھی تسلیم نہ کرتے تھے۔قدیم یونان کے بہت سے فلاسفرز کے نزدیک عورت دراصل مرد کی ناقص صورت ہے۔ ارسطو سے منسوب ہے کہ عورت میں روح نہیں ہوتی۔

دین ومذہب میں بھی عورت کا کوئی حصہ نہ تھا نہ اس کو عبادت کے قابل سمجھا جاتا تھا نہ جنت کے ۔ روم  میں یہ تصور تھا کہ وہ ایک ناپاک جانور ہے جس میں روح نہیں ہے۔  عام طور پر باپ کے لئے لڑکی کا قتل بلکہ زندہ درگور کردینا جائز سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ عمل باپ کے لئے عزت کی نشانی اور شرافت کا معیار تصور کیا جاتا تھا ۔بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ عورت کو کوئی بھی قتل کردے نہ تو اس پر قصاص واجب ہے نہ خوں بہا، اور اگر شوہر مرجائے تو بیوی کو بھی اس کی لاش کے ساتھ جلا کر سَتِی کردیا جاتا تھا ۔ہندوؤں کے قوانین میں تو عورت کے قتل کو سانپ اور چھپکلی مارنے کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔ایک طرف عورت پر جور و ستم کا یہ حال تھا تو دوسری جانب بھی انتہاپسندی کا رجحان موجود تھے۔جس میں صرف اور صرف عورت ہی سماجی و مذہبی زندگی کا محور تھی۔ بابلی اور سمیری تہذیب میں بھی یہی معاملہ تھا اور ہندوستان کی بعض ذیلی ثقافتوں میں بھی عورت کو دیوی کا درجہ حاصل تھا اور خاندان کی سربراہ بھی وہی ہوا کرتی تھی۔ 

جدید دور میں عورت

یورپین اور دوسرے ممالک میں تہذیبی و تمدنی ترقی آئی تو انھوں نے عورت کو مردوں کے اختیار سے نکالا اور مساوات کا نعرہ لگا کر عورتوں کو مردوں کے برابر لا کھڑا کیا۔ عورتوں کو گھر سے نکالا اور سیاست و معیشت کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ 

مرد کی طرح عورت پہ بھی معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا ، اسی طرح مردوں کے لیے لازم کر دیا کہ وہ بھی عورتوں کی طرح بچوں کی نشوونما کریں۔ طلاق کا حق مرد کی طرح عورت کو بھی دے دیا۔ حتی کہ کچھ ممالک میں عورتوں کو یہ حق بھی دے دیا گیا کہ وہ مرد کی طرح بیک وقت ایک سے زیادہ مردوں سے ازواجی تعلق قائم کر سکتی ہے۔ 

عورتوں کو بالغ ہونے پر  ماں باپ کے اختیار سے بھی نکال دیا گیا۔ نسلوں کی افزائش کو روکنے کے لیے اشتہاری اقدامات کیے گئے۔  جن میں بچوں کو ماں کے لیے ایک بوجھ کا تصور پیدا کیا گیا۔ برتھ کنٹرول کے ہزاروں طریقے متعارف کروائے گئے اور ان کے لیے باقاعدہ اشتہارات دئیے گئے جن میں عورت کو  کھلے عام  بدکاری کی  ترغیب دی گئی۔

الغرض ان دونوں قسم کی تہذیبوں نے عورت کا مقام ختم کر دیا۔ ایک طرف  عورت کی آزادی کی وجہ سے  ازواجی رشتہ  قائم رکھنا مصیبت بن گیا تو دوسری تہذیب نے عورت کو ہر چیز سے پست کر دیا۔ایک طرف  اس کے حقوق تک صلب کر کے اسے ہر اختیار سے محروم کر دیا گیا تو دوسری طرف اسے ہر طرح کی آزادی دے دی گئی جس سے نہ صرف وہ خود تباہی کا شکار ہوئی بلکہ اپنے معاشرے کو بھی تباہی و بربادی کی طرف لے گئی۔قدیم معاشرے نے اگر ہر قدم اور ہر طرح سے عورت کو ٹھکرایا تو جدید دنیا نے اسے سیاسی و معاشی لحاظ سے مرد کے مساوی قرار دے دیا اور اسے  ) Equality مساوات) کا نام دے دیا۔

ان شکستہ حالات میں رسول اللہ ﷺ نے  عورتوں کو ان کے حقوق دلائے، مردوں کو خواتین کے احترام کا تصور دیا اور سماج میں عورت کو وہ مقام دیا جو آج کی نام   نہاد متمدن تہذیب بھی دینے سے قاصر رہی ہے۔ آپ ﷺ نے نہ ہی عورت کو دیوی قرار دیا اور نہ ہی اسے شر کا منبع تسلیم کرنے پر رضامند ہوئے۔مرد و زن کے باہم غیر فطری تصور مساوات کے بجائے آپ ﷺ نے Equality  کی  بجائے Equity   کا تصور دیا۔ نہ تو  عورت کو مرد کی غلام  و مِلک سمجھا گیا اور  نہ ہی  اندھی مساوات کے  نعرہ کے طور پر اس کے ناتواں کندھوں پہ بھاری بوجھ ڈالا۔ بلکہ آپﷺ نے  خواتین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک  کیا اور امت کو بھی ایسا کرنے کی تاکید کی۔اپنے قول و عمل کی بنا پر آپ ﷺ نے عورت کو اس کا اصلی مقام دلایا ۔ نیز اس سے ہر وہ بوجھ دور کر دیا جو کبھی وہ غلام بن کر سہتی تھی اور کبھی آمر بن کر۔ جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرہ توازن و رعنائی کا ایک حسین مجموعہ بن گیا ۔نیز عورت کا یہی درست مقام مسلم معاشرے کی  اخلاقی و کرداری ترقی کا موجب بنا۔اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ حضورﷺ خواتین کے حقیقی محسن تھے جنہوں نے عورت کو  انسانیت کے اس  درجے پہ فائز کروایا جو اس کا اصل حق  وضرورت تھا ۔

باب٢: رسول اللہ ﷺ بحیثیت محسنِ نسواں

 حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اللہ کے حکم پر نہ صرف یہ کہ معاشرے میں موجود عورتوں کو قابلِ عزت قرار دیا بلکہ اپنے اسوہ سے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ خواتین کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔اس حصہ میں ہم حضورﷺ  کے خواتین پہ کیے جانے والے احسانوں کا جائزہ لیں گے۔

عورتوں کے حقوق سے متعلق رسول ﷺ کے اقدامات

معاشی و تعلیمی حقوق

وراثت میں حصہ

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اسلامی قانون میں واضح کیا کہ وراثت میں ایک حصہ عورت کا بھی ہے۔ جب کہ اس سے قبل عورت کو وراثت کا حق دار نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اس سے قبل عورت (بیوی) کو شوہر کا ترکہ سمجھا جاتا اور جائیداد کی طرح عورت بھی شوہر کے رشتہ داروں میں کسی کے حصہ میں آ جاتیں۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورت کو خاوند کی جائیداد کی بجائے خاوند کی جائیداد میں سے ایک حصہ کا وارث قرار دیا۔اگر عورت بیٹی ہے تو اسے باپ کی وراثت کا وارث قرار دیا۔ اگر ماں ہے تو اسے بیٹے کی وراثت میں سے حصہ ملے گا۔یہ احسان بس اسلام نے ہی عورت پہ کیا۔

تعلیم و  کسبِ معاش کا حق

حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے خواتین کو  تعلیم حاصل کر نے اور اپنی مرضی کا پیشہ اختیار کرنے کا حق دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے تعلیم کو ہر مسلمان مردو عورت پہ فرض قرار دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے بارہا عورتوں کو تعلیم دینے کی تلقین کی۔ یہ تلقین صرف آزادو خود مختار یا اونچی ذات کی خواتین کے لیے نہیں کی گئی بلکہ یہی حکم آپﷺ نے کنیزوں کے بارے میں بھی دیا۔ چنانچہ حضرت ابو موسی شعریٰ سے روایت ہے کہ

"حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس کوئی کنیز ہو اور وہ اسے اچھا ادب سکھائے، پھر اسے آزاد کر  کے اس سے نکاح کر لے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے۔اسی طرح  جو غلام اللہ  کا اور اپنے آقا کا حق ادا کرے اس کے لیے بھی دوہرا اجر ہے "۔

اس حدیث سے  نہ صرفنہ صرف یہ کہ اسلام میں کنیزوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی اہمیت اور آزاد و غلام کی برابری کا  پتا چلتا ہے بلکہ تعلیم  کی فرضیت کا پہلو بھی نمایا ں ہوتا ہے ۔اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ کا  لکھنا پڑھنا سیکھنے کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ام المومنین حضرت عائشہ نہ صرفنہ صرف خود پڑھنا لکھنا جانتیں تھیں بلکہ ان کی اہمیت ایک معلمہ کے طور پہ بھی جانی جاتی تھی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورت کو اپنی مرضی کاپیشہ اختیار کرنے کی اجازت دی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی یہ اجازت بس دوسروں کی بیویوں تک محدود نا تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اپنی ازواج کو بھی کام کرنے سے منع نہ کرتے تھے۔حضرت عائشہ کے علاوہ اور بہت سی صحابیات  جیسے  ربعی بنت معوذ، عائشہ بنت  سعد بن ابی وقاص ، سیدہ فاطمہ بنت  قیس نامور معلمہ تھیں جو مردو خواتین دونوں کو تعلیم دیا کرتیں ۔ کچھ صحابی خواتین شاعری کا پیشہ اختیار کیے ہوئے تھیں جن میں حضرت خنساء،سودہ، صفیہ، عاتکہ اور ام ایمن مشہور ہیں۔ ایسے ہی کچھ صحابیات نے طب اور سرجری کے میدان میں اپنے ہنر دکھائے جن میں  حضرت رفاضہ اسلمیہ، ام عطاع، ام کبغہ، حمنہ بنت حجش ، ام عطیہ اور ام سلیم  شامل تھیں۔کچھ خواتین کھیتی باڑی کے پیشہ سے منسلک تھیں تو کچھ صحابیا ت فنِ دباغت یا دست کاری میں ماہر ہونے کے ساتھ اپنا پیشہ بنائے ہوئے تھیں۔ کچھ خواتین جیسے ام المومنین حضرت خدیجہ، حضرت خولہ اور حضرت ثقافیہ وغیرہ تجارت کا  پیشہ اپنائے ہوئے تھیں ۔

معاشرتی حقوق

حائضہ سے سلوک

حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم سے قبل عورتوں کو وقتِ حیض  گھر سے باہر نکال دیا جاتا اور حیض ختم ہونے تک انھیں گھر میں رہنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ جب کہ ایسے گھرانے جو معزز سمجھے جاتے تھے وہ اپنی عورتوں کو گھروں سے تو نہ نکالتے مگر ان کے ساتھ اچھوت سا رویہ اختیار کر لیتے کہ حیض کے دنوں میں عورت نہ تو کنگھی  (اپنی اور دوسروں)کر سکتی نہ گھر کی کسی چیز کو ہاتھ لگا سکتی تھی، نہ کھانا پکا سکتی حتیٰ کہ عبادت کے الفاظ تک سننے سے اسے منع کر دیا جاتا۔ اگر کوئی عورت حالتِ حیض میں عبادت کرنے والے کے پاس سے گزرتی یا الفاظ سن لیتی تو اس سے سخت سلوک کیا جاتا۔مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اس قبیح رسم کو ختم کیا اور باور کروایا کہ ان دنوں عورت ہر کام کر سکتی ہے چاہے وہ گھر کا ہو یا خاوند کا۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ:

"حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر مبارک مسجد سے باہر میرے حجرے کی طرف بڑھا دیتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے سر مبارک کو دھو دیتی  تھی حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی "۔

اسی طرح حضرت عائشہ حیض کے دوران تلاوت سننے کے بارے میں فرماتیں ہیں:

"جن دنوں مجھے حیض آ رہا ہوتا تھا ایسی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم میری گود کا تکیہ لگا کر قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے "۔

 حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اپنے عمل سے اس بات کی تعلیم دی کے دورانِ حیض عورت پلید نہیں ہو جاتی نہ ہی اچھوت ہو جاتی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے نہ تو دورانِ حیض اپنی بیویوں کو گھروں سے نکالا نہ ہی کام کاج سے روکا، نہ ہی برتن علیحدہ کیے اور نہ ہی انھیں خود کو چھونے سے روکا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے مدتِ حیض میں صرف حقِ زوجیت ادا کرنے سے روکا وہ بھی عورتوں کی بھلائی کے لیے کیونکہ حیض بذات خود تکلیف دہ  ہے ۔ 

زندہ رہنے کا حق

حضور ﷺ سے پہلے لڑکیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ لوگ پید ا ہوتے ہی لڑکیوں کو زندہ دفنا دیتے یا قتل کر دیتے اور ایسا کرنے میں کوئی عار محسوس کرنے کی بجائے فخر محسوس کرتے۔ مگر حضور ﷺ نے  معاشرے کو احساس دلایا کہ لڑکے کی طرح  لڑکی  بھی معاشرے کی ایک فرد ہے اس لیے اسے بھی زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔حضورﷺ نے لڑکیوں کو قتل کرنا یا دفنانے سے بس منع ہی نہیں کیا بلکہ  اسے گناہِ عظیم قرار دیا تا کہ لوگ ایسا کرنے سے بعض رہیں۔ 

عائلی حقوق

خلع  کا حق

حضور ﷺ نے عورت کو خلع کا حق دیا۔ اس کے مطابق اگر ایک عورت سمجھے کے  خاوند کے ساتھ اس کا گزارا ممکن نہیں تو وہ اس سے خلع لے سکتی ہے۔

اپنی پسند سے شادی کا حق

 حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورتوں کے مقام کو بلند کر کہ انھیں یہ حق  بھی تفویض کیا کہ   وہ بالغ ہے تو نکاح کے لیے لڑکے کی طرح اسے بھی مرضی ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے ۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے خواتین کی فطرتِ حیا کو مدِ نظر رکھتے ہوئے  فرمایا کہ کنورای لڑکی کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی سمجھی جائے۔ بالغ ہونے سے پہلے نکاح کیا جائے تو لڑکی کے ولی یا  اس کے باپ کا لڑکی کی طرف سے رضامند ہونا ضروری ہے  مگر ساتھ ہی خواتین کو یہ حق بھی دیا  کہ اگر بالغ ہونے پر وہ اس نکاح کو رکھنا چاہیں  تو رکھیں ورنہ رد کر دیں۔ یہی ردِ نکاح کا حق ان خواتین کو بھی دیا گیا جن کے نکاح ان کے والدین زبردستی کروا دیں۔

"حضرت خنسا بنت خدام کا نکاح ان کے والد نے کسی شخص سے کر دیا حالانکہ  وہ بالغ تھیں۔ ان کو یہ نکاح نا پسند ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے نکاح فسخ کروا دیا "۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے خواتین   کوحقِ تخییر (نکاح رکھنا یا فسخ کر دیا) عطا کر کے انھیں مردوں کے برابر کھڑا کر دیا جو کہ عرب معاشرے میں بذات خود ایک عجیب فیصلہ تھا کہ وہاں لڑکیوں اور خواتین کو بھیڑ بکریوں کی طرح سمجھا جاتا اور ان کی زندگی کا ہر فیصلہ ان کے وارث کرتے چاہے وہ فیصلہ لڑکی کے میل جول کا ہوتا، کھیل کود کا یا نکاح جیسے عظیم رشتے کا مگر کہیں بھی عورت کو کوئی مقام نہ دیا جاتا کہ وہ اپنی رائے دے سکے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے نکاح  کی پسند کا حق دے کر یہ واضح کر دیا کہ خواتین بھی مردوں کی طرح انسان ہیں اور انھیں بھی اسلامی حدود میں رہتے ہوئے ہر طرح سے اپنی مرضی کرنے کا حق حاصل ہے۔

عورت کے لیے خاندان کے فرد کی حیثیت سے حقوق

بیوی کے حقوق 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے ازواجی رشتہ میں بیوی کو بھی مقام دلایا  جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم سے پہلے بیوی کو ایک غلام سے زیادہ اہمیت حاصل نہ تھی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے انھیں  لونڈی سے بیوی کا درجہ دلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا:

"یاد رکھو! تم میں سے بہتر وہ  لوگ ہیں جو اپنی عورتوں (بیویوں ) کے لیے بہتر ہے"

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی حدیث کے ساتھ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے عمل کو دیکھا جائے تو وہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے قول کا عکس ہی ملے گا جیسا کہ حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

"حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم جب گھر میں ہوتے تو اپنے اہل خانہ کے کام کاج کیا کرتےتھے۔اپنی گھر والیوں کی خدمت کیا کرتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کی طرف چلے جاتے "۔

اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عمل کر کے دکھایا کہ بیوی کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹانے میں کوئی عار نہیں بلکہ مل جل کر کام کرنا ہی بہتر ہے۔بعض دفعہ حضو ر صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  کو کبھی کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو بیویوں سے مشورہ کر کے ان پہ عمل بھی کرتے اس عمل سے لوگوں کی اس بات کی نفی ہوتی ہے کہ عورت جاہل اور ناکارہ دماغ کی ہوتی ہے۔ 

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کیا کرتے  اور انھیں اس بات کا حق بھی دے رکھا تھا کہ وہ اپنے حقوق  لینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم سے مطالبہ بھی کر سکتیں ہیں۔یہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کبھی سفر پہ جاتے تو بیوی کو ساتھ لے کر جاتے اور اگر کبھی کوئی دعوت پہ بلاتا تو تب تک دعوت قبول نہ کرتے جب تک میزبان آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی بیوی کو بھی دعوت میں نہ بلا لیتا ۔ ایسا آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اس لیے کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  یہ پسند نہ کرتے کے آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم خود تو دعوت کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی بیوی بھوکی رہے۔آپ  صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے  ہر شوہر کو حکم فرمایا کہ:

"(اپنے ساتھ) اپنی بیوی کو بھی کھلائے جب خود کھائے۔اسی طرح جب تو خود لباس پہنے تو (بیوی کا جوڑا سلوا کر) اسے بھی پہنائے"(ابوداؤد: کتاب النکاح)

قبل اسلام جب عورت خصوصاً بیوی کو مارنا شوہر اپنا فرض سمجھتے تھے ایسے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اپنی تعلیم  و عمل سے عورت کو اس  تشدد سے بچا لیا اور مردوں کو اس معاملے میں خصوصی ہدایات دیں اور یہ بات واضح کی کہ عورت پہ ہاتھ اٹھانا یا انھیں معاشی طور پہ تنگ کرنا یا انھیں گھٹیا چیزیں دینا اور خود اچھی چیزیں استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔  ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

"جن لوگوں نے اپنی بیویوں کو مارا ہے وہ  تم میں سے بہتر انسان/لوگ نہیں ہیں "۔

اس طرح اپنے طرزِ عمل سے حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے بیوی و عورت کے بارے میں ہر نفی بات کی نفی کر کے انھیں تمام حقوق دے کر معاشرے میں خاص مقام سے نوازا۔

ظہار کی ممانعت

حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے ظہار جیسی قبیح رسم کو  ختم کر کے خواتین کو ذہنی سکون مہیا کیا۔ ظہار میں ایک شخص اپنی بیوی کو بڑھاپے میں اپنی محرمات  کے مشابہ قرار دے دیتا ہے جیسا کہ بیوی کو کہتا  کہ تم  میرے لیےمیری ماں کی طرح ہو اور اس سے ماں کا سا سلوک کرنے لگتا۔اس طرح میاں بیوی کے رشتے  میں علیحدگی ہو جاتی ۔ مگرایک ایسی عورت جو ساری زندگی و جوانی میں ایک شخص کی بیوی رہی ہو بڑھاپے میں اپنے ہی خاوند کی ماں بننے سے عورت کے دماغ پہ منفی اثرات مرتب  ہوتے اور وہ مسلسل اذیت کا شکار رہتی۔اس لیے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اس رسم کو اللہ کے حکم سے ممنوع قرار دیا ۔اس رسم کی ایک مثال ہم یہاں  بیان کرتے ہیں:

"حضرت خولہ جو کہ مشہور صحابی اوس بن صامت کی بیوی تھیں ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی کہ میں نے اپنی ساری جوانی اپنے شوہر کی نذر کر دی ۔ شوہر اور اس کے بچوں کے لیے خود کو مٹا دیا، اب بڑھاپے میں وہ مجھ سے ظہار کے ذریعے علیحدگی چاہتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور حضرت اوس کو اس کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا "۔

ماں کے حقوق

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  نے ماں کے طور پہ بھی عورت کو  بلند مقام و رتبہ سے نوازا۔ یہاں تک کہ اللہ کے پیار کو عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے بھی  ماں کے پیار کی مثال  پیش کی ۔اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے متعدد بار ماں کی خدمت وعزت کرنے کی تلقین کی۔ حضرت ابو سلامہ سے روایت ہے کہ

"آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور دریافت کیا میں کس سے نیکی کروں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے تین بار فرمایا: میں ہر شخص کو اس کی ماں کے ساتھ نیکی و حسنِ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔چوتھی بار فرمایا: "میں ہر شخص کو اس کے باپ سے نیکی و حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں"۔ (ابن ماجہ-کتاب الاداب)

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  حضرت ام ایمن (جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی غلام تھیں اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کو پالا تھا) کو صرف ماں کہہ کر پکارتےاور ان کی عزت و اکرام کرتے۔اگر کبھی وہ سخت بول جاتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم مسکرا دیتے۔ یہاں تک کہ وہ پانی مانگتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم بغیر پس و پیش کے خوشی سے پانی پلاتے۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم زوجہ ابو طالب حضرت فاطمہ کو بھی" میری ماں" کہہ کر پکارتے ،ان کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے، ان کا ہاتھ بٹاتے اور  ان کے لیے  اللہ کے حضوردعائیں کرتے ۔یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم ان کی قبر میں اترے اور نمازِ جنازہ بھی خود پڑھا کر قبر کی کشادگی کے لیےدعا کی۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے عورت کو ماں کے طور پہ وہ مقام دلایا جو شاید ہی کسی مذہب میں دلایا گیا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  ماں کے رشتہ داروں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے کا ارشاد فرماتے۔ حضرت عبداللہ بن عمراس سلسلے میں روایت  کرتے ہیں

"ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: 

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم میں نے ایک بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا ہے ۔ کیا کوئی توبہ کی صورت ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا:

کیا تیری ماں زندہ ہے؟

اس نے کہا 

جی نہیں

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا:

کیا تیری کوئی خالہ ہے؟

اس نے کہا

جی ہاں

آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے فرمایا

جا اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کر (تیرا گناہ معاف ہو جائے گا)"۔ 

اس  حدیث سے ظاہڑ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم نے ضیعف و کمزور عورت کو جسے معاشرے میں بوجھ سمجھا جاتا تھا  ایسا قابلِ تکریم بنا دیا کہ اس کی مثال نہیں ملتی کہ ماں نہ ہو تو خالہ سے حسنِ سلوک کرنے سے  بھی رب کی رحمت حاصل ہو سکتی ہے اور توبہ قبول ہونے کی صورت نکل آتی ہے۔

بیٹیوں کے حقوق 

حضور صلی  اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے اور ان کا اتنا اکرام کرتے کہ انھیں اپنی جگہ پہ بٹھا دیتے۔ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ

"حضرت فاطمہ جب اپنے اباجان کے گھر آتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اٹھ کھڑے ہوتے۔ حضرت فاطمہ کی طرف بڑھتے ۔ بیٹی کا ہاتھ تھام کر بوسہ لیتے اور اپنی جگہ پہ بٹھاتے "

یہ ایک عملی طور پہ نمونہ تھا جو آپﷺ نے اہلِ عرب  کہ سامنے رکھا تا کہ بیٹیوں سے محبت و عزت کا سلوک کیا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم اپنی نواسی کو نماز کے دوران اٹھائے رکھتے تا کہ  عرب لوگوں کے دل میں بیٹیوں کے لیے مقام پیدا ہو اور وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم  کی اتباع   میں اپنی بیٹیوں کے ناز نخرے اٹھائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم   نے مزید ترغیب دینے کے لیے فرمایا:

"جس کے پاس بیٹیاں ہوں اور اسے ان کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ۔اس نے ان بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو وہ بیٹیاں جہنم کی آگ کے سامنے حجاب بن جائیں گی"۔(صحیح مسلم)

آپ ﷺ کی اسی قولی و فعلی تربیت کا اثر ہے کہ وہی بیٹیاں جن کی پیدائش پہ لوگ افسوس کرتے ،کچھ انھیں پیدا ہوتے ہی دفن کر دیتے، خود کو مجرم خیال کرتے کہ ان کہ گھر بیٹی پیدا ہوئی ہے وہی لوگ بیٹیوں کو اللہ کی رحمت اور ان کی پیدائش خود کے لیے اعزاز سمجھنے لگے۔

عورتوں کو قابل محبت سمجھنا

حضور ﷺ نے  عورتوں کو نہ صرف یہ کہ انسانیت کا درجہ دلایا بلکہ آپﷺ وقتا فوقتا خواتین سے محبت کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔

• اس سے قبل زہد و تقویٰ کی علامت یہ تھی کہ بندہ عورتوں سے دور رہے، شادی نہ کرے ان سے نفرت کرے اور انھیں منحوس جانے۔ آپ نے انھیں قابل احترام اور محبت کے قابل قرار دیا۔

• آپﷺ نے فرمایا مجھے دنیا کی چیزوں میں سے عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے۔

• نکاح میری سنت ہے جس نے میری سنت سے روگردانی کی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔

• تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں (بیوی) کے لیے بہتر ہے۔

• جس کی بیٹیاں ہوں اور وہ ان سے حسن سلوک کرے وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔


از:  عدیلہ کوکب 

(یہ مضمون مصنفہ کی کتاب "حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے درخشاں پہلو " سے لیا گیا ہے)۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں