کُچھ عرصہ پہلے میں نے تیراکی سیکھنے کے لیئے ایک سوئمنگ کلب کا رُخ کیا۔ جہاں کے سوئمنگ انسٹرکٹر ایک اولمپیئن رہ چکے ہیں۔ پہلی ملاقات میں جب میں نے انہیں بتایا کہ مُجھے تیرنا بالکل نہیں آتا۔ تو ان کا سوال تھا ، کیا آپ کو ڈوبنا آتا ہے ؟
مُجھے یہ سوال عجیب بھی لگا اور طنزیہ بھی۔ مگر چونکہ وہ اُستاد تھے لہذا میں نے اپنی اندرونی کیفیت چھپاتے ہوئے مُسکرا کر جواب دیا کہ۔ بھلا ڈوبنا بھی آنا چاہیئے ؟ ۔ جسے تیرنا نہیں آتا، وہ تو خودبخود ہی ڈوب جائے گا۔
میرا جواب اور انداز دیکھ کر وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ زندگی ہو یا پانی ، دونوں میں ڈوبنا یا تیرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔
مگر ، ابھی آپ کو اس بات کی سمجھ نہیں آئے گی۔ جب تک آپ اس کا عملی تجربہ نہ کرلیں۔
خیر اگلے دن سے سوئمنگ پول میں اُتر کر عملی ٹریننگ کا آغاز ہوگیا۔ پہلے دن کا سبق یہ تھا کہ ابھی چند دن پانی سے صرف کھیلنا ہے اور دوستی کرنی ہے۔ جس کی پہلی علامت یہ ہے کہ آپ کو پانی سے زیادہ وقت تک دور رہنے پر پانی سے اداسی محسوس ہونے لگے۔
چند دنوں میں یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا۔ اب مجھے شدت سے ڈوبنے کا انتظار تھا۔ اگلے ہی دن انسٹرکٹرصاحب نے یہ موقع بھی فراہم کردیا۔
پانی سے کھیلنا اور ڈُبکیاں لگانا تو چند دن میں آہی گیا تھا۔ اب ڈوبنے کے لیئے انہوں نے پتھر کا ایک ٹکڑا تقریبا" 6 فٹ گہرے پانی میں پھینک کر اسے اوپر لانے کے لیئے کہا۔ لیکن میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب بےحد کوشش کے باوجود بھی میں پانی میں ڈوب کر تہہ میں پڑے ہوئے پتھر تک پہنچنے میں ناکام رہا۔ میں جتنا زور لگا کر پانی میں ڈوبنے کی کوشش کرتا، پانی اتنے ہی ردعمل کے ساتھ مجھے اوپر اچھال دیتا۔
یہ دیکھ کر میرے انسٹرکٹر میرے پاس آئے اور مسکراتے ہوئے پوچھا۔ جی جناب ، تو کیا آپ کو ڈوبنے میں کامیابی ہوئی ؟
میں نے اپنی حیرت چھپائے بغیر اعتراف کیا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں صرف 6 فٹ نیچے تہہ تک کیوں نہیں پہنچ پا رہا۔
یہ سن کر وہ بولے کہ میں نے کہا تھا نا کہ زندگی ہو یا پانی، انسان ڈوبتا اپنی مرضی ہی سے ہے۔ اور اس کے ڈوبنے کی وجہ صرف ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے۔ لیکن آپ چونکہ ڈوبنے کا خوف نکال کر خود پانی کی تہہ تک جانا چاہ رہے تھے ۔ اس لیئے پانی نے اپنی فطرت کے مطابق زندگی کو ڈوبنے نہیں دیا۔ خوفزدہ انسان اس لیئے ڈوبتا ہے کیونکہ اس کا خوف اسے مرنے سے پہلے ہی مار چکا ہوتا ہے۔
خیر اس کے بعد میں نے پہلے پانی میں ڈوبنا سیکھا، جس کے بعد تیرنا بہت آسان ہوتا گیا۔ تیراکی سیکھتے ہوئے مجھے زندگی کو بھی ایک نئے زاویئے سے دیکھنے کا موقع ملا کہ زندگی میں انسان کی ناکامیوں کی بنیادی وجہ اس کا ناکام ہونے کا خوف ہے۔ یہ خوف دور ہوجائے تو انسان خود بخود جینے اور کامیاب ہونے کے طریقے اور تکنیک سیکھنے لگتا ہے۔ جو اس کی کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ڈُوبنے نہیں دیتے۔
مسلسل سیکھتے رہنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ جہاں انسان نے سیکھنا چھوڑ دیا اس کا سفر وہیں ختم ہوگیا۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں