بچوں میں اخلاقیات کیسے پیدا کریں؟

اپنے اردگرد دیکھیں، ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی جنگ زدہ دنیا میں رہتے ہیں۔ سیاست دان ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالتے اور مغلظات تک بکتے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی طاقت ملنے کے بعد انسان کے اندر کی خباثت کھل کر باہر آ گئی ہے اور اس ابلاغی ذرائع نے پڑھے لکھے افراد کے اذہان کی بھی عکاسی کردی ہے۔ مختلف رائے رکھنے والے کا احترام تو کجا انہیں غیر مہذبانہ لہجے میں مخاطب کرنا اور ان کے دلائل کا تمسخر اُڑانا اب سوشل میڈیا پر عام دکھائی دیتا ہے۔ جب ’’بڑوں‘‘ کا یہ حال ہو، تو ایسے میں چھوٹے بچوں کو کس طرح اچھے اخلاق کی جانب لایا جائے؟بچوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ کینہ پرور نہیں ہوتے۔لڑ جھگڑ کر بھی انہی کے ساتھ کھیلتے ہیں، یعنی دل میں کوئی بات نہیں رکھتے۔ ان اچھی خوبیوں کو کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے جبکہ اردگرد یہ حالات ہوں؟ انفرادی سطح پر مثبت باہمی تعلقات اور ایک اچھے معاشرے کے قیام کے لیے فرد کے اخلاق اچھے اخلاق کا ہونا بہت ضروری ہے۔ بچپن ہی سے ان کی تربیت میں اگر اخلاقیات کا بیج بو دیا جائے، تو یہ معاشرے کے لیے ایک اچھا فرد ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچوں کو طویل لیکچرز دیے جائیں۔ والدین کی حیثیت سے آپ جس قدر یہ کام غیر محسوس انداز سے کریں گے۔ آپ بچے کو اتنا تہذیب یافتہ دیکھیں گے۔

 آئیے ،آپ کو کچھ طریقے بتاتے ہیں:

1۔ نظر رکھیں اس کا مطلب ہے ،آپ اپنی ذات سے باہر نکل کر دیکھیں اور بچے کی بھی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ بھی ایسا کرے۔ جیسا کہ پارک میں دیکھیں کہ کون سا بچہ اکیلا کھیل رہا ہے، اس کے ساتھ کھیلیں۔ انہیں لوگوں کے جذبات کا مشاہدہ کرنے اور انہیں سمجھنے میں مدد دیں۔ مثال کے طور پر چہرے کے تاثرات کو سمجھنے کے لیے آئینے کا استعمال کریں اور پھر ہر احساس کے بارے میں بات کریں۔ اس سے بچے کو اندازہ ہوگا کہ کس وقت کون اداسی محسوس کر رہا ہے۔ کون خوفزدہ ہے اور یوں وہ آگے بڑھ کر اپنی مدد پیش کر سکتا ہے۔

2۔ برداشت اوررضامندیبچے فطری طور پر تجسس رکھتے ہیں اور اختلافات کا مشاہدہ کرتے ہیں، لیکن یہ جان رکھیں کہ اس معاملے میں وہ والدین کی نقش قدم پر ہی چلتے ہیں: اس لیے جب آپ اور آپ کا بچہ کوئی ایسی چیز دیکھیں ،جو واضح طور پر آپ سے مختلف ہو جیسا کہ معذوری یا عمر یا کوئی بھی ایسی نمایاں علامت، تو بچے کے سامنے عام رویہ اختیار کریں اور بتائیں کہ اس فرق کو قبول کریں اور سمجھیں۔ اللہ نے سب انسانوں کو برابر پیدا کیا ہے اور تمام انسان ایک ہی باپ یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اگر آپ کا بچہ اس حوالے سے کچھ سوالات کرے ،تو اسے جھڑکنے یا غصہ سے دیکھنے کی بجائے نرمی سے جواب دیں تاکہ وہ انسانیت کا احترام کرنا سیکھے۔

3۔ ادب آداب سکھائیں بسا اوقات معمولی معمولی باتیں بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ’’براہ مہربانی‘‘ اور ’’شکریہ ‘‘ کہنا سکھائیں اور کسی بھی کام سے قبل اجازت لینا بھی۔ یہ ایک مہذب گھرانے کی تربیت کی علامت ہوتا ہے اور چاہے آپ کا بچہ کہیں بھی ہو، اس کے اپنے اور گھر کے بارے میں بھی اردگرد ایک مثبت تاثر پڑتا ہے۔

4۔ معاشرے کے لیے کارآمدچھوٹی عمر میں ہی بچوں کو معاشرے کے لیے کارآمد بنانے کی کوشش کریں۔ چھوٹے موٹے کام جنہیں آسانی سے کیا جا سکتا ہو، وہ بچوں کے اندر کامیابی اور فخر کی حس بیدار کرتے ہیں اور ان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ معاشرے کے دیگر افراد کے کام آنا ایک ضروری، اہم، اچھا اور احسن کام ہے۔ جیسا کہ سینڈوچز بنا کر اسے کسی مقامی یتیم خانے میں تقسیم کرنا۔ اپنے کھلونے یا وہ کپڑے جو اب نہیں پہنے جاتے، کسی ادارے کو عطیہ کر دینا۔ کسی پکنک کے دوران ساحل کی صفائی بھی ایک اچھی مشق ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے بہت سارے کام کیے جا سکتے ہیں، جو بچے کے اندر یہ شعور اجاگر کرتے ہیں کہ ایک اچھے شہری کو کیا کچھ کرنا چاہیے اور اس کا معاشرے کو کیا فائدہ ہے۔

از:  زرتاشیہ میر


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں