اردوکا پروفیسر اور بلبل

 اردو کےایک پروفیسر سے میں نے  پوچھا: سر!  بلبل مذکر ہے یا مؤنث؟

 پروفیسر : (مسکرا کر)  ” میاں! بلبل مذکر ہے۔"

اس واقعے کے کچھ روز بعد ایک شام میرے دروازے پر دستک ہوئی ۔دیکھا کہ پروفیسر صاحب کھڑے ہیں. 

میں :  پروفیسر صاحب خیریت تو ہے اس وقت آپ میرے غریب خانے پر ؟ 

پروفیسر صاحب :  ” میاں! آج مرزا غالب کا ایک مصرع نظر سے گزرا

بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں۔

 اصلاح فرما لیں کہ غالب کے اس مصرع کی رو سے بلبل مؤنث ہے. جبکہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ بلبل مذکر ہے۔ 

 سٹپٹاکر میں نے کہا پروفیسر صاحب ! شکریہ ۔

 چند روز  بعد ، پرفیسر پھر گھر آ پہنچے ، فرمانے لگے ، “میاں ، غالب کے مصرع کی رو سے تو بلبل مؤنث تھی، لیکن اقبال نے لکھا ہے کہ

" ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا"

 اگر اقبال کی بات مانیں تو  بلبل  مذکر ہے۔ 

ایک ہفتہ بعد رات کے تقریبا دو بجے پروفیسر صاحب گدھے پر ڈھیر ساری کتابیں لادے ہوئے پھر سے آگئے۔

میں: خیریت تو ہے پروفیسر صاحب ! 

پروفیسر صاحب : (فاتحانہ انداز میں  مسکراتے ہوئے ) " میاں ! بلبل کے مذکر یا مونث ہونے کے بارے میں نے ان تمام کتب سے  استفادہ کیاہے۔  گدھے کے دائیں طرف رکھی ہوئی کتب کے مطابق  بلبل مذکر ہے جبکہ بائیں جانب والی کتابوں کی رو سے بلبل مؤنث ہے۔ تشفی نہ ہو تو ناچیز کو یاد فرمالیجیے گا۔

 تب میری سمجھ میں آیا کہ اردو کے اساتذہ کی لوگ قدر کیوں نہیں کرتے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں