ایک شخص نائی کی دوکان بال اور داڑھی بنوانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ہوتا ہے نائی اور گاہک کے درمیان گفتگو شروع ہوگئی۔ بات جب اللّٰہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا؛
’’مجھے تو(نعوذباللہ) اللّٰہ کے وجود پر یقین ہی نہیں ہے.‘‘
گاہک نے پوچھا کہ وہ کیوں ❓
نائی نے کہا؛ ’’اِس کے لئے باہر سڑک پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اِتنے لوگ بیمار ہوتے ❓ اِتنی اولادیں یتیم ہوتیں ❓ دنیا میں اِتنا رنج و غم ہوتا ❓ مجھے یقین ہے کہ اگر رحیم و کریم اللّٰہ کا وجود ہوتا تو وہ ہرگز اِس کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا اتنے مسائل سے بھرا ہو۔‘‘
گاہک نے کچھ دیر سوچا لیکن اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ویسے بھی وہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
نائی نے اُس کے بال اور داڑھی بنائے اور وہ پیسے دے کر دکان سے باہر نکل آیا۔ اُسی وقت اُس کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کے بال اور داڑھی لمبے اور بے ترتیب تھے اور لگ رہا تھا کہ بہت عرصہ وہ نہایا بھی نہیں ہے۔
گاہک واپس دکان میں داخل ہوا اور نائی سے کہنے لگا؛
’’جانتے ہو کیا ❓ میرے خیال میں دنیا میں نائیوں کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔‘‘
نائی نے کہا کہ کیسی بات کر رہے ہو۔ میں نائی ہوں اور تمہارے سامنے موجود ہوں، ابھی ابھی تمہاری داڑھی اور بالوں کی حجامت کی ہے۔
’’میں نے کہا نا کہ کوئی وجود نہیں ہے نائیوں کا، اگر ہوتا تو ایسے لوگ ہرگز نظر نہ آتے جیسا میں نے ابھی ابھی تمہاری دکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا ہے، لمبے اور الجھے بالوں اور داڑھی کے ساتھ۔‘‘
’’نہیں جناب نائی تو موجود ہیں اب اگر ایسے لوگ ہمارے پاس نہ آئیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں ❓‘‘
’’بالکل یہی بات ہے۔ اللّٰہ بھی ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے، اب اگر لوگ اُسے نہ ڈھونڈیں، اُس سے رابطہ نہ کریں اور سچّے دل سے اُس کی پیروی اور اطاعت کر کے اُس سے نہ مانگیں تو یہ اللّٰہ کا تو نعوذ باللہ قصور نہیں ہےنا ۔‘‘






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں