مسلمان خاتون کی عظیم ایجاد

 ایک ہزار سال پرانا "کمپیوٹر"۔۔۔ مسلمان خاتون سائنس دان اور ماہرِ فلکیات کی عظیم ایجاد

کیا آپ یہ حیران کن حقیقت جانتے ہیں کہ (کمپاس) GPS سسٹم ایک مسلمان سائنس دان بلکہ ایک مسلم خاتون سائنسدان نے ایجاد کیا ہے

اس عظیم مسلمان خاتون کا نام مریم ہے۔ یہ دسویں صدی عیسوی یعنی ہزار سال پہلے کوشیار الجیلی کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ماہر فلکیاتی سائنسدان تھے۔

انہوں نے سیف الدولہ کے دربار میں بطور سائنس دان 944 سے لیکر 967 تک 23 سال کام کیا۔ مریم نے ایک قسم کا آلہ ایجاد کیا جسے اصطرلاب کہا جاتا تھا۔ اسی نسبت سے ان کا نام ہمیشہ کے لیے مریم اصطرلابی مشہور ہوگیا

اسی اصطرلاب کے ذریعہ البیرونی نے زمین کا قُطر معلوم کیا تھا۔ اصطرلاب ایک قسم کا آسمانی آلہ ہے۔ اہلِ عرب اسے ذات الصفائح کہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ سے ایک جگہ سے آسمان کا نقشہ بنایا جاتا ھے۔ جس کی وجہ سے اس آلے سے آسمانی مقامات کو تلاش کرنا آسان ہوتا ہے۔ اسے آپ اس دور کا آسمانی کمپیوٹر کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اصطرلاب کے ذریعے سے خلائی اجسام مثلا چاند, سورج اور ستاروں اور وقت کا تعین کیا جاتا ھے

اصطرلاب کے ذریعہ سے دن اور رات کے اوقات کا اندازہ لگایا جاتا ھے اور معلوم کیا جا سکتا ھے کہ رات کتنی طویل ہوگی اور دن کتنا بڑا ہوگا۔ اسی اصطرلاب کے ذریعہ سے وقت و جگہ اور درست سمت کا تعین کیا جاتا ھے۔ اور اسی کے اصولوں کے مطابق آج GPS کام کرتے ہیں 

اصطرلاب پرانے زمانے کے GPS تھے۔ آج کل GPS کی اہمیت سے کون واقف نہیں ہے۔ دنیا بھر کا نظام اسی کے ذریعہ چلایا جاتا ہے۔ موبائل, سیٹلائٹ وغیرہ اسی کی مرہونِ منت ہیں۔ سیٹلائٹ لفظ بھی عربی زبان کے لفظ ساتل سے بنا ہے جس کا معنی ہے ایک دائرے میں گھومنا کے ہیں کیونکہ سیٹلائٹ ایک مدار میں گھومتا ہے اسی لیے ساتل سے سیٹلائٹ بنایا گیا۔ یہ GPS دو طرح کے ہوتے ہیں:

۔ ایک جیب میں رکھا جاتا ہے 

۔ دوسرا دو گز لمبا ہوتا ھے

اس کے ذریعے سے نمازوں کے اوقات, روزے میں سحری و افطاری کے اوقات, رمضان کے کتنے روزے ہوں گے, ایامِ حج کی معلومات, قبلہ کی درست سمت کی معلومات اور عیدوں کے دن پہلے سے متعین کیے جا سکتے ہیں۔ مزید یہ سمندری و خشکی کے راستوں کی درست نمائندگی کرتا ہے

ایسی لا جواب ڈیوائس, ایک کمپیوٹر, ایک کمپاس, ایک GPS مسلمان آج سے ایک ہزار سال پہلے ایجاد کر کے استعمال کرتے تھے

1990 میں ایک امریکی ماہر فلکیات، ہنری ای ہالٹ نے  Main asteroid belt دریافت کی تو مریم اصطرلابی کے اعزاز میں اس کا نام مریم کے نام پہ رکھا گیا

2015 میں امریکی سائنس فکشن مصنفہ نیڈی اوکورافور نے مریم کے اصطرلاب پر ایک ناول Binti لکھا۔ اس ناول پر اس نے نیبولا ایوارڈ سمیت دنیا بھر سے ادبی انعامات جیتے اور سائنسی ادب کا سب سے بڑا انعام بھی حاصل کیا تھا!

اگر آج دنیا میں کوئی ایسی قوم ہے جس نے اپنے آباء و اجداد کی تعلیمات بھلا دیں اور ان کے نام کو خاک میں ملا دیا تو وہ ہم مسلمان ہیں

اتنی عظیم ایجادات کرنے والے آباء کی اولاد ہوکر در بدر مارے مارے دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔۔۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس امت کی آبیاری میں صرف مردوں کا نہیں بلکہ خواتین کا بھی کثیر حصہ شامل ہے۔ مسلم خواتین نے مکمل آزادی اور اعتماد کے ساتھ اپنے پوٹینشل کی ہر فیلڈ میں خدمات انجام دیں۔۔۔ فاعتبروا یا اولی الابصار

منقول از سید ثمر احمد

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں