دنیا کی پہلی نرس

 انہیں دنیا کی پہلی نرس بھی کہا جاتا ہے۔ مگر یہ تو یقینی ہے کہ وہ اسلام کی پہلی نرس اور سرجن تھیں۔ علمِ جراحت (سرجری) اور زخمیوں کے علاج میں جو مقام ان کا تھا، وہ کسی اور صحابی یا صحابیہ کا نہیں تھا۔ یہ تھیں حضرت رُفَیدَہ السَّلْمِیَہؓ

بنی اسلم قبیلے میں پیدا ہونے والی اس خاتون نے رسولﷺ کا مدینے پہنچنے پہ استقبال کیا۔ ان کے والد سعد اَسَّلمی ایک سرجن تھے۔ رفیدہ نے وہیں سے ابتدائی مینٹورنگ لی اور ان ہی کے زیرِ نگرانی ابتدائی کلینیکل پریکٹس کی۔ وہ ایک مہربان اور قابل معالج کے طور پہ مشہور تھیں۔ وہ بچوں کی کنسلٹنٹ بھی تھیں اور یتیم بچوں کی خبر گیری بھی کرتیں۔ ایک بہترین منتظم جس نے میڈیکل کمانڈ یونٹس قائم کیے جو مریضوں کو صحت کی طرف لاتے

دلچسپ یہ بھی کہ انہوں نے مزید خواتین کو بھی معالج اور نرس بنایا۔ اس فیلڈ میں ان کی شاگرد پیغمبرﷺ کی بیوی عائشہ بنت ابی بکر بھی تھیں۔ جناب عائشہ ایک طبیب بھی تھیں

رُفیدہؓ نے دنیا کا پہلا موبائل کئیر یونٹ بھی قائم کیا۔ وہ جنگوں میں اپنے گروپ کے ساتھ جاتیں۔ زخمیوں کی دیکھ بھال اور علاج کرتیں۔ حضورﷺ ان کی بہت تعریف کرتے۔ انہوں نے خندق اور خیبر سمیت کئی جنگوں میں حصہ لیا۔ جنگِ خندق میں ان کا خیمہ مسجد نبوی میں لگایا گیا تھا۔ حافظ ابنِ حجر عسقلانی نے "الاصابہ فی تمییز الصحابہ" میں لکھا ہے کہ مشہور صحابی سعد بن معازؓ کو زخمی حالات میں بہتے لہو کے ساتھ رُفیدہ ہی کے خیمے میں بھجوایا گیا تھا

آئر لینڈ کا رائل کالج آف سرجنز، یونورسٹی آف بحرین میں ہر سال ایک اسٹوڈنٹ کو Rufaida Al-Salmia Prize in Nursing سے نوازتا ہے۔ یہ اس اسٹوڈنٹ کو دیا جاتا جو مریضوں کی کئیر کرنے میں اپنی صلاحیت کو مسلسل امپروو کرتا رہتا ہے۔ اس کا فیصلہ سینئیر کلینیکل سٹاف ممبرز کا ایک پینل کرتا ہے

تو دوستو؛ یہ ہے کھلا، حیا دار اور مضبوط فطری مدنی معاشرہ۔ اور دوسری طرف ہے گلا پھاڑ نعرے لگاتا جذباتی کھوکھلا، بند ذہن والا برصغیری معاشرہ۔ جس نے احتیاط اور فتنے کےخوف کی بنیاد پہ خالق سے زیادہ عقل مند بننے کی کوشش کی۔ وہ خیانت تک بھی دکھائی کہ ان قصوں اور تاریخ کو بیان کرنے سے اجتناب کیا کہ عورت گم راہ نہ ہو جاۓ، فتنہ نہ پھیل جاۓ۔ یہاں تک کہ لوگوں کے ذہن میں عورت کی تصویر چار دیواری میں قید، شٹل کاک برقعوں میں لپٹی لپٹائی، ڈری سہمی بچے پیدا کرنے والی مشین کے طور پہ رہ گئی۔۔۔ اٹھو اس فرسودہ نظامِ کُہن سے بغاوت کر دو۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ پہ غیر متزلزل اعتماد عام کر دو

منقول از سید ثمر احمد

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں