2020 میں گوگل ڈوڈل ایک مسلم خاتون کو Dedicate کیا گیا۔ نام تھا ان کا ڈاکٹر اَلِایدرِیسِیَہ۔ خواتین میں طبی حوالے سے گویا بانی خاتون۔ مسلمانوں کے دورِ عروج میں ترقی یافتہ، آزاد، مضبوط اور ذہین خواتین کی ایک نشانی
آج سے ایک ہزار سال پہلے اَلِایدرِیسِیَہ قاہرہ میں رہتی تھیں۔ وہ عظیم ترین فزیشن اور سرجن تھیں۔ انہوں نے اس دور میں ایک نہایت جامع میڈیکل انسائیکلوپیڈیا لکھا تھا۔ جس میں اناٹومی، گائناکالوجی، جراحی، فارماکولوجی کی تفصیلی معلومات کو سمو دیا گیا تھا۔ ٹیکسٹ کا نام تھا "کتابُ المُختَارَات فی الطِّب" مطلب کہ Book of selected medicinal remedies
مصر میں اُس وقت فاطمی خلافت تھی جو آرٹ، ادب اور علوم کی پُشتی بانی کر رہی تھی۔ اَلِایدرِیسِیَہ کا کام اتنا شان دار تھا کہ آج بھی ماہر ترین حلقوں میں اس کی بازگشت ہے اور خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے
ابنُ الندیم کی قیمتی کتاب "الفہرست" میں جب کہ شیخ محمد بن یوسف متولی شعراوی کی "تاجُ العروس" میں بھی اس انسائیکلوپیڈیا کا تذکرہ ملتا ہے۔ تاجُ العُروس اس دور کی قابلِ ذکر خواتین کے تذکروں پہ مشتمل مشہور کتاب تھی۔ اس میں اَلِایدرِیسِیَہ کا تعارف کروایا گیا کہ یہ بہت باصلاحیت معالج اور لکھاری ہیں جنہوں نے انسائیکلوپیڈیا لکھا جسے بڑے پیمانے پہ میڈیکل پروفیشنلز میں پـڑھا جاتا ہے
۔۔۔ اس سیریز میں دیکھنا اور سمجھنا یہ ہے کہ برصغیر کی ویدانتی فکر سے باہر آجائیں۔ مسلمان خاتون کو گھر میں قید کر کے مت مار دینے کی روایت زوال میں عروج کو پہنچی اور اس پہ گھڑی ہوئی یا کمزور یا من پسند تشریحات کو مسلط کیا گیا۔ ان کو مقدس بنانے اور "سوال دب جائیں" کے لیے مصنوعی مذہبی غلط رنگ دیا گیا۔۔۔ قرآن و سنت و آثار کی روشن نشانیوں کے باوجود ذاتی مزاجوں پہ یہ جرات بھی کی گئی کہ خواتین کا لکھنا پڑھنا یہود و نصاریٰ کا طریقہ اور ہزار فتنہ فساد کا دروازہ ہے لہذا حرام ہے
یوں %50 آبادی پسماندہ رہ گئی۔ نہ گھر سنبھال کے مجاہد مثبت مہذب خاندان اور نسل بنانے کے قابل رہی، نہ ہی معاشرے میں کوئی کارہاۓ نمایاں انجام دینے کے
منقول از سید ثمر احمد






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں