حضرت سالم بن عبداللہ

 خلیفہ سلیمان بن عبدالملک بن مروان بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا- اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی- جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا- مگر وہ لباس سے مسکین لگ رہا تھا- خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا، یہ نوجوان کون ھے۔ تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ھے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا پوتا ھے۔

خلیفہ سلیمان کو دھچکا لگا۔ اور اُس نے اِس نوجوان کو بلا بھیجا-

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے پوچھا کہ بیٹا میں تمہارے دادا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا بڑا مداح ھوں۔ مجھے تمہاری یہ حالت دیکھ کر بڑا دکھ ہوا ھے۔ مجھے خوشی ہو گی اگر میں تمھارے کچھ کام آسکوں ۔ تم اپنی ضرورت بیان کرو۔ جو مانگو گے تمہیں دیا جائے گا-

نوجوان نےجواب دیا، اے امیر المومنین! میں اس وقت اللہ کے گھر بیتُ اللّٰہ میں ھوں اور مجھے شرم آتی ھے کہ اللہ کے گھر میں بیٹھ کر کسی اور سے کچھ مانگوں۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نے اس کے پُرمتانت چہرے پر نظر دوڑائی اور خاموش ہو گیا۔

خلیفہ نے اپنے غلام سے کہا  کہ یہ نوجوان جیسے ہی عبادت سے فارغ ھو کر بیتُ اللّٰہ سے باہر آئے، اسے میرے پاس لے کر آنا-

سالم بن عبداللہؓ بن عمرؓ جیسے ہی فارغ ھو کر حرمِ کعبہ سے باہر نکلے تو غلام نے اُن سے کہا کہ امیر المؤمنین نے آپکو یاد کیا ھے۔

سالم بن عبداللہؓ خلیفہ کے پاس پہنچے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک نےکہا، 

نوجوان! اب تو تم بیتُ اللّٰہ میں نہیں ھو، اب اپنی حاجت بیان کرو۔ میرا دل چاہتا ھے کہ میں تمہاری کچھ مدد کروں۔

سالم بن عبداللہؓ نےکہا، 

اے امیرالمؤمنین! آپ میری کونسی ضرورت پوری کر سکتے ہیں، دنیاوی یا آخرت کی؟

امیرالمؤمنین نےجواب دیا، 

 میری دسترس میں تو دنیاوی مال و متاع ہی ھے۔ سالم بن عبداللہؓ نے جواب دیا- امیر المؤمنین! دنیا تو میں نے کبھی اللّٰہ سے بھی نہیں مانگی۔ جو اس دنیا کا مالکِ کُل ھے۔ آپ سے کیا مانگوں گا۔ میری ضرورت اور پریشانی تو صرف آخرت کے حوالے سے ھے۔ اگر اس سلسلے میں آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں ؟

خلیفہ حیران و ششدر ہو کر رہ گیا-

اور کہنے لگا- کہ نوجوان یہ تُو نہیں، تیرا خون بول رہا ھے۔

خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کو حیران اور ششدر چھوڑ کر سالم بن عبداللہؓ علیہ رحمہ وہاں سے نکلے اور حرم سے ملحقہ گلی میں داخل ہوئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

یوں ایک نوجوان حاکمِ وقت کو آخرت کی تیاری کا بہت اچھا سبق دے گیا۔


حیات تابعین کے درخشاں پہلو ص 443-445

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں