رمضان المبارک، شخصیت سازی کا مہینہ

قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں سے اگرپوچھا جائے کہ تمہاری کوئی آرزو ہے ؟تو وہ جواب دیں گے :رمضان کا بس ایک دِن!! (علامہ ابن جوزی ؒ )

رحمتوں ، برکتوں اور پرنور لمحات سے معمور ایک مبارک مہینہ شروع ہوچکا ہے اور یقینا اس وقت روئے زمین پر موجود اہل ایمان خوش قسمت ترین لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ عظیم مہینہ عطا کیا ہے ۔آپ ﷺ سے منسوب ایک دُعا کہ ’’اے اللہ ہمیںرجب اور شعبان میں برکت دے او ر ہمیں رمضان تک پہنچا ‘‘ سے بھی اس مہینے کی فضیلت اور بڑھ جاتی ہے ۔اس کے پہلے حصے کو رحمت ، دوسرے کو مغفرت اور تیسرے کو جہنم سے نجات کا عشرہ کہا گیا ہے ۔پہلے دس دِنوں میں اہل ایمان پر اللہ کی طرف سے خاص رحمت نازل ہوتی رہتی ہے ۔’’رحمتِ الٰہی‘‘ ا س کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے اور ہر وہ بندہ جس پراللہ کی رحمت برس رہی ہوتو پھر اس کی پریشانیاں ، فکریں اور مسائل کہاں رہ سکتے ہیں!!نتیجتاً یہ رحمت اس کے لیے رزق ، صحت اور فراخی کے دروازے کھول دیتی ہے ۔

اہل ایمان جب اس مبارک مہینے کے دوسرے عشرے میں داخل ہوتے ہیں وہاں ایک اور انعام ان کا منتظر ہوتاہے ۔’’ مغفرت الٰہی‘‘ کی بدولت ان کے وہ گناہ دھل جاتے ہیں جو سارا سال ان سے شعوری یا لا شعوری طورپرسرزد ہوئے ہوتے ہیں ۔یوں جب اس ماہِ مقدس کے بیس دِن گزرجاتے ہیں تو مومنین کو اللہ کی رحمت مکمل طورپر اپنی لپیٹ میں لے چکی ہوتی ہے اور انہیں معاف بھی کیا جاچکا ہوتا ہے ۔تیسرے عشرے میں داخل ہوکر رب تعالیٰ کی طرف سے ایک اور عظیم الشان انعام ملتا ہے کہ اہل ایمان کو جہنم کی آگ سے نجات دِلا دی جاتی ہے۔ یہ وہ زبردست انعام ہے جس کی دُعا ہر پیغمبر اورہر ولی نے مانگی ہے اور اہل ایمان کو بھی مانگنے کی تاکید کی گئی ہے۔اسی عشرے میں ایک اور رات لیلۃ القدر کی ہے جس کو ہزار راتوں سے بہتر رات کہا گیاہے اور جس میں مانگی گئی ہر دُعا قبول کی جاتی ہے۔ا س رات کی عبادت کوپورے سال کی نفلی عبادت سے بہترقرار دیا گیا ہے۔یہ وہ رات ہے جس کو پانے کے لیے اہل ایمان کئی راتوں کو شب بیداری کرتے ہیں اور اگر کسی کویہ رات مل جائے تووہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتاہے۔

رمضان ہے تو انتیس ، تیس دِنوں کا مہینہ لیکن اس کے ایک ایک پل میں رحمتوں و عنایات کی بارش بر س رہی ہوتی ہے ۔یہ مہینہ جہاں انسانوں کے لیے ثواب اور درجات کی بلندی کا پیغام لاتا ہے وہیں یہ شخصیت سازی(Personality Grooming) کا بھی ایک سنہری موقع ہے۔

رمضان میں ہماری شخصیت سازی کیسے ہوتی ہے،آئیے ایک نظر اس پر دوڑاتے ہیں:

1.    خود پر کنٹرول

رمضان کا اصل مقصد انسان کے اندر دو طرح کی قوتوں کو مضبوط کرنا ہے ۔ایک روحانی قوت، جس کی وجہ سے وہ گناہوں سے بچ سکے اور دوسری جسمانی قوت جس کی بدولت وہ کھانے پینے کی اشیاء سے گریز کرسکے۔رمضان کے مہینے کو مکمل آداب کے ساتھ گزارنے سے انسان کی یہ دونوں قوتیں مضبوط ہوجاتی ہیں۔آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ دنیا میں جتنے بھی بڑے انسان گزرے ہیں ان کے اندریہ خاصیت پائی جاتی تھی کہ وہ خود پر کنٹرول کرنا جانتے تھے اور اسی صفت کی بدولت وہ کامیابی کی معراج پر پہنچے۔

2.    خود شناسی

ایک تحقیق کے مطابق انسان اپنی زندگی میں ہر طرح کے مسائل برداشت کرسکتا ہے لیکن بنیادی ضروریات(کھانے پینے) پرکوئی سمجھوتا نہیں کرسکتا۔روزہ ، اللہ کا وہ حکم ہے جس میں اہل ایمان اپنی بنیادی ضرورت کو چھوڑ دیتے ہیں اور جب انسان قربانی کے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے توپھر اللہ اس کو یہ انعام بھی دیتا ہے کہ وہ خود کو جان جاتا ہے ۔وہ خود شناس بن جاتا ہے۔

3.    Capacity building

رمضان کے روزے رکھنے سے انسان کے اندر صبر وتحمل کا مادہ بڑھ جاتا ہے اور یہ چیز اس کے اندر اعلیٰ ظرفی پیدا کرتی ہے ۔اعلیٰ ظرف انسان زندگی کی مشکلات یا دوسروں کی دی گئی تکالیف کو بڑی آسانی کے ساتھ سہہ جاتا ہے ۔اعلیٰ ظرفی کی یہ خوبی اس کو دوسروں سے ممتاز بنادیتی ہے۔

4.    سرنڈرکرنا

رمضان ہمیں سرنڈر کرنا سکھاتا ہے ۔انسان کے سامنے لذیذ کھانا اور خوش ذائقہ مشروبات پڑے ہوتے ہیں لیکن وہ پھر بھی انہیں ہاتھ نہیں لگا رہا ہوتا۔یہ اس بات کا علان ہوتا ہے کہ میں اپنے رب کے حکم کا پابند ہوں اور اس کے سامنے سرنڈر کرتا ہوں ۔اس کا میرے لیے جو بھی حکم ہوگا وہ مجھے سر آنکھوں پر قبول ہوگا۔اللہ رب العزت کو اپنے بندوں کی عاجزی بہت پسند ہے اور اسی عاجزی کی بدولت وہ ان پر ترقیوں اور کامیابیوں کے دروازے کھولتا ہے ۔

5.     رویوں میں تبدیلی

رمضان ہمیں صبر و تحمل کا سبق دینے کے ساتھ ساتھ نرمی اور صلہ رحمی کا بھی بہترین موقع دیتا ہے ۔جب انسان اپنے رب کا حکم مان کر اس کے سامنے عاجزی اختیار کرلیتا ہے تو پھر مخلوق کے ساتھ بھی اس کار ویہ بہترین ہوجاتا ہے ۔رویے کی یہ تبدیلی دنیاوی زندگی میں اس کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔

6.    ٹریننگ

رمضان کا مہینہ مکمل طورپر تربیت اورٹریننگ کا مہینہ ہے جس میں انسان کو صبر وتحمل ، خود پر کنٹرول ، اپنے اعمال کااحتساب ، اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق ، رویے کی بہتری اور ٹائم مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ سخاوت اور صلہ رحمی کا سبق ملتاہے ۔جو بھی انسان ایک مہینے کی اس ٹریننگ کو اچھے طریقے سے مکمل کرلیتا ہے تو اس کے اگلے گیارہ مہینے بڑے شاندار طریقے سے گزرتے ہیں۔

بنیادی معمولات

(1)                        نماز

رمضان میں اپنی نمازوں کی روٹین کو درست کیاجائے ۔نماز کی روح کو سمجھاجائے اور جس طرح نماز کے دوران ہم خود کو اللہ کے سامنے کھڑا محسوس کرتے ہیں اور اپنے اندر بھرپور عاجزی لے آتے ہیں یہی کیفیت نماز کے باہر بھی رہنی چاہیے ۔اس مبارک مہینے میں تہجد کی پابندی کرنی چاہیے اوراپنے رب کے سامنے پیشانی ٹیک کر سجدوں کی حلاوت کو محسوس کرنا چاہیے ۔

(2)                        قرآن کی تلاو ت

رمضان میں قرآن کریم کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کریں۔ قرآن کو ترجمے کے ساتھ پڑھاجا ئے اوراس کے لیے باقاعدہ ایک ترتیب بنالی جائے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ جس کتاب کے ہم ماننے والے ہیں وہ ہم سے کیا چاہتی ہے ۔قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے انسان کو زندگی کا اصل مقصد سمجھ آجاتا ہے۔

(3)                         صلہ رحمی

رمضان میں ہمیں بھوکا رکھ کر ایک طرح سے یہ سبق دیا جاتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد ان لوگوں کا بھی احساس کریں جو رمضان کے بغیر بھی بھوکے ہوتے ہیں ۔ اس مہینے میں خاص طورپر ایسے سفید پوش لوگوں کی بھرپو ر مدد کی جائے جو مالی تنگی کا شکار ہیں۔رمضان المبارک صلہ رحمی کا ایک بہترین موقع ہے۔

رمضان اور ہماری کمزوریاں

(1)      بے تحاشا کھانا

گزشتہ دِنوں سوشل میڈیا پر ایک جملہ بہت مشہور ہواکہ ’’ہمارے لیے رمضان سب سے پہلے کھانے ، پھر کمانے اور آخر میں عبادت کا مہینہ ہے۔‘‘

دیکھا جائے تو یہ بات کسی حد تک ٹھیک ہے ۔رمضان میں ہماری توجہ کھانے پینے پر ہوتی ہے ۔دوکاندار زیادہ سے زیادہ کمانے کی فکر میں ہوتے ہیں او ر جب یہ دونوں چیزیں پوری ہوجاتی ہیں تو پھر آخر میں عبادت کی باری آتی ہے ، لیکن بدقسمتی سے اس وقت تک جسم کی انرجی ختم ہوچکی ہوتی ہے اور زیادہ کھانے کی وجہ سے دماغ پر بھی غنودگی چھائی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے عبادت میں کوئی لطف نہیں آتا۔

رمضان المبارک میں اکثر لوگ ضرورت سے زیادہ کھانے کا اہتمام کرتے ہیں اور پھر افطاری میں اس قدر کھالیتے ہیں جو کہ ان کی جسمانی ضرورت سے بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ بے تحاشا کھالینے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ روزے کا جو جسمانی فائدہ ملنا ہوتا ہے، وہ نہیں ملتا۔دوسرا نقصان یہ ہے کہ معدے پر اچانک ایک بڑا بوجھ پڑجاتا ہے اور اس کے لیے ہضم کرنا مشکل ہوجاتا ہے ۔آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ افطاری میں زیادہ کھالینے کے بعد لوگ بے سدھ لیٹ جاتے ہیں اور ان میں ہلنے کی سکت بھی نہیں ہوتی۔

سحری میں لوگ اس خیال سے زیادہ کھاتے اور پیتے ہیں تاکہ دن کے باقی حصے میں بھوک یا پیاس نہ لگے ۔یہ بھی محض ایک غلط فہمی ہے۔انسانی جسم کو ایک مقررہ مقدارمیں خوراک اورپانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔جب اس کو یہ مقدار مل جاتی ہے تومعدہ اس کو آسانی کے ساتھ ہضم کرلیتا ہے اوراس خوراک سے اچھی خاصی انرجی پیدا کرکے جسم کو بھی دے دیتا ہے جس کی بدولت انسان سارا دِن گزارسکتا ہے ۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معدے کا بالکل خالی ہونا ، اچھی صحت کے لیے نہایت اہم ہے لیکن بے تحاشا خوراک کی صورت میں وہ خالی نہیں رہتا۔جب خوراک ضرورت سے زیادہ ہوجاتی ہے تو پھر معدہ اس کو بغیر ہضم کیے آگے پاس کردیتا ہے اورپھریا تو انسان کوقے کی شکایت ہوتی یا پھر دست کی ۔خلاصہ یہ کہ ضرورت سے زیادہ خوراک فائدہ مند نہیں بلکہ انتہائی نقصان دہ ہے۔اس لیے رمضان المبارک میں کھانے پینے کے معمول کو کم رکھا جائے اور فرصت کا زیادہ وقت عبادت میں صرف کیا جائے۔

(2)      سستی اور کاہلی

رمضان میں ایک عادت یہ بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ روزے کو لوگ زیادہ سے زیادہ سوکر یاموبائل وغیرہ پر مصروف رہ کر گزارتے ہیں تاکہ افطاری تک کا وقت جلدی گزر جائے ۔یہ بھی ایک بڑی سستی ہے۔روزے کی حالت میں انسانی جسم میں اس قدرشدید کمزوری نہیں ہوتی کہ انسان کوئی کام ہی نہ کرے اور بس سوتا رہے ۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روزے کی حالت میں انسانی جسم توانائی پیدا کرتا رہتا ہے اور جب معدہ بالکل خالی ہوجاتا ہے تو وہ بدن کی مرمت میں لگ جاتا ہے اورزہریلی مادے ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ جسم کو نئی انرجی بھی دیتا ہے۔اس لیے روزے کی حالت میں بھی عام روٹین کی طرح کام کاج کرنا چاہیے اور فارغ وقت کو اس قدر بے دردی سے ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔

(3)      رات بھر جاگتے رہنا

ایک معمول یہ بھی بن جاتا ہے کہ اکثر لوگ ساری رات جاگتے رہتے ہیں ۔یا تو مل بیٹھ کر گپ شپ کرتے رہتے ہیں یا پھر موبائل لیپ ٹاپ وغیرہ پر مصروف ہوتے ہیں ۔ہمارے معاشرے میں اکثر لوگوں کا معمول یہ ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے کام ،دفتر یادوکان پر جاتے ہیں ۔ایسے میں رات بھر جاگنے کی روٹین بالکل بھی فائدہ مند نہیں کیونکہ اس سے اگلے دِن کے روزے پرفرق پڑے گا اور نیند کی کمی کی وجہ سے ہر وقت غنودگی طاری رہے گی۔

(4)شو آف کلچر

ہمارے معاشرے میں ایک رواج یہ بھی پایاجا تا ہے کہ روزہ رکھ لینے کے بعد ہر دوسرے شخص کے سامنے گرمی ، بھوک وغیرہ کی شدت کا اظہارکرکے یہ جتلایا جاتا ہے کہ آج میرا روزہ ہے ۔یہ بھی اپنا اجر ضائع کرنے والا کام ہے۔انسان کو جس سے محبت ہوتی ہے اس کی خاطر بڑی سے بڑی تکلیف کو بھی خندہ پیشانی سے سہتا ہے ۔روزہ اللہ کے لیے ہے اوروہی اس کا بہترین اجر دے گا ، اس لیے اس عادت سے بھی بچنا چاہیے۔

(قاسم علی شاہ)


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں