استادِ محترم :-- "برائی کیا ہے؟؟
شاگرد--: سر میں بتاتا ھوں مگر پہلے مجھے کچھ پوچھنا ہے-
"کیا ٹھنڈ کا وجود ہے ؟؟"
استادِ محترم :-- "ہاں"
شاگرد:-- "غلط" ٹھنڈ جیسی کوئی چیز نہیں ھوتی ، بلکہ یہ حرارت کی عدم دستیابی کا نام ہے
شاگرد نے دوبارہ پوچھا :--
"کیا اندھیرا ہوتا ہے ؟"
استادِ محترم :-- ہاں
شاگرد :-- نہیں سر " اندھیرا خود کچھ نہیں ہے بلکہ یہ روشنی کی غیر حاضری ہے ـ جسے ھم اندھیرا کہتے ہیں-
فزکس کے مطابق ھم روشنی اور حرارت کا مطالعہ تو کرسکتے ہیں مگر ٹھنڈ یا اندھیرے کا نہیں
سو برائی کا بھی کوئی وجود نہیں ہے ـ
یہ دراصل ایمان ،محبت اور اللہ پر پختہ یقین کی غیرموجودگی ہے ـ
جسے ھم برائی کہتے ہیں ـ
اور
یہ شاگرد " البیرونی " تھے ـ
یہ تو تھی وہ کفتگو جو استاد اور شاگرد کے درمیان ھوئی - اب آپ کو البیرونی سے متعلق دوسری تصویر میں جو عمارت ہے اسکے بارے میں بتاتے ہیں
یہ کھنڈر پنجاب کےضلع جہلم کے شہر پنڈ دادن خان میں واقع ہیں۔ یہ کھنڈر نہیں دسویں صدی کے مشہور سائنس دان “ ابوریحان البیرونی” کی لیبارٹری ہے،
جس میں بیٹھ کرانہوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا اندازہ لگایا
البیرونی کے مطابق :-- زمین کا قطر یعنی ڈایامیٹر 3928.77 کلو میٹر تھا
جبکہ ناسا کی موجودہ جدید ترین کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 کلومیٹر ہے۔
یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_
البیرونی محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انہیں یہ لیبارٹری بنا کر دی،
ہمارے تعلیمی انحتاط کا یہ عالم ہیے کہ آج اس عظیم عجوبہ کے اطراف چند چرواہے ھی نظر آتے ہیں،
البیرونی کی وفات 1050 میں افغانستان کے علاقے غزنی میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں ۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں