انسان کے اندر اللہ کی جانب سے عطا کردہ ایک ایسی صلاحیت ہوتی ہے، جُنون ہوتا ہے جو اُس انسان کی زندگی میں سُکون لانے کا سبب بنتا ہے۔ ایک سوال خود سے کریں کہ کون سا ایسا کام ہے جس کو کرنے سے آپ کے دل کو تسلی ملتی ہے۔ جس کو کرنے سے آپ اپنی ٹینشن بھول جاتے ہیں۔ کھانا، سونا، انٹرنیٹ اور موبائل کو نکال کر سوال کریں۔ جو جواب آئے وہ آپ کا خُفیہ ٹیلنٹ ہو گا۔
لیکن یہ سوال اور جواب اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ کئی غلط جوابات کے بعد صحیح جواب آتا ہے۔ بس اُس جواب کو کھوجنے کی جُستجو اور کسی اُستاد کی حوصلہ افزائی چاہیے ہوتی ہے۔ حوصلہ شکنی کو برداشت کرنا سب سے اہم اور مُشکل کام ہے۔ کئی لوگ اس حوصلہ شکنی سے مایوس ہو کر اپنا ٹیلنٹ ڈھونڈنا یا سُدھارنا بند کردیتے ہیں۔ پوشیدہ صلاحیت کی تلاش ایک صبر آزما اور مُشکل امر ہے۔ اس میں ناکامی بہت بار ہوتی ہے۔ کئی مُغالطے بھی ہوتے ہیں۔
فیض صاحب نے کیا خُوب کہا ہے
؎ تُم اپنی کرنی کر گُزرو جو ہوگا دیکھا جائے گا






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں