کاروبار کو کامیاب بنانے کے پانچ اہم اورسنہری اصول

میں نے زندگی میں بہت سے بالکل سادہ لوگوں کو دیکھا ہے، جن کے پاس کوئی بہت زیادہ تعلیم بھی نہیں تھی لیکن انہیں اپنے کاروبار کو بہت ہی خوبصورت طریقے سے چلاتے دیکھا ہے ۔ وہ بھلےکوئی چنے لگانے والا ہو، جوس بیچنے والا ہو یا کوئی مٹھائی بیچنے والا ہو، اپنے علاقے میں ان کا بڑا نام ہوتا ہے۔ لوگ کراچی سے لاہور آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ جی ہمیں فلاں جگہ کےبسکٹ لینے ہیں ، فلاں جگہ کی خطائی لینی ہے،فلاں جگہ کا حلوہ لینا ہے اور کبھی کبھی چھٹی کے دن کہ آج ہم نےفلاں جگہ پہ جا کر چنے کھانے ہیں۔

میں یہ سوچتا رہا کہ ان لوگوں کا یہ نام کیسےہوا ہے؟ کاروبار چھوٹا ہو سکتا ہے، بڑا ہو سکتا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ صرف بڑا کاروبار ہی اچھا ہوتا ہے۔ کاروبار کچھ بھی ہوسکتا ہے لیکن ہر کاروبار میں میں نے دیکھا ہے کہ لوگ کسی خاص دکان کو ترجیح دیتے ہیں،بھلےوہ چنے کی دکان ہو، حلوے کی دکان ہو، مٹھائی کی دکان ہو، شربت کی دکان ہو کوئی بھی چیز ہو حتیٰ کہ درزی ہو۔
یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ ان لوگوں نے اسی معاشرے میں رہتے ہوئے اپنےمقابلے والوں سے اچھا نام کمایا،لوگ سودُکانیں چھوڑ کر ان کی دکان پر جاتے ہیں۔( میں پھر یہی کہوں گا کاروبار چھوٹے اور بڑے ہو سکتے ہیں۔) پھر میں نے ان لوگوں کاجائزہ لینا شروع کیا ،اور بہت ہی گہرے طریقے سے میں نےان کا جائزہ لیا۔ ان کے پاس گیا ،کبھی بیٹھا رہا ،کبھی دیکھتا رہا،ان کےرویے کو دیکھا،ان کی باتوں کو سنا ،ان کے چہرے کی حرکات کو دیکھا،ان کے بات کرنے کے انداز کو، اپنے کاریگروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ ان میں بہت سی چیزیں عام سی ہیں، بہت ساری چیزیں مشترک نہیں ہے لیکن کچھ چیزیں خاص ہیں۔
جب میں نے وہ خاص چیزوں کو ڈھونڈنا شروع کیا تو مجھے یہ پانچ چیزیں نظر آئیں۔ اور وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ میرامشاہدہ یہ ہے کہ کامیابی کے لیے ان پانچ چیزوں پر عمل کرنا بے حد مفید ہو سکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا ،کہ ان کے علاوہ آپ کسی چیز پرعمل نہ کریں لیکن میرے مشاہدے کے مطابق ج کامیابی کے لیےیہ پانچ بنیادی اجزاء ہیں ۔ ان کے بغیر دیرپا ترقی ممکن نہیں ہے۔اگر آپ ان پر عمل کریں تو یہ ممکن نہیں ہے کہ بازار میں لوگ آپ کو ترجیح نہ دیں ۔ میں یہ نہیں کہتایہ بات سو فیصد درست ہو سکتی ہے ، ہو بھی سکتا ہےلیکن میں نے جو مشاہدہ کیا تھاان میں یہ پانچ چیزیں ہیں۔
سادگی اور سادہ طرزِ زندگی
سب سے پہلی چیز جونظر آئی کہ وہ لوگ انتہائی سادہ تھے۔ ان کی زندگی میں، ان کے لباس میں، ان کےدفتر میں، ان کی چیزوں میں، ان کے اٹھنے بیٹھنے میں سادگی کاعنصر بہت ہی واضح اور نمایاں تھا۔
ایمانداری اور دیانت
دوسرا وصف جو میں نےدیکھا کہ وہ لوگ اپنے معاملات کے اندر انتہائی ایماندار تھے۔ اگر انہوں نے کسی کو کوئی چیز دینی ہے تو پھر یہ نہیں کرنا کہ بھئی اس میں سے چار پیسے بچتے ہیں تو ہم اس میں کم کر لیں۔ آپ کے لیے بھی یہ واقعہ دلچسپ ہو گا، اور میرے لیے بھی بہت دلچسپ ہے ۔اور اس واقعہ کی عمر کم از کم کوئی چالیس سال کے قریب تو ہو گی۔ لاہور شہر کے شمال میں ایک علاقہ ہے جسے ہم شمالی لاہور کہتے ہیں یہاں پر ایک چوک ناخدا ، میں وہاں پر گیا تو وہاں پر ایک دو دھ دہی کی دکان تھی۔ وہ آدمی ہاتھ سے دہی کو بلو کر لسی بنا کر بیچ رہا تھا، اور وہاں پر میرے سمیت کوئی بیس پچیس لوگ کھڑے تھے ۔ وہاں کھڑے کسی آدمی نے یہ بات کہی کہ “پہلوان جی این اے بندے کھڑےنیں، تسی کوئی مشین ای رکھ لوں”یہ بات دکان دار نے سنی اور میں نے بھی سنی۔ اب میں سوچ رہاتھا کہ جواب پتہ نہیں کیا ہوگا؟ وہ کیا کہے گا ؟کہ پیسے نہیں ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن جو اس نے جواب دیا وہ سونے سے لکھنے والا تھا۔
ان کا جواب اس کی دیانتداری کو ظاہر کرتا تھا جس کی بنیاد پر لوگ باقی دکانوں کو چھوڑ کر پچیس کی تعداد میں اس کےسامنے کھڑے تھے۔ اس نے کہا کہ’’ با ؤ جی اوکونے وچ مشین پئی جے۔ میں مشین نوں کوئی چار یا پنج دن ورتیا سی،اودے نال میں لسی بنا کے لوکاں نوں دتی۔ فیر میں ایک دن حساب لایا کہ کونڈے میرے اوہی سو لگ دے نیں۔ پہلے اگر مینوں کوئی پانچ ہزار روپے بچ دےسی ہن مینوں چھ ہزار کتہوں بچن لگ پئیے نیں، نہ میں ریٹ ودایا،نہ میں کونڈے ودائے، نہ میں دہی ودائی، اے پیسے زیادہ کیوں آن لگ پئیے نیں ؟ میں کچھ دن اس پریشانی وچ مبتلا ریا۔ فیر اک دن مینوں خیال آیا کہ اے جیڑی میری مشین لیائی اے نا، اے بوت تیزی نال دہی رِڑک دی اے۔ جیدی وجہ نال بوت ساری جھگ بن دی اے تے گاہک نوں مٹیریل کٹ جاندا اے تے جگ زیادہ جاندی اے۔ اے گل میں سوچ کے با ؤ جی او مشین کونے وچ رکھ دتی میں اپنے گاہک نوں جو میں سوچیا اے، جنا گاہک کو سودا چاہی دا اے میں اس توں کٹ نی دے سکدا”۔ یہ بات آج بھی مجھے یاد ہے۔
رحم دلی اور خدا ترسی
تیسری بات وہ لوگ رحم دل ہوتے ہیں ،وہ کبھی سختی نہیں کرتے، وہ سخاوت کرتے ہیں وہ اپنی دکان پر آنے والے کو جھڑکتے نہیں ہیں۔ جو ان کے بس میں ہوتا ہے اس کی وہ خدمت ضرور کرتے ہیں اور وہ نرمی برتتے ہیں ۔
کام میں مہارت
چوتھی چیز وہ اپنے کام میں ماہر ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کولسی نہ بنانی آتی ہو، چنے نہ بنانے آتے ہو، ٹائر نہ تبدیل کرنا آتاہویا شربت نہ بنانا آتاہو۔ وہ ایک انتہائی ماہرآدمی ہوتا ہے۔ لاہور کے اندر ایک صاحب گراٹو جلیبی بناتےہیں۔ آپ کسی وقت بھی شام کو چلے جائیں تو آپ رش کا ندازہ کر سکتے ہیں ۔ میں نے بیس بیس بندےلائن میں کھڑے ہوئے دیکھے ہیں۔ اور ہم بھی کبھی کبھی گراٹو جلیبیاں لاتے ہیں ، کئی سالوں سے لا رہےہیں۔ ایسا نہیں ہوا کہ آج سے پانچ سال پہلے جو چیز ہم لاتےتھے وہ اب نہیں ہے۔وہ اتنے ماہر ہیں کہ اپنے اجزاء کا خیال رکھتے ہیں، اپنے کام کا خیال رکھتے ہیں، اپنی پراڈکٹ کا بھی خیال رکھتے ہیں۔اگر وہ سمجھیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ بالکل کہہ دیتے ہیں کہ یہ چیز آپ کے معیار کی نہیں ہے، ہم آپ کو نہیں دے سکتے۔ میرے ساتھ بھی اس طرح کا واقعہ ہواہے۔
محنت اور مشقت کے عادی لوگ
پانچویں بات ، وہ محنتی لوگ ہوتے ہیں، وہ محنت سے جی نہیں چراتے ،وہ وقت پر دکانوں پہ آتے ہیں، وقت پر دکانیں کھولتے ہیں،کبھی گرمی وسردی کا بہانہ نہیں کرتے۔ پوری محنت کے ساتھ اپنی دکان پربیٹھتے ہیں ،پوری تندوہی کے ساتھ اپنا کام کرتے ہیں۔
یہ پانچ چیزیں میرے خیال کے اندر ہمیں بھولنی نہیں چاہیے۔ سادگی ،دیانتداری ،مہارت ،محنت اور رحمدلی۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کے بھروسے پر آپ نکلیں، اس سے پوری امید رکھیں اور ان پانچوں چیزوں کا آپ خیال رکھیں انشاءاللہ العزیز لوگ سو دکانیں چھوڑ کر آپ کی دکان پر آئیں گے۔ دکان چھوٹی ہو چاہے بڑی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
تعاون فاؤنڈیشن کا یہی ایک مقصد ہے ،کہ ہم وہ چیز جو خود اپنے لیے ٹھیک سمجھتے ہیں یاکہیں سے ہمیں ملتی ہے، تو ہم وہ بات آپ تک پہنچائیں۔ اب ہم آپ سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ نیکی پھیلانے سے کم نہیں ہوتی،آپ کے ثواب میں کمی نہیں آئے گی ، نہ میرے ثواب میں کمی آئے گی، انشاءاللہ۔یہ بڑھتا جائے گا اور وہ صدقہ جاریہ ہمارے لیے ہوگا اور قیامت کے روز ہماری بخشش کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے،
ڈاکٹر مشتاق مانگٹ

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں