زندگی ہر لمحہ سیکھنے اور آگے بڑھنے سے عبارت ہے۔ انسان ہر لمحہ خود کے تجربات پر بنیاد رکھتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ہر لمحہ اسے نئے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے مگر سابقہ تجربات سے رہنمائی اور کچھ نیا سیکھنے اور کرنے کی دُھن اسے کامیابیوں سے ہمکنار کرتی چلی جاتی ہے۔سیکھتے چلے جانا ترقی جبکہ سیکھنے سے رک جانا ترقی معکوس کی علامت ہے۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں یہ علم کی صدی ہے اور اس میں وہی فرد، گروہ یا قوم ترقی کرے گی جس کے پاس علم کی طاقت ہوگی۔ اور یہ طاقت ان کو حاصل ہوتی ہے جو سیکھنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ آخری دم تک سیکھنے اور خود پر احتسابی نظر ڈالنے والے لوگ انسانی عظمتوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور عظمت کے پیچھے مسلسل سیکھنے کی یہ جستجو بھٹی کا کام کرتی ہے جس سے یہ خام کندن بن جاتے ہیں۔
ذیل میں ہم کچھ اصولوں کا مطالعہ کرتے ہیں جن کو سیکھ کر کامیابی کی راہیں ہموار کی جا
سکتی ہیں:
بچے بن جائیں
اگر آپ زندگی میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو بچے بن
جائیں کیونکہ بڑے سیکھا نہیں کرتے۔ جب دماغوں میں بڑا پن آ جائے تو وہاں سے سیکھنا رخصت ہو جاتا ہے۔ بچے ہر چیزسے،
ہر اندازسے، ہر ایک سے، ہر جگہ اورہروقت کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ اگر کسی نے بچوں سے
کچھ سیکھنا ہے تو ایک نہایت اہم بات سیکھے اور وہ ہے ہر وقت سیکھنے میں مصروف
رہنا۔
مثبت ہو جائیں
ہمارے بیشر مسائل کی وجہ منفی ذہنیت ہے ۔ ہم لوگوں کی
خوبیوں کی بجائے خامیاں نوٹ کرتے ہیں، بہتری کی بجائے نقائص تلاش کرتے ہیں۔ منفی ذہنیت رکھنے والے لوگ
افراد، معاشرے، ملک اور حالات کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں ، ان کے منہ سے کوئی امید
بھرا جملہ سننے کو نہیں ملتا، انہیں ہرطرف اندھیرے نظر آتے ہیں، یہ مایوسیوں کے
پیامبر ہوتے ہیں ۔ مایوسیوں سے بچ کر مثبت سوچ پیدا کریں۔ امید جگائیں اور اپنے
حصے کی شمع جلائیں مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔
خواب دیکھیں
خواب انہی کے پورے ہوتے ہیں جو انہیں دیکھتے ہیں ۔ خواب
دیکھنا اس کی تعبیر پانے کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ خواب دیکھنے پہ نہ پابندی ہے نہ
کوئی ٹیکس، تو خواب کیوں نہیں دیکھتے۔ کچھ کرنے کے خواب، آگے بڑھنے کے خواب، اپنا
کل آج سے بہتر کرنے کے خواب۔ اگر زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں اور کوئی امید بر نہیں
آتی پھر بھی تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ، غم زندگی سے چھٹکارہ پانے میں کیا حرج ہے۔
جب ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ اسباب ہمارے لیے ہیں اور ہم انہیں تسخیر
کر سکتے ہیں تو پھر ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے
منتظر فردا نہیں رہتے بلکہ کچھ کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگتے ہیں ۔ جاگتی
آنکھوں سے دیکھے گئے ہمارے یہ خواب ہمارے لیے تازیانے کا کام کرتے ہیں اور ہماری
منزل کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
میں ایسے شخص کو زندوں میں
کیا شمار کروں
جو سوچتا بھی نہیں، خواب
دیکھتا بھی نہیں
عملی ہو جائیں
خواب سے اگلا مرحلہ خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ جو پڑھا اور
سیکھا ہے اسے عمل میں لائیے۔ مشہور کہاوت ہے کہ پہلے میں دنیا کو بدلنا چاہتا تھا
اور ناکام تھا، اب میں خود کو بدل رہا ہوں اور کامیاب ہوں۔ خوب سوچیں، مشاورت
کریں، منصوبہ بنائیں اور جت جائیں۔ عمل شروع کریں گے تو نتائج ملیں گے۔ یہ نتائج
موافق بھی ہو سکتے ہیں اور ناموافق بھی۔ اگر خدا نخواستہ ناموافق بھی ہوں گے تو
بھی آپ کو صحیح راستے کی طرف نشان دہی کریں گے۔
غیرروایتی ہو جائیں
لکیر کے فقیر مسائل حل کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں۔
روایتی سوچ رکھنے والے لوگ روز مرہ چیلنجز کا جواب دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ جو کچھ
نیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ روایتی نہیں غیر روایتی انداز سے جیتے ہیں۔ صاحب
ایجاد بننے کے لیے روایات سے کچھ ہٹ کر کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کے پیچھے چلنے کی
بجائے نئے افق تلاش کریں اور اپنی محنت اور لگن سے نیا زمانہ بلکہ نئے صبح و شام
پیدا کریں۔
مسکرائیں
مسکراہٹ اس چیز کی علامت نہیں ہے کہ مسکرانے والے کو مشکلات
کا سامنا نہیں ہے بلکہ یہ اس چیز کی علامت ہے کہ اسے مسائل حل کرنے کی صلاحیت حاصل
ہے۔مسکراہٹ مسائل کے حل کے لیے انسان کو تیار کرتی ہے اور کوئی پریشانی اعصاب پر
سوار نہیں ہونے دیتی۔ روتی شکلیں اور
سنجیدہ چہرے کسی کو پسند نہیں آتے ۔ دنیا کو مسکرا کر دیکھیں ہر طرف بہارآجائے گی
اور زندگی گلزار بن جائے گی۔
سیکھنے سکھانے کا سلسلہ زندگی کی آخری شام تک جاری رکھیں
اور لوگوں کے لیے ہمیشہ مفید بننے کی کوشش کریں ۔ دیانتدار بنیں، وقت کا ضیاع نہ
کریں ، اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنی زندگی کے ہر دن کو بھرپور طریقے سے جینے کی
کوشش کریں۔
از قلم:
مالک خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں