تعلیمی اداروں میں شجر کاری مہم


 انسانی زندگی کی بقاکے لیے درختوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ جنگلات کے کٹاؤ اور شجرکاری مہم کے نہ ہونے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی حد درجہ بڑھ چکی ہے جبکہ موسموں میں بھی شدت آ چکی ہے جو کہ گلوبل وارمنگ کے اثرات ہیں ۔ ہم سب کو مل کر اس سے ماحول کو بچانا ہے۔ملک میں بڑھتی آلودگی سے کوئی بھی خوش نہیں ہو گا مگر اس پر قابو پانے کے لیے ہم سب اپنی اپنی انفرادی سطح پر ایسے اقدامات ضرور کر سکتے ہیں جس سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی بلکہ ہم ابر ِرحمت سے بھی بروقت مستفید ہو سکیں گے۔ اس میں شجر کاری اور پودوں کی نگہداشت سر فہرست ہے۔ درختوں کی روز بروز بڑھتی کٹا ئی ایک لمحہ فکریہ ہے کیونکہ جس رفتار سےکٹائی ہو رہی ہے اس رفتار سے پیداوار بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم تو ان چند خوش نصیب  ممالک میں سے ہیں جن کے ہاں شجر کاری کا موسم ہر سال دو بار آتا ہے ‘ پہلا جنوری کے وسط سے مارچ کے وسط تک، اور دوسرا جولائی سے ستمبر کے وسط تک۔ مگر اس کے باوجود ہمارے ہاں اس سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔ اگر پودے لگائے بھی جاتے ہیں تو ان کی نگہبانی اور حفاظت کی جانب بالکل توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے وہ تناور درخت نہیں بن پاتے۔

ہم اپنے  تعلیمی اداروں میں شجر کاری مہم کا آغاز کر کے سرسبزپاکستان کے سفیر بن سکتے ہیں۔ یہی واحد علاج ہے گلوبل وارمنگ  اورگرین ہاؤس افیکٹ سمیت سیلابوں جیسے متعدد مسائل کا ۔ کیونکہ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں جس کا فضا میں بڑھتا ہوا تناسب گرین ہاؤس ایفکٹ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے ، اسی سے بتدریج گلوبل وارمنگ ہو رہی ہے۔ یقین جانیےصرف پودے لگا کر ہم بہت سے ماحولیاتی مسائل سے جان چھڑوا سکتے ہیں۔ پودوں اور درختوں کی وجہ سے بارشیں بھی بر وقت اور اچھے تناسب میں ہوتی ہیں۔جہاں ہمیں اس وقت شجر کاری سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہیں  بحثییت ذمہ دار شہری  ہمیں چاہیے کہ  اپنے تئیں اپنے تعلیمی ادارے اور  ارد گرد کا علاقہ سرسبزو شاداب بنائیں۔ اپنے اور آنے والی نسلوں کے لیے مناسب آکسیجن اور خوراک کا انتظام کریں۔ ورنہ تیزی سے گھٹتے ہوئے درختوں اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قدرتی نظام بالکل درہم برہم ہو جائے گا جس کی مثال متعدد جانداروں کی ناپید ہوتی متنوع اقسام اور فضائی آلودگی کی وجہ سے بڑھتے سانس کے امراض ہیں۔

شجر کاری کامقصد ماحولیاتی نظام میں درختوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور دنیا میں آکسیجن کی مقدار بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی حوصلہ افزائی کرناہے۔  شجر کاری وقت کی اہم ضرورت ہے اور آج ہم اس مہم میں جتنا فعال کردار ادا کریں گے۔ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل اتنا ہی محفوظ اور صحت مند ہو گا ۔

دورِ حاضر میں شجر کاری کی ضرورت و اہمیت سے ہر شخص واقف ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس جذبے کو ایک مہم کی شکل دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوکر اپنے شہر، محلے اور گلی کو سرسبز بنانے کےلیے شجرکاری کر سکیں۔

اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہم درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:

1)      شجرکاری مہم کو سکول کے اہم کام کے طور پر منظم انداز میں چلایا جائے۔

2)      تمام اساتذہ اور صدر معلم بچوں کو شجر کاری کے فوائد سے آگاہ کریں اور ہر بچے کو کم از کم ایک پودا لانے اور اپنے ہاتھ سے سکول میں لگانے کی سرگرمی دی جائے۔

3)      بچوں کو اپنے اپنے گھروں میں پودے لگانے کا کام تفویض کیا جائے۔

4)      شجر کاری مہم کی تشہیر کے لیے شجر کاری واک کا انعقاد کیا جائے۔

5)      مختلف فلیکس وغیرہ آویزاں کرکے شجر کاری کے فوائد سے اہل علاقہ کو آگاہی دی جائے۔

6)      شجر کاری مہم کے دوران لگائے جانے والے پودوں کی آب رسانی کا انتظام کیا جائے۔

7)      شجر کاری مہم کا سب سے اہم مرحلہ بجٹ مرتب کرنا ہے جس میں پودوں کی تعداد، ان کی ترسیل اور بینر وغیر ہ بنوانے پر آنے والے ممکنہ اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔اس مقصد کے لیے سب سے بہترین طریقہ "فنڈ ریزنگ"یعنی فنڈز کے ذریعے رقم اکٹھی کرنا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ نقد رقم کے بجائے ڈونرز سے درخواست کی جائے وہ پودے خرید کر دیں۔

8)      نوجوان رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دے کر ذمہ داریاں بانٹ دینی چاہئیں تاکہ تمام کام خوش اسلوبی سے مکمل ہوسکے۔

9)      سوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں اپنی مہم کی شیئرنگ سے آپ کو ڈونیشن کے علاوہ عملی کام کرنے کےلیے رضاکار بھی مل سکتے ہیں۔ بچوں کو بھی اس سرگرمی میں شامل کیا جائے کیوں کہ آپ کو دیکھ کر انہیں بھی تحریک حاصل ہوگی اور وہ مستقبل میں اس مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

10)  شجر کاری کا افتتاحی پودا لگانے کےلیے کسی اہم شخصیت کو مدعو کیا جاسکتا ہے جو ڈونر حضرات میں سے بھی کوئی ہوسکتا ہے۔

11)  شجر کاری مہم کی تکمیل کے بعد ایک سادہ تقریب کا اہتمام کیجیے جس میں بہترین رضاکاروں کو تعریفی سرٹیفکیٹس دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

12)  شجر کاری مہم کی جس قدر تشہیر کی جائے گی، اتنا ہی لوگ موٹیویٹ ہوں گے اور دیکھا دیکھی ہر گلی محلے میں شجر کاری مہم زور پکڑ جائے گی۔ اس مقصد کےلیے میڈیا کو بھی مدعو کیا جاسکتا ہے تاکہ ڈاکیومینٹری یا خبر کے ذریعے عام لوگوں کو شجر کاری کےلیے متحرک کیا جاسکے۔

13)   شجرکاری کرتے ہوئے متعلقہ علاقے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے درختوں کا انتخاب کیا جائے۔

درخت لگانا باعث اجر وثواب ہے ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس مسلمان شخص نے درخت لگایا اس کاپھل آدمیوں اورجانوروں نے کھایا اس کے لگانے والے کے لیے صدقہ کا ثواب ہے ۔لہذا درخت لگانے کی ترغیب اور کاٹنے کی ممانعت سے متعلق بھرپور مہم چلانےکی ضرورت  ہے ۔ آئیے مل کر زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں ۔ آئیے عہد کریں اس مثبت کام میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ پہلا قدم خود اٹھائیں اور اپنے تعلیمی اداروں میں درخت لگا کر اس نیک کام کا آغاز کریں۔حب الوطنی کا جذبہ دلوں میں جا گزیں کریں اور مل کر سرسبز اورخوشحال پاکستان بنائیں۔

 

از قلم:

مالک خان سیال

 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں