یوم پاکستان، تجدید عہد وفا کا دن

قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاصے دوررس اور تاریخ کا دھاوا موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ایک لمحہ مسلمانان برصغیر کی زندگی میں 23 مارچ 1940 ء کو آیا جب لاہور کے ایک وسیع و عرض میدان میں، جسے منٹو پارک کہا جاتا ہے، لاکھوں مسلمان اکٹھے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔

24 مارچ 1940 وہ عظیم دن ہے جب انگریز کی غلامی سے نجات پانے کے لیے قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔ اس قرار داد کی روشنی میں قائد اعظم محمد علی جناح نے خدا داد قابلیت، سیاسی فہم و فراست، عزم و جرات، یقین محکم اور عمل پیہم سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کا اضافہ کیا جو برصغیر کے مسلمانوں کی ایک اہم اور اشد ضرورت تھی۔

اس تاریخی جلسے اور قرارداد کو اس لیے بھی اہم مقام حاصل ہے کہ یہ ایک اجتماعی سوچ کا شاخسانہ تھی۔ اجتماعی طور پر تمام مسلمان ایک قوت اور ایک تحریک کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، قرار داد کی پیشی اور منظوری کے بعد مسلمان ایک نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ ایک روشن صبح کی جانب اپنا سفر شروع کرنے جا رہے تھے جس کی سربراہی تاریخ کے عظیم قائد محمد علی جناحؒ کر رہے تھے۔ یہ قائد اعظم ؒ کی سیاسی بصیرت و حالات کو دیکھتے ہوئے بہترین حکمت عملی اور خدائے بزرگ و برتر کا فضل و کرم تھا جس نے مسلمانوں کے لیے بروقت ایک آزاد، خود مختار مملکت خداداد پاکستان قائم کرنے میں حقیقی کردار ادا کیا تھا۔

پھر سے اسی قومی حمیت اور ملی غیرت کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائیں۔ آج 80 سال گزرنے کے بعد ایک بار پھر ہمیں اپنے اندر 23 مارچ 1940 ء کا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور تجدید عہد وفا کرتے ہوئے قرار داد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائد اعظم ؒ اور دیگر قومی رہنماؤں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہو گا۔ دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہو گا۔

دنیا کو دکھانا ہو گا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا۔ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کر کے دکھایا تھا۔ ہمیں قرار داد پاکستان کی روشنی میں مملکت خداداد پاکستان کو پروان چڑھانے کے لئے انفرادی و اجتماعی طور پر علامہ اقبال ؒ کا شاہین بننا ہو گا۔

یوم پاکستان کے دن ہمیں خود سے عہد کرنا ہو گا کہ:
1ہم پاکستان کو اپنے قائد اعظمؒ کے دیے ہوئے رہنما اصولوں کی روشنی میں چلائیں گے۔
2ہم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی، فلاحی جمہوری مملکت بنائیں گے۔

3ہم پاکستان کو غیروں کی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد کریں گے اور پر امن طریقوں سے اغیار کے غلام حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کریں گے۔

4ہم آپس کے اختلافات بھلا کر پہلے مسلمان، پاکستانی اور بعد میں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پٹھان ہونے کا عملی مظاہرہ کریں گے۔

5ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لیے جدوجہد کریں گے تا کہ وہ اپنے دین کی پیروی کرتے ہوئے باقی اقوام سے ترقی کی دوڑ میں بھی مسابقت کریں۔

اس دن کی یاد کو منانے اور نوجوانوں میں نظریہ پاکستان تازہ کرنے اور ان کے اذہان میں اس کو پیوستہ کرنے کے لیے سکولوں میں درج ذیل سرگرمیاں کی جا سکتی ہیں :

1تقریری مقابلہ: اس دن کی مناسبت سے سکول کی سطح پر یا کچھ سکول مل کر کوئی بڑا پروگرام کر سکتے ہیں جس میں تجدید وفا، یوم پاکستان، حب الوطنی وغیرہ عنوانات سے تقریری مقابلہ جات کروائے جائیں۔

2پاکستان کوئز: تحریک پاکستان، دو قومی نظریہ اور قیام پاکستان کے حوالے سے کوئز کا مقابلہ کروایا جائے۔

3نمائش تحریک پاکستان: تحریک پاکستان کے حوالے سے چارٹس، تصاویر و دیگر چیزوں سے نمائش لگائی جائے
4مقابلہ ملی و قومی نغمے : قومی اور ملی نغموں کا مقابلہ کروایا جائے

5ٹیبلوز یا خاکے : تحریک پاکستان سے کسی واقعہ کی ٹیبلو کروائی جائے۔ قائد اعظمؒ و دیگر تحریک پاکستان کے اکابرین کی ڈریسنگ بچوں کو کروا کر سٹیج پر دکھائی جائے۔

6خطاطی: قائدؒ کے اقوال اور اقبالؒ کے اشعار پر مشتمل خطاطی کا مقابلہ کروایا جائے۔
7اسٹال: یوم پاکستان کے حوالے سے سٹال لگائے جا سکتے ہیں۔

8مقابلہ پینٹنگ اور ڈرائنگ : طلبا کے مابین پینٹنگ اور ڈرائنگ کا مقابلہ کروایا جائے جس میں بچوں سے تحریک پاکستان کے تابندہ ستاروں کی تصویر بنانے کا کہا جائے۔

9یوم پاکستان کا پیغام : یوم پاکستان کا پیغام پھیلانے کے لیے آگاہی مہم چلائی جا سکتی ہے جس میں پوسٹر، سٹیکر، بلیک بورڈ اور وائٹ بورڈ کے ذریعے پیغامات طلبا تک پہنچائے جائیں۔

10 سیمینار: سکول میں یوم پاکستان کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا جائے۔
11 مضمون نویسی: مضمون نویسی کا مقابلہ کروایا جا سکتا ہے جس کا عنوان یوم پاکستان کی مناسبت سے ہو۔

12 سکول اسمبلی: صدر مدرس سکول اسمبلی میں یوم پاکستان پر روشنی ڈالے اور پاکستان کے قیام کی غرض و غایت بیان کرے۔

13 خراج عقیدت: مختلف شعرا کی لکھی گئی خوب صورت نظموں اور اشعار کی مدد سے تحریک پاکستان کے اکابرین کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔

14 آگاہی واک: یوم پاکستان واک کا اہتمام کیا جائے جس میں سب بچوں کو تحریک پاکستان کے اغراض و مقاصد سے آگاہی دی جائے۔

اللہ کرے یہ دن عام دنوں کی طرح آئے اور گزر نہ جائے بلکہ ہمیں کچھ کرنے اور کر گزرنے کا کم از کم ہمت و حوصلہ نصیب ہو جائے۔ اللہ کرے، اللہ کرے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں