کامن چیز

 ہاورڈ یونیورسٹی میں گزشتہ ساٹھ ستر سال کا ڈیٹا جمع کرکے ایک ریسرچ کی گئی۔۔۔جس کے مطابق ہاورڈ کے ٹاپ گریجویٹس کو فالو کیا گیا ان کی زندگیوں کا جائزہ لیا گیا۔

* ان سٹوڈنٹس میں سے دو تین امریکہ کے صدر بنے۔۔

*کچھ آسٹروناٹس بنے۔۔

* کچھ سائنس دان بنے ۔۔

*کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا۔۔

*ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو کنوکٹ ہوے اور جیلیں کاٹی۔۔۔

*کچھ نے خود کشیاں کی اور کچھ ایسے بھی تھے جو کہ آرٹسٹ بنے۔۔ 

ان تمام طلباء کی لائف کو سٹڈی کرکے دیکھا گیا کہ ان میں سے کون اپنی زندگی سے خوش تھا اور کون ناخوش تھا۔

تو آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ اس ساری اسٹڈی میں جو" سینس آف ویل بینگ" ہے۔

۔خوش اور مطمئن زندگی پانے والوں کا جب کرائٹیریا دیکھا گیا۔۔تو اس میں ایک چیز کامن تھی۔۔۔۔

وہ کامن چیز پیسہ نہیں تھا۔۔۔کوئی عہدہ بھی نہیں تھا۔۔۔کوئی ڈگری بھی نہیں تھی۔۔وہ بچوں کی تعداد یا بچوں کی کامیابی بھی نہیں تھی۔۔

وہ " کامن چیز " یہ تھی کہ جن لوگوں نے اپنے رشتے نبھاے۔۔جن کے اندر ریلیشن شپ ڈویلپ کرنے کی صلاحیت تھی۔۔وہ لوگ بہت خوش رہے۔۔جو لوگ رشتوں کو بنا سکے، رشتوں کو نبھا سکے۔۔آپسی معاملات میں کوئی تنازعہ آجاے تو اسکو برداشت کرسکے۔۔یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اعتماد کے ساتھ زندگی گزاری۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں