ابنِ جوزیؒ لکھتے ہیں کہ اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا ہوا تھا۔ دسترخوان خدا کی نعمتوں سے بھر ہوا تھا ۔ اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ خدا کے نام پر کچھ کھانے کے لیے دے دو ۔
فقیر اس رئیس کے دروازے پر کھڑا تھا ، اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ سارا دسترخوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو۔ بیوی نے اس کے حکم کی تعمیل کی ، جس وقت اس نے فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مار کر رونے لگی ۔
اس کے شوہر نے اس سے پوچھا ، ’’ جی بیگم ! آپ کو کیا ہوا ؟ ‘‘ ۔
بیوی نے بتایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ، وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار اور ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابق شوہر تھا ۔
چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دسترخوان پر ایسے ہی بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جیسا کہ آج کھا رہے ہیں ، اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ میں دو دن سے بھوکا ہوں ، خدا کے نام پر کھانا دے دو ۔ یہ شخص دسترخوان سے اُٹھا اور اس فقیر کی اس قدر پٹائی کی کہ اسے لہولہان کر دیا ۔ نہ جانے اس فقیر نے کیا بدعا دی کہ اس کے حالات بد سے بدتر ہوگئے ۔ سارا کاروبار ٹھپ ہوگیا اور وہ شخص فقیر و قلاش ہوگیا ۔ اس نے مجھے بھی طلاق دے دی ۔
اس کے چند سال گزرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئی ۔
شوہر بیوی کی یہ سب باتیں سن کر کہنے لگا ۔
بیگم ! کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات بتاؤ ؟
اس نے کہا ، ضرور بتائیں ۔
شوہر کہنے لگا ، جس فقیر کی آپ کے سابق شوہر نے پٹائی کی تھی ، وہ کوئی دوسر نہیں ، بلکہ میں ہی تھا ۔
گردش زمانہ کا یہ عجیب نظارہ تھا کہ حق تعالیٰ نے اس بدمست مالدار کی ہرچیز ، مال ، کوٹھی حتٰی کہ بیوی بھی چھین کر اس شخص کو دے دی ، جو فقیر بن کر اس کے گھر آیا تھا اور چند سال بعد پھر حق تعالیٰ اس شخص کو فقیر بنا کر اسی کے در پر لے آیا ۔ یقیناً حق تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔
تاریخ ایسے سبق آموز واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ شرط ہے کہ انسان اس سے عبرت پکڑے ۔
( کتاب العبر )






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں