برف باری اور ڈپریشن

 گرم میدانوں کی زندگی میں بھاگ دوڑ کرتے لوگ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ جہاں روز برف گرتی ہو وہاں زندگی کا رنگ و ڈھنگ کیسا ہوتا ہے. کسی دن ہلکی برف باری ہوگی. آپ گرم کپڑے پہن کر روزمرہ زندگی میں سنبھل سنبھل کر قدم رکتے آہستہ آہستہ شام کر دیتے ہیں. کسی دن زیادہ برف گرتی ہے. آپ گھر سے نکلنے کیلئے بھی پہلے راستہ صاف کرتے ہیں.

کسی دن کئی فٹ برف گرے گی. آپ صفائی میں ہی اتنے تھک جائیں گے تھک کر چور واپس بستر میں گھس جائیں گے. المیہ یہ ہوگا کہ آٹھ کر آپ دیکھیں گے جو محنت آپ نے کی وہ پھر برابر ہو چکی ہے. کسی دن برفانی طوفان ہوگا آپ باہر نکلنے کی کیا بستر سے نکلنے کی بھی ہمت نہیں کریں گے. دوستو رشتوں سے کٹنا شروع ہو جائیں گے. گھر پر روزمرہ زندگی کے اسباب سمٹنے لگیں گے. سرد موسم آپ کی ہڈیوں تک میں گھس گیا ہوگا. روزانہ اس برف میں بیلچے مار کر تھکن آپ کی رگ رگ میں گھس جائے گی.

برفباری بھی موسم ہے. اس میں اتار چڑھاو آتا ہے. لیکن جہاں پرانی برف صاف نہ ہوئی ہو صاف دن کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا. کیونکہ گھر چھت راستے صاف کرنے کی بجائے پھر صاف دن میں بنیادی ضروریات کی فکر ہی بندے کو ہلکان رکھتی ہے. صاف دنوں میں انسان دوبارہ زندگی کا جوڑ بناتا ہے. کچھ جوڑ بنتا ہے کہ دوبارہ برفباری شروع ہو جاتی ہے.

ڈپریشن بھی کسی فرد کی زندگی کا برفانی موسم ہے. جسے ڈپریشن نہ ہو اسے اس موسم کا گرفتار کاہل نکما اور پتہ نہیں کیا کیا لگے گا. کیونکہ وہ برفانی موسم اور اس کی سختیوں سے آشنا نہیں ہوتا. ہمارے اکثر لوگ اس اذیت میں زندگی تمام کر دیتے ہیں کہ دوسرے ان کی زندگی کا موسم سمجھ نہیں پاتے. دوسرے یہ جان نہیں پاتے کہ وہ اگر تھک چکا ہے اپنی ذات سے نکلنے کا ہر راستہ اسے بند نظر آرہا ہے. وہ بے بس ہوگیا ہے  تو کیا ہوا. آس پاس کے لوگ اس تک پہنچنے کا راستہ کیوں نہیں بناتے.؟


ڈپریشن آج کی دنیا کا ویسے ہی انفرادی عفریت ہے جیسے اجتماعی دنیا کیلئے گلوبل وارمنگ ہے. اگر گلوبل وارمنگ کو آپ تسلیم کر چکے ہیں تو پھر ڈپریشن کے گرفتار کو بھی مریض تسلیم کریں. یہ سائبیریا کی اذیت ناک قید ہے. 


ریاض علی خٹک

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں