آپ آسمان پر خاموشی سے منڈلاتے گدھ دیکھیں. ان کی نظر کمال ہوتی ہے. یہ بلندی پر چکر لگاتے نیچے دیکھ رہے ہوتے ہیں. کہاں کوئی کمزور ہو کر گرے تو ان کی ضیافت کا ساماں بن جائے. کہاں کسی دوسرے شکاری نے اپنا شکار چھپایا وہ بھی ان کی نظر سے نہیں بچ پاتا. کیونکہ ان کے سونگھنے کی حس بھی کمال ہوتی ہے.
لیکن یہی گدھ خود شکار نہیں کر سکتے. کیونکہ ان کی اس بڑی جسامت کے باوجود ان کی چونچ اور پنجوں کے ناخن قدرت نے کمزور رکھے ہیں. مردار خوری کو ان کی مجبوری پھر سمجھا جا سکتا ہے. قدرت نے ان کو اسی کام کیلئے تخلیق کیا ہے یعنی یہ فطرت کے خاکروب ہوتے ہیں. یہی تحقیق پھر آپ کو ان سے نفرت کرنے سے روکتی ہے.
آپ دُنیا بھر میں بسے انسانی بچوں کو دیکھیں. تین کھیل ہر براعظم کے بچے شروعات عمر میں کھیلتے ہیں. پتھر پھینکنا چھوٹے جانوروں کے پیچھے دوڑنا اور چھپن چھپائی. کیونکہ صدیوں سے ہماری نفسیات میں رچ بس گیا ہے کہ انسان مردار خور نہیں ہے. ہم شکاری ہیں. پتھر ہمارا پہلا ہتھیار تھا دوڑ کر پکڑنا ہماری بہادری اور چھپن چھپائی ہمارا عقل و شعور ہے.
لیکن ہم میں بہت سے لوگ پھر بھی مردار خور گدھ بن جاتے ہیں. یہ دوسروں کے کمزور لمحے ڈھونڈتے ہیں. بجائے اپنی زندگی اپنی سوچ کے یہ دوسروں کے پیچھے ان کے گرنے کی اُمید پر دوڑ رہے ہوتے ہیں. ان کا شعور بھی گدھ کی طرح خاموش چھپ کر دوسروں کی وہ باتیں پکڑنے سونگھنے تک محدود ہو جاتا ہے جو ان کی کمزور شخصیت کو کچھ دیر کی طمانیت دے.
ایسے لوگ ہمارے آس پاس ہی رہتے ہیں . تحقیق یا آشکار ہونے پر یا تو ان سے کراہیت ہو جاتی ہے اور یا اکثر آپ حیرت سے سوچتے ہیں انہوں نے گدھ بننے کا انتخاب کیوں کیا؟. قدرت نے تو ان کو مکمل انسان بنایا ہے.







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں