بچوں کی چھوٹی چھوٹی
شرارتیں سب کو بسا اوقات بھلی لگتی ہیں۔ شرارتوں کے ساتھ کبھی کبھار کوئی لڑائی
جھگڑا بھی ہوجاتا ہے۔ بچوں کے درمیان کہا سنی، لڑائی جھگڑا،نوک جھونک ہونا انسانی
فطرت کا حصہ ہے۔ گھر ہو یا سکول، معمولی
جھگڑوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ سکولوں میں طلبہ کے درمیان پہلے بھی
جھگڑے ہوتے تھے۔ جنہیں اساتذہ رفع دفع کرکے آپس میں میل ملاپ کرادیا کرتے تھے۔
کچھ باتیں کسی کسی استاد کی پہلے بھی طلبہ کو بری لگتی تھیں لیکن استاکو کچھ کہنے
کی بھی طلبہ میں ہمت نہیں ہوتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اب ایسا کیا ہوگیا کہ طلبہ اپنے
ساتھی طالب علم یا استاد کی پٹائی اور قاتلانہ حملے سے بھی نہیں ڈرتے۔ ان کے اندر
اتنی کڑواہٹ کہا ں سے آگئی کہ وہ اپنی حدیں پار کررہے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک
ہے کہ کہیں طلبہ اپنے استادوں کی بے عزتی کررہے ہیں تو کہیں طلبہ کے ذریعہ اپنے
اساتذہ کے ساتھ غیر انسانی رویہ اپنانے یا قاتلا حملہ کرنے کے واقعات سامنے آرہے
ہیں۔
گھروں کی صورت حال بھی
اس سے مختلف نہیں ہے۔ آئے دن ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ نوجوان بچے اور
بچیاں اپنے ماں باپ سے الجھتے ہیں، ناراض ہوتے ہیں اور گھر چھوڑ دیتے ہیں یا کوئی
اور غلط قدم اٹھا لیتے ہیں۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ نوجوان
تشدد پر آمادہ کیوں ہورہے ہیں۔ اس کا جواب تلاش کیاجانا چاہئے۔ آئیے مل کر
اس سوال کا جواب بھی تلاش کرتے ہیں، ان وجوہات کو جانتے ہیں اور ان مسائل کا حل
ڈھونڈتے ہیں جن میں ہمارے نوجوان گرفتار ہوتے جارہے ہیں۔
جسمانی کھیلوں کا
فقدان:
آپ پندرہ بیس سال
پہلے کے اسکولوں پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اسکولوں میں ایک گھنٹہ جسمانی ٹریننگ(پی
ٹی) کیلئے ہوتا تھا۔ جس میں بچوں سے طرح طرح کی ورزشیں کرائی جاتی تھیں۔ اساتذہ
بچوں کے ساتھ بدکلامی یا بدزبانی سے بات نہیں کرتے تھے۔ اس بات کا خیال رکھا جاتا
تھا کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو بچوں کے معصوم ذہن کو پراگندہ کرنے والی ہو،
ان کو بے عزت کرنے والی ہو یا ان کو بری لگے۔ پھر اسکول کے باہر بچوں کے اپنے کھیل
تھے۔ جس میں گلی ڈنڈہ، کبڈی، گھوڑا کدائی، چھپم چھپائی، رسی کرائی، پہیہ چلانا
وغیرہ۔ اسکول میں لانگ جمپ، شارٹ جمپ، رسہ کھینچنا، بالی وال، فٹ بال،بیڈ منٹن
وغیرہ کھیل کھلائے جاتے تھے۔ اس سے ایک طرف بچے اپنے جسم پر قابو پانا سیکھ جاتے
تھے دوسرے ان کا ذہن بھٹکنے سے بچ جاتا تھا۔ تیسرے یہ سارے کھیل استادوں کی نگرانی
میں ہوتے تھے تو استادوں کی عزت وخوف بنا رہتا تھا۔
زمانے کی تبدیلی کے
ساتھ بچوں کے کھیل بدل گئے۔ کیرم، لوڈو، سانپ سیڑھی، کرکٹ وغیرہ ہو گئے۔ دوسرے
بچوں کے کھیلنے کیلئے جگہ بھی نہیں بچی۔ جو میدان ہیں یا پارک وہاں انہیں کھیلنے
نہیں دیا جاتا۔ پھر موبائل کے آنے کے بعد موبائل پر گیم کھیلنے لگے۔ موبائل پر
مار دھاڑ اور ہورر گیم موجود ہیں جن میں بچے دلچسپی لیتے ہیں۔ ان سے ان کے اندر
سپر ہیرو بننے یا موبائل گیم کے کسی کردار
کو اپنانے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ جسمانی محنت والے کھیل نہ کھیلنے سے ان کا پسینہ
نہیں بہہ پاتا اوراندر ہی اندر ان کی طاقت غصہ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ پھر جوان خون
گرم ہوتا ہے اورماحول میں طرح طرح کی آلودگی موجود ہے جس کی وجہ سے پہلے ہی
انسانی جسم تناؤ میں ہے۔ بس ذرا سی مزاج کے خلاف بات بھی بری لگ جاتی ہے۔
امتحانات یا نمبر لینے
کا دباؤ:
بچوں پر امتحان میں
اچھے نمبر لانے کا دباؤ بھی برابر رہتا ہے۔ یہ دباؤ صرف سکول کا ہی نہیں ہوتا بلکہ
والدین کا بھی ہوتا ہے۔ والدین یا اساتذہ اس بات پرغور نہیں کرتے کہ اگر کوئی بچہ
سائنس یا ریاضی میں اچھے نمبر نہیں لایا تو اس کی دلچسپی کس مضمون میں ہے۔ ہوسکتا
ہے کہ اس بچہ کو لٹریچر میں کمال کرنا ہوگا، صحافی بننا ہو، کھلاڑی بننے میں اس کی
دلچسپی ہو، فوٹوگرافی میں وہ اپنا مستقبل بناناچاہتا ہو یا پھر آرٹسٹ۔ اس لئے ہر
بچے سے یہ توقع نہیں کرنی چاہئے کہ وہ 90 فیصد نمبر لائے گا۔
تعلیمی نظام میں بہتری
کی ضرورت:
بڑھتے ہوئے تشدد کے
واقعات پر توبات ہورہی ہے لیکن تعلیمی نظام کو بہتر بنانے پر بات نہیں ہوتی۔
تعلیمی نظام میں حصول معاش پر زور دیا جارہا ہے۔ یعنی تعلیم کا مقصد ہے اچھی نوکری
حاصل کرنا۔ اس پر نہیں کہ اس تعلیم کے
ذریعہ ہم اپنے بچوں کو کیا دے رہیں ؟ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ہماری اقدار
کیاہیں۔ کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ بچے جھوٹ بولنا سیکھ رہے ہیں یا کوئی اور
غلط عادت ان میں پروان چڑھ رہی ہے۔ بس نمبر آنے چاہییں۔ سکول اور گھر دونوں اداروں
کو اس بات پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
خاندان کی ٹوٹ پھوٹ:
بچوں میں تشدد اور
ناچاقی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا خاندان کا ادارہ کمزور ہوتا چلا جارہا ہے اور اس
وجہ سے بچوں کی مناسب socialization
نہیں ہوپارہی۔ یعنی وہ معاشرت پسند نہیں بن رہے۔ ظاہر ہے کہ جب بچے دوسرے
بچوں سے ، اپنے ماں باپ سے اور رشتہ داروں سے کم ملیں گے، بول چال نہیں ہوگی، آنا
جانا نہیں ہوگا تو بچے اکیلے ہو جائیں گے ۔ اپنے کھلونوں اور چیزوں پر وہ اپنا حق
زیادہ جتانے لگیں گے اور جونہی کوئی انہیں چھیڑے گا وہ ڈسٹرب ہوں گے اور لڑائی
جھگڑے پر اتر آئیں گے۔ ہمارے قدیم خاندان میں بہت سے لوگ مل جل کر ایک ساتھ یا
قریب قریب رہتے تھے۔ نوجوان اس ماحول سے یہ سیکھتے تھے کہ انہیں اپنے چیزوں کو
شیئر کرنا چاہیے۔ ان کے کھلونے محض ان کے نہیں ، ان کے بہن بھائیوں، کزن اوردیگر
بچوں کے بھی ہیں۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں