تربیت اولاد کا
سادہ
مگر
نہا
یت
کٹھن
مر
حلہ
چند
ما
ہ
قبل
کا
وا
قعہ
ہے
کی
میری
تین
سالہ
بیٹی
صا
حبہ
اپنے
دو
ستو
ں
کے
ساتھ
کھیل
میں
مصروف
تھیں۔
کچھ
وقت
گزرا
تو
محترمہ
کو
بھو
ک
نے
ستا
یا۔
وہ
گھر
میں
دا
خل
ہو
ئیں
اور
فریج
میں
سے
پھل
لے
کر
کھانے
لگیں۔
اسی
عمر کا ایک بچہ بھی اس ان کے ساتھ تھا۔ ۔ اُن
کی
دیکھا
دیکھی
اُس
نے
بھی
وہی
کیا
اور
فریج
میں
سے
پھل
نکال
کر
بھو
ک
مٹا
نے
لگا۔
یہ
منظر
میری
اہلیہ
محترمہ
کو
کچھ
عجیب
سا
لگا۔
انھو
ں
نے
عادت
کے
مطابق
فوری
طور
پر
بچو
ں
کو
ٹو
کنے
سے
اجتناب
کیا
اور
اس
پر
مزید
با
ت
کرنے
کے
لیے
کسی
منا
سب
وقت
کا
انتظار
کرنے
لگیں۔
میں
غالباً
کسی
گھر
یلو
کام
میں
مصروف
تھا۔
آخر
چھٹی
کا
دن
ایسے
ہی
کا
مو
ں
کے
لیے
ہو
تا
ہے۔
اس
لیے
اہلیہ
محترمہ
نے
مجھے
متو
جہ
کرنا
مناسب
نہ
سمجھا۔
البتہ
کچھ
وقت
گزرنے
کے
بعد
میں
فار
غ
ہوا
تو
سارا
حال
مجھے
کہہ
سنا
یا۔
میرے
نزدیک
تو
یہ
کو
ئی
ایسا
خا
ص
معاملہ
نہ
تھا
مگر
اہلیہ
محترمہ
کا
اصرار
تھا
کہ
ہم
اس
حوالے
سے
کو
ئی
اصول
وضع
کریں۔
جب
ان
کا
اصرار
بڑھتا
گیا
تو
میں
بو
لا:
’’دیکھیے! بچے جو
دیکھتے
ہیں،
وہی
کرتے
ہیں
یا
کرنے
کی
کو
شش
کرتے
ہیں۔
اگر
آپ
چا
ہتی
ہیں
کہ
اس
گھر
کے
کسی
فرد
کے
علاوہ
کوئی
دوسرا
ہمارا
فریج
بغیر
اجا
زت
نہ
کھو
لے
تو
اس
کے
لیے
ہمیں
یہ
اصول
خو
د
پر
لا
گو
کرنا
ہو
گا۔‘‘
’’کیا مطلب؟“اہلیہ
محترمہ
کی
الجھی
آواز
میری
کا
نو
ں
سے
ٹکرا
ئی۔
’’مطلب یہ کہ
ہماری
بیٹی
کی
سہیلیا
ں
یا
دوست
ایسا
کرنے
سے
اِسی
صورت
رک
سکیں
گے
کہ
جب
ہماری
بیٹی
یہ
کام
نہ
کرے۔
رہی
بات
ہماری
بیٹی
کی
تووہ
اِس
صورت
میں
یہ
عادت
اپنا
سکے
گی
کہ
جب
ہم
دو
نو
ں
میں
سے
کو
ئی
ایک،
دوسرے
سے
اجازت
لے
کر
فر
یج
کھو
لے۔یو
ں
ہمیں
دیکھ
کر
ہماری
بیٹی
یہ
کام
یا
آداب
سیکھے
گی
اور
اُسے
دیکھ
کر
با
قی
بچے…‘‘
محتر
م
قا
رئین!
سننے
یا
پڑھنے
کے
حد
تک
تو
یہ
ایک
عام
سا
واقعہ
محسو
س
ہو
تا
ہے۔
اِس
جیسے
بے
شمار
واقعات
ہمارے
گھرو
ں
میں
ہو
تے
رہتے
ہیں۔
لیکن
بچو
ں
کی
تر
بیت
کے
حوا
لے
سے
اس
سے
سا
دہ
مگر
کٹھن
اصول
اور
کو
ئی
نہیں
کہ
"Children see, children do"
یہ اصول کوئی ہماراوضع کردہ نہیں بلکہ ایک عرصہ سے ماہرین نفسیا ت اسے بچوں کے
سیکھنےکا لازمی اصول قرار دیتے چلے آرہے ہیں۔ مشہور ماہر نفسیات اور ماہر تعلیم
البرٹ بنڈورا (Albert Bendura) نے 1967 ء میں سماجی تعلم میں مشاہدے یا نقل کی اہمیت سے متعلق اپنی Social Learning Theoryپیش کی۔ جس میں اس نے مختلف بچوں پر تجربات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ بچے سماجی
رویے اور کردار زیادہ تر اپنے سے بڑوں کے مشاہدے اور ان کے عمل کی نقل کرنے سے
سیکھتے ہیں۔ انگریزی میں اسے observational
learning کہا
جاتا ہے۔
البرٹ
بنڈورا نے کئی تجربات کیے ۔ ان تجربات کو Bobo Doll Experiment کا نام دیا
گیا۔ چوبیس چوبیس بچوں کے تین گروپس بنا کر اس نے مختلف کمروں میں رکھا اور انہیں
کھیلنے کے لیے کچھ کھلونے دیے۔ ان بچوں کی موجودگی میں ایک بڑے شخص یا کسی ٹیچر
وغیرہ کو ایک کھلونے (Bobo Doll) کے ساتھ مختلف قسم کے ایکشنز کرنے کو کہا گیا۔ مثال کے طور پر ایک
گروپ کے کمرے میں بڑے شخص کا یہ عمل ظالمانہ یا aggressive
تھا،
ایک کمرے میں نرمی پر مشتمل اور تیسرے
کمرے میں ڈول تو رکھی گئی لیکن اس کے ساتھ کوئی شخص نہیں تھا۔
جس
کمرے میں اس گڑیا یا بوبو ڈول کے ساتھ ظالمانہ یا aggressive سلوک
روا رکھا گیا، بچوں نے بھی یہی سیکھا، جس کمرے میں نرمی اور اچھا سلوک کیا گیا ،
وہاں بچوں نے بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کیا، جبکہ تیسرے کمرے میں ملا جلا سلوک
دیکھنے میں آیا جو بچوں کی پسند ناپسند پر مبنی تھا۔
گویا بچے
والدین اور اپنے بڑے بہن بھائیوں یا دوستوں کو دیکھ دیکھ کر اپنے سماجی رویے اور
کردار تشکیل دیتے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم انہیں اپنی طرف سے کیا مشاہدہ
کرواتے ہیں۔ اس حوالے
سے
چند
ایک
تجاویز
والدین
کے لیے حاضر ہیں:
1۔
اپنے
ہر
چھوٹے
بڑے
عمل
کا
جائزہ
لیجیے
اور
سوچیے
کہ
کیا
یہ
کام
بچوں
کے
کرنے
کا
ہے؟
اگر
ہے
تو
ٹھیک
ورنہ
اُسے
بچوں
کے
سامنے
دہرانے
سے
گریز
کریں۔
یہ
کام
کچھ
مشکل
ضرور
ہے
لیکن
ناممکن
نہیں۔
اس
ضمن
میں
یہ
بات
بھی
یاد
رکھیے
کہ
اس
اصول
کو
بچوں
کے
آپسی
تعلقات
میں
بھی
دیکھیے
لیکن
اس
پر
سختی
کرنے
سے
گریز
کیجیے۔
مثال
کے
طور
پر
آپ
کے
پڑوسی
کے
بچے
گالم
گلوچ
کرتے
ہیں
اور
آپ
چاہتے
ہیں
کہ
بچے
انھیں
دیکھ
کر
یہ
سب
نہ
سیکھیں۔
اب
اس
کا
حل
اکثر
والدین
یہ
نکالتے
ہیں
کہ
بچوں
کے
ایک
دوسرے
سے
ملنے
جلنے
پر
پابندی
لگا
دیتے
ہیں۔
ایسا
کرنے
سے
بچے
کسی
حد
تک
اس
غلط
کام
سے
رک
تو
جاتے
ہیں
لیکن
وہ
بہت
سی
خوبیوں
سے
بھی
محروم
ہو
جاتے
ہیں
جو
انھیں
تعلقات
بنانے
سے
ہی
حاصل
ہو
سکتی
ہیں۔
ایسے
مسائل
کے
حل
کے
لیے
دیگر
ذرائع
استعمال
کریں۔
ان
میں
سے
ایک
یہ
ہے
کہ
’’بچوں کی تمام منفی
عادات
کو
نظرانداز
کرنے
کا
اصول‘‘اپنائیے۔
اس
کے
علاوہ
آپ
اپنے
پڑوسیوں
سے
بھی
اس
پر
بات
کر
سکتے
ہیں۔
آخر
ان
بچوں
نے
یہ
عادت
بھی
تو
کسی
نہ
کسی
کو
دیکھ
کر
ہی
اپنائی
ہو
گی۔
2۔
اپنے
گھر
کے
اصول
و
ضوابط
وضع
کیجیے
اور
ان
پر
کاربند
رہیے۔
ہوتا
یوں
ہے
کہ
ہم
ایک
کام
سے
بچوں
کو
منع
کرتے
ہیں
لیکن
خود
وہی
کام
کرنا
شروع
کر
دیتے
ہیں۔
مثال
کے
طور
پر
ہم
یہ
چاہتے
ہیں
کہ
ہمارے
بچے
موبائل،
لیپ
ٹاپ
وغیرہ
کا
زیادہ
استعمال
نہ
کریں
مگر
وہ
کسی
صورت
ایسا
نہیں
ہونے
دیتے۔
غور
کیا
جائے
تو
اس
کی
سب
سے
بنیادی
وجہ
ہمارا
اِن
چیزوں
کا
بے
تحاشہ
استعمال
ہے۔
اگر
آپ
کے
گھر
کا
اصول
یہ
ہو
کہ
ضرورت
کے
علاوہ
ان
چیزوں
کا
استعمال
نہیں
ہو
گا
اور
گھر
کے
مرد
اپنے
بیشتر
کام
دفتر
ہی
میں
نبٹا
کر
آئیں
گے
تو
بچے
اس
طرف
آئیں
گے
ہی
نہیں۔
ہوتا
یہ
ہے
کہ
ہم
خود
مسلسل
ان
چیزوں
کا
استعمال
کر
رہے
ہوتے
ہیں
مگر
بچوں
سے
یہ
توقع
رکھتے
ہیں
کہ
وہ
ایسا
نہ
کریں۔
اسے
ہماری
’’سادہ لوحی‘‘ کے
علاوہ
اور
کیا
کہا
جا
سکتا
ہے۔
3۔
اپنے
اردگرد
کا
ماحول
بہتر
کیجیے۔
بچوں
کے
سیکھنے
میں
ماحول
کا
ایک
نمایاں
کردار
ہے۔
ہوتا
یہ
ہے
کہ
ہم
خود
تو
اپنے
بچوں
کی
تربیت
چاہ
رہے
ہوتے
ہیں
لیکن
ہم
نے
سکول،
ٹیوشن
سنٹر،
محلے
داری
کی
صورت
انھیں
ایسا
ماحول
فراہم
کیا
ہوتا
ہے
جہاں
ہماری
تربیت
کو
زائل
کرنے
والے
عوامل
بکثرت
پائے
جاتے
ہیں۔
سچ
پوچھیں
تو
یہ
اپنے
ہی
ہاتھوں
اپنی
فصل
برباد
کرنے
کا
معاملہ
ہے۔
جہاں
ہم
اپنی
اولاد
کے
لیے
اور
بہت
سے
منصوبے
اور
خواہشات
رکھتے
ہیں،
وہیں
انھیں
ایک
بہتر
ماحول
دینا
بھی
ہماری
ہی
ذمہ
داری
ہے۔بچے
آسائشوں
کے
بغیر
رہ
لیں
تو
قبول
کر
لیجیے
مگر
انھیں
بہترین
ماحول
ضرور
مہیا
کیجیے۔
4۔ وہ
کام کرکے دکھائیے جو آپ چاہتے ہیں۔
برے
کاموں سے روکنے کے ساتھ ساتھ ہمیں وہ کام بچوں کو کرکے دکھانے چاہییں جن کو ہم
چاہتے ہیں کہ بچے کریں اور اسی طریقے سلیقے سے کریں جس سے ہم چاہتے ہیں۔ مثال کے
طور پر گھر آئے مہمان کو پانی کیسے پیش کرنا ہے، الماریوں میں برتن، کتابیں اور
کپڑے وغیرہ کس ترتیب اور طریقے سے رکھے جائیں گے۔ باہر کوئی آئے تو دروازہ کیسے
کھولنا ہے، فون پر کسی سے بات کیسے کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم عموماً ان باتوں کا
خیال نہیں رکھتے کہ بچے ہمیں یہ کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور صحیح یا غلط، جیسے
بھی ہم یہ کام کررہے ہیں وہ اسے سیکھتے ہیں اور ویسے ہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں