بائبل کی ایک کہانی جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے ۔
یہ ڈھائی ہزار سال پہلے کی بات ہے۔ بابل کا آخری بادشاہ بیلشضر اپنے درباریوں کے ساتھ محل میں محفل نشاط سجائے بیٹھا تھا۔ یروشلم کے معبد سے لوٹے ہوئے مقدس طلائی برتنوں میں شراب پی جا رہی تھی کہ اچانک غیب سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اس نے دیوار پر چند لفظ لکھے، بادشاہ یہ دیکھ کر خوف سے تھرتھر کانپنے لگا، غیبی ہاتھ نے چار الفاظ لکھے اور پھر آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔
وہ الفاظ یہ تھے :
MENE - MENE - TAKEL - PERES.
یہ کسی اجنبی اور نامانوس زبان کے الفاظ تھے۔ بادشاہ اور درباریوں نے انھیں سمجھنے کی تمام تر کوشش کی، ناکام ہونے پر انہوں نے بائبل کے بڑے بڑے عالموں، نجومیوں اور روحانی پیشواؤں کو بلوایا۔ شاہ نے پیشکش کی کہ جو اس عبارت کو پڑھ کر اس کا مطلب سمجھائے گا، اسے سونے میں تولا جائے گا۔ کاہن اور نجومی کوشش کرتے رہے، مگر وہ ان الفاظ کا راز نہ جان سکے اور بادشاہ کی راتوں کی نیند بھی اڑ گئی۔ وہ ہر وقت سوچتا رہتا کہ اس غیبی ہاتھ نے آخر کیا پیغام دیا ہے ؟
ایک دن ملکہ نے مشورہ دیا کہ بابل میں دانیال نامی شخص رہتا ہے، جس کا جسم تو انسان کا ہے لیکن غالباً روح کسی دیوتا کی ہے، اسے بلایا جائے۔ یہ حضرت دانیال ؑ تھے، اپنے عہد کے سب سے زیادہ برگزیدہ شخص تھے ۔
بادشاہ نے حضرت دانیال ؑ کو بلایا اور کہا : ”سنا ہے کہ تم ہر قسم کی گتھی سلجھا لیتے ہو، اگر تم دیوار پر لکھی اس عبارت کا مطلب مجھے سمجھانے میں کامیاب رہے، تو خلعت فاخرہ کے ساتھ، تمہارے گلے میں سونے کی مالا ڈالی جائے گی اور تمہیں سلطنت کا تیسرا بڑا عہدہ بھی سونپا جائے گا“۔
حضرت دانیال ؑ نے کہا : کہ مجھے تمہارے سونے چاندی کی ضرورت نہیں، مگر میں یہ مسئلہ حل کر دیتا ہوں۔
انہوں نے چند لمحوں کے لیئے غور کیا اور پھر بادشاہ سے کہا : ”تمہارا باپ بھی اس سلطنت کا فرماں روا تھا، لیکن اس نے عیش و عشرت کا راستہ اپنا کر خود کو تباہ کر لیا ۔ اب تم نے بھی اس کی پیروی کی، اسی لیئے تباہی اور بربادی تمہارا مقدر ہے“۔
اس کے بعد حضرت دانیالؑ نے بتایا ”Mene کا مطلب ہے کہ تمہاری بادشاہی کے دن پورے ہو گئے ہیں۔ Takel کا مطلب ہے کہ تمہیں کسوٹی پر پرکھا گیا، لیکن تم ناقص اور ہلکے نکلے۔ Peres سے مراد ہے کہ تمہاری سلطنت عنقریب دشمنوں میں تقسیم ہو جائے گی۔“
یہ قصہ بائبل میں بیان کیا گیا ہے ۔ کہانی کے مطابق اسی رات بادشاہ کو قتل کر دیا گیا اور جلد ہی اس کی سلطنت دو دشمن ریاستوں کے قبضے میں چلی گئی ۔
اس کہانی سے انگریزی میں ضرب المثل :
" Writing on the Wall "
وجود میں آئی اور اردو میں اسے نوشتہ دیوار (دیوار پر لکھا ہوا) کا نام دیا گیا ۔ ویسے یہ ضرب المثل دنیا کی بہت سی زبانوں میں مختلف ناموں سے موجود ہے ۔
بائبل کی کہانی تو ختم ہو چکی، مگر تاریخی قصوں کے آثرات صدیوں تک برقرار رہتے ہیں۔ پچھلے دو ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کا جائزہ لے کر مؤرخین نے یہ نتیجہ نکالا کہ ہر سلطنت اور حکمران کو خواہ وہ جس قدر عظیم ہو، ایک نہ ایک دن ضرور نوشتہ دیوار سے وآسطہ پڑتا ہے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ ایک وقت ایسا آتا ہے، جب اس کا انجام واضح دکھائی دینے لگتا ہے، مگر بدقسمتی سے بیشتر حکمران دیوار پر لکھے تقدیر کے اٹل اور نہ بدلنے والے فیصلے کا درست ادراک نہیں کر پاتے ۔ ۔
تب دیوار پر لکھے ہوئے کی تکمیل ہو جاتی ہے ۔ تاریخ پھر یہی فیصلہ سناتی ہے کہ ۔ ۔ ۔
انہیں آزمایا گیا، تولا گیا، مگر یہ ہلکے، بہت ہلکے نکلے ۔






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں