یہ تصویر برطانوی شہری فرینک جے میچل کی ہے، جس کی زندگی کی ساری جمع پونجی ایک افریقی ملک میں کی گئ سرمایہ کاری میں ڈوب گئ تھی- اس وقت فرینک کی عمر محض 47 سال تھی- وہ مالی بدحالی کے ساتھ ہندوستان آگیا تھا جہاں اس کے تین بھائ مختلف کاروبار کررہے تھے- ایک بھائ کشمیر میں قالین بافی کے کاروبار سے منسلک تھے-
فرینک نے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا- چند سال کے بعد وہ برطانیہ واپس گیا اور ہندوستان واپس آتے ہوئے ٹراوٹ مچھلی کے انڈے ساتھ لے آیا- پہلی کوشش ناکام رہی، لیکن دوسری کوشش کامیاب ہوگئ- کشمیر میں اس نے ٹراوٹ مچھلی کی پہلی ہیچری قائم کی اور اس بے حد قیمتی مچھلی کو اس خطے میں متعارف کروایا- مہاراجہ کشمیر نے اسے فشریز کے محکمے کا اعزازی ڈائریکٹر بنادیا-
برطانوی راج میں گورنر پنجاب نے اسے 700 ایکڑ زمین لیز پر دے دی اور ہدایت کی کہ پھلوں کے درختوں کے تجربات کرے- انیسویں صدی کے آغاز میں فرینک جے میچل نے خیری مورت میں اٹلی سے درآمد شدہ زیتون کی مختلف اقسام کے 100 پودے لگائے- سٹرس اور انگور کے باغات بھی لگائے- اس کو جو زمین لیز پر دی گئ تھی، اس کے قریب کسان نام کا چھوٹا سا ریلوے اسٹیشن تھا-
بعد ازاں اس نے دو کمپنیاں قائم کیں جن میں سے ایک کا نام کسان کے نام پر رکھا جبکہ دوسری کا نام میچلز رکھا گیا-
جی ہاں، وہی میچلز جس کی مختلف مصنوعات ہمارے اکثر گھروں میں آج بھی استعمال کی جاتی ہیں-
ناکامی پرعزم لوگوں کے لئے نئے راستے کھول سکتی ہے اور مایوس لوگوں کے راستوں کو بے نشان بھی کرسکتی ہے-
فیصلہ خود انسان کو کرنا ہوتا ہے کہ امید قائم رکھنی ہے یا حوصلہ ہار جانا ہے!







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں