وتبتل الیہ تبتیلا

 ابو سورت المزمل کی تلاوت کر رہے تھے. جب اس آیت پر پہنچے، و تبتل الیہ تبتیلا تو ابو نے بے ساختہ چونک کر کہا تھا. کیا خوبصورت آیت ہے. سبحان اللہ.

تلاوت ختم کی تو ابو نے مجھ سے پوچھا تھا : اس کا ترجمہ آتا ہے؟ "وتبتل الیہ تبتیلا "میں نے ترجمہ بتا دیا کہ " سب سے بے نیاز ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ" 

ہاں.. اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ، "سب سے ٹوٹ کر اسی کے بن رہو" ابو نے مزید کسی مفسر کا ترجمہ بتایا تھا.

جی. ویسے مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے. یہ ممکن نہیں ہوتا. شاید بہت زیادہ نیک لوگوں کے لیے ممکن ہوتا ہو کہ ان کے دل میں بس خدا رہتا ہو. ہم جیسے لوگوں کے دل میں دوستیاں ہوتی ہیں. دنیا کی ہزار محبتیں ہوتی ہیں. دنیا سے بے نیاز ہو جانا تھوڑا سا مشکل لگتا ہے مجھے. اخیر عمر میں شاید کبھی یہ بے نیازی مل جائے ہمیں بھی. 

ابو نے بالکل یوں دیکھا تھا جیسے کوئی سمجھدار شخص کسی بے وقوف بچے کی بات پر مسکراتا ہے اور کہنے لگے : تو بھئی کون کہہ رہا ہے کہ دنیا چھوڑ دو. دوستیاں چھوڑ دو. جنگلوں میں نکل جاؤ. اللہ اللہ کرو. تو ہی دل میں خدا آئے گا یا دنیا سے بے نیازی ملے گی. دنیا سے بے نیاز ہونے کا فارمولا تو بہت ہی سادہ ہے.

تمہارے بہت سے دوست ہوں گے. لیکن کوئی ایک ایسا ضرور ہوگا جو باقیوں کی نسبت زرا سپیشل ہوگا. تم اس کا فون پہلی بیل پر اٹھا لیتی ہو گی. کسی چیز پر مشورہ کرنا پڑے تو اس کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہوگا. کوئی پوچھے کہ سب سے اچھا دوست کون ہے تو سوچے سمجھے بغیر اس کا نام منہ پر آ جاتا ہوگا. کہیں جانے سے پہلے اسے بتاتی ہوگی.

اس کی موجودگی میں تمہیں فکر نہیں ہوتی ہوگی اگر مزید کوئی ایک دوست بھی ساتھ نہ ہو تو. وہ ایک واحد sufficient ہوتا ہے. ہمیں کافی ہوتا ہے. وہ ساتھ ہو تو مزید کسی کی ضرورت نہیں رہتی. یہ سب اس ایک سپیشل ون کے ساتھ اس لئے ہوتا ہے، کیونکہ ہم نے اسے باقیوں کی نسبت ترجیح دی ہوتی ہے. اسے ذرا خاص سمجھا ہوتا ہے. وہ ہمارے لیے اہم ہوتا ہے.

خدا کے ساتھ بھی انسان کا یہی معاملہ ہے. اس سے محبت کرنے، وفاداری نبھانے اور باقی دنیا سے بے نیاز ہونے کے لیے کوئی ریاضت نہیں چاہیے ہوتی ہے. بس خدا کو ترجیح دینا شروع کر دو. وہ تمہارے لیے ساری دنیا کے مقابلے میں کافی ہو جائے گا.

اذان کی آواز آئے تو اسے ترجیح دیتے ہوئے باقی کام چھوڑ کر پہلے نماز پڑھ لو. دنیا جہان کا کوئی کام کرنے سے پہلے بس رک کر ایک سیکنڈ کے لیے سوچ لو کہ کہیں اس میں خدا کی نافرمانی تو نہیں. لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھو تو نیت یہ ہونی چاہیے کہ اللہ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے. اپنے کاموں کو ترتیب دیتے ہوئے اس میں نماز اور قرآن کا وقت پہلے الگ کر لو. پھر باقی شیڈول بناؤ.

یہ چھوٹے چھوٹے سے کام ہیں. ان ميں خدا کو ترجیح دینی شروع کرو. دنیا سے بے نیاز وہ خود کر دے گا. جب دل، اس کے ذات کے گرد گھوم رہے ہوں تو انسان کو اس کے علاوہ کسی اور کے متعلق کچھ سوچنے کی ویسے ہی فرصت نہیں ملتی.

خدا کو ترجیح دو گی تو وہ تمہیں ایسا بنا دے گا کہ دنیا والے تمہیں ترجیح دینے لگیں گے. لیکن اس وقت انسان کو دنیا کی پروا نہیں رہتی. وہ ایسی شاندار اور عظیم محبت چکھ چکا ہوتا ہے کہ باقی سب خودبخود بے حیثیت ہو کر رہ جاتا ہے اور یہی وہ پوائنٹ ہوتا ہے جہاں پھر کہا جاتا ہے کہ "ہمارا دل ساری دنیا سے کٹ کر اسی ایک کا ہو کر رہ گیا ہے"

وتبتل الیہ تبتیلا 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں