چڑھدے پنجاب تہ لہندے پنجاب دا انوکھا پیار

 ارشد ندیم رات گولڈ میڈل جیتے ۔سب نے خوشی کا اظہار کیا اپنے اپنے انداز میں لیکن سب سے خوبصورت ویڈیو جو میرے  دل کو چھو گئ۔جس نے میری سوئ حسرتوں  کو پھر جگا دیا کہ 

دنیا میں چند دن کے مہمان ہیں جانے کب بلاوا آجاے تو دنیا کے اس باغ میں محبت کے پودے آگا جائیں 

وہ ویڈیو تھی 👇

۔۔۔۔نیرج چوپڑا ( انڈیا ) کی والدہ کی ۔خالص ہریانوی زبان میں ممتا سے بھرپور جذبات ارشد ندیم کے لیے ۔۔۔۔

انہوں نے نفرت پھیلانے والوں کے خیالات کو بحیرہ عرب میں غرق کر دیا صرف ایک جملے کہ ۔۔۔۔ارشد بھی میرا بیٹا ھے ۔۔۔۔

تجسس بڑھا کہ ایک انڈین پاکستان کے بارے یہ جذبات کیسے رکھ سکتا ھے تو حیران رہ گیا کہ 

دونوں ایتھلیٹ حریف ھونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے دوست بھی ہیں اور ارشد ندیم کی اپنے خوابوں کی تعبیر کے سفر کے دوران انتھک محنت کے بعد نیرج چوپڑا نے ہر قدم پر انکا ساتھ دیا اس سفر میں 

اگر یہ محبت بھری سوچ پروان چڑھ جاے دونوں طرف کہ سب سے پہلے ۔۔۔۔انسانیت ۔۔۔۔تو نفرت کے کاروبار کی بہت سی دوکانوں کو تالے لگ جائیں اور دونوں طرف کی عوام کی مشکلات میں بہت حد تک آسانیاں پیدا ھو جائیں ۔نفرت کی آگ میں جلتے سینے جو دونوں طرف بے تحاشہ دولت آگ بنانے میں جھونک دیتے ہیں اس سے دونوں ممالک اپنی عوام کو بہترین سہولیات فراہم کر سکتے ہیں 

لیکن 

۔۔۔۔ہزاروں خواہشیں ایسی ۔۔۔۔

لیکن ایک بات تاریخ میں  ہمیشہ کے لیے امر ھو گئ ھے 



0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں