پچاس کا نوٹ

 ایک بجلی کے کھمبے پر ایک کاغذ چپکا دیکھ کر میں قریب چلا گیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ,

لکھا تھا  .. .. .. .. .

براۓ کرم ضرور پڑھیں . .

اس راستے پر میرا کل 50 روپے کا نوٹ کھو گیا ہے, مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا جسے بھی ملے براۓ کرم پہنچا دے نوازش ہو گی . . . . .

 ایڈریس :....**.....*....***...       ....*.....**....**..

یہ پڑھنے کے بعد مجھے بہت حیرت ہوئی کے پچاس کا نوٹ کس کیلئے اتناضروری ہے تو اس پتہ پر جانے کا ارادہ کیا

اوراس گلی میں اس مکان کے دروازے پر آواز لگائی, 

ایک ضعیفہ لاٹھی ٹیکتی ہوئی باہر آئیں, پوچھنے پر معلوم ہوا کے بڑی بی اکیلی رہتی ہیں اور کم دکھائی دیتا ہے, 

میں نے کہا "ماں جی آپ کا 50 روپے  کا نوٹ مجھے ملا ہے ،  اسے دینے آیا ہوں '"

یہ سن کر بڑھیا رونے لگی,

بیٹا ابھی تک قریب 50 لوگ مجھے پچاس کا نوٹ دے گئے ہیں  ..!

میں ان پڑھ ہوں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا, 

معلوم نہیں کون میری اس حالت کو دیکھ کر میری مدد کرنے کے لیے لکھ کر چلا گیا ..   ..

بہت اصرار کرنے پر مائی نے پیسے تو رکھ لیے لیکن ایک درخواست کی کہ بیٹا وہ میں نے نہیں لکھا کسی نے میری مدد کی خاطر لکھ دیا ہے جاتے ہوۓ اسے پھاڑ کر پھنک دینا, بیٹا ..   ..  

میں نے ہاں کہہ کر ٹال تو دیا.....

لیکن میرے ضمیر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا, کہ ان سبھی لوگوں سے بڑھیا نے وہ کاغذ پھاڑنے کیلئے کہا ہو گا, 

مگر کسی نے نہیں پھاڑا,,. 

زندگی میں ہم کتنے صحیح ہیں اور کتنے غلط یہ صرف دو ہی جانتے ہیں . . 

ایک "اللّه  تعالی"

دوسرا ہمارا " ضمیر "

 میرا دل اس شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گیا,کہ وہ شخص کتنا مخلص ہو گا جس نے بڑھیا کی مدد کا یہ طریقہ تلاش کیا, ضرورت مندوں کی مدد کے کئی طریقے ہیں . . 

میں نے اس شخص کو دل سے دعائیں دیں کہ کسی 

کی مدد کرنے کے کتنے طریقے ہیں صرف مدد کرنے کی نیت ہونی چاہیئے۔۔راستہ اور رہنمائی اللّه پاک

کی طرف سے ہو جاتی ہے۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں