کڑواہٹ

        " مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے _" 

      وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے دروازے سے اندر آتی ہوئی بولی _

       عینک کتاب پر رکھتے ہوئے میں نے پلٹ کر کہا :

    " ہاں ہاں ، کیوں نہیں ، بولو ، کیا بات ہے؟ " 

      وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی قریب والی کرسی پر آکر بیٹھ گئی _ چائے میز پر رکھتے ہوئے بولی :

     " چائے پی کر دیکھئے نا ، کیسی بنی ہے؟"

      اس سے پہلے کہ میں چائے پی کر بتاتا کہ کیسی بنی ہے؟ میں نے اس بات کا جاننا زیادہ ضروری سمجھا جو وہ کرنا چاہتی تھی _

      میں نے پوچھا :" کیا بات ہے؟ پہلے وہ بتاؤ _" 

      " ارے پہلے چائے پی کر بتائیے ، کیسی بنی ہے؟ بات بھی بتا دوں گی  _ کون سا میں کہیں بھاگی جا رہی ہوں؟" 

      میں نے اس کی بات پر مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے کپ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے اٹھا کر گھونٹ بھرا _

      لیکن یہ کیا ؟ چائے میں کڑواہٹ اس قدر تھی کہ مجھے فوراً تھوکنا پڑا _

       میں نے چلاتے ہوئے کہا :

" یہ کیا؟

تمھیں چائے بنانی نہیں آتی؟

یہ کیسی چائے بنائی ہے؟

اتنی کڑوی ! "

     وہ مسکراتی ہوئی کرسی سے اٹھ کر کھڑکی میں جا کھڑی ہوئی ۔

      اس کا مسکرانا میرے غصے میں اضافہ کر رہا تھا ، لیکن میں نے برداشت کیا _ میں نے کہا :

     " ایک تو چائے ایسی بنائی ہے ، اوپر سے ہنس رہی ہو _ آخر چاہتی کیا ہو ؟"

     وہ مسکراتی ہوئی بولی :

" کچھ نہیں .... 

بس اتنا بتانا چاہتی تھی کہ آپ کا لہجہ اس چائے سے زیادہ کڑوا ہوتا ہے _

اگر آپ اس کڑوی چائے کا ایک گھونٹ حلق سے نہیں اتار سکے تو سوچیں کہ آپ کے لہجے کے بیسیوں کڑوے گھونٹ ایک نازک عورت کیسے روز سہ لیتی ہوگی ؟

    اتنا کہہ کر وہ چائے کا کپ لے کر خاموشی سے چلی گئی _

      کمرے میں موت کا سنّاٹا چھا گیا _ گھڑی کی ٹک ٹک میرے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہی تھی _ میں نے اپنے رویّے پر غور کیا _

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں