ہر سال گرمائی تعطیلات جہاں
طلبا، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لیے مسرت و خوشیوں کا شادیانہ ہوتی ہیں وہیں
والدین کی ذمہ داریوں میں یہ ایک بڑے اضافے کا سبب بن جاتی ہیں۔ان تعطیلات میں طلبا
کو با مقصدسرگرمیوں میں مصروف رکھنا والدین کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ماہرین تعلیم و
نفسیات کے مطابق طویل چھٹیوں میں بچوں کے معمولات میں تبدیلی آ جاتی ہے او ر وہ ا
سکول نہ جانے کی وجہ سے اکثر صبح دیر تک سوتے رہتے ہیں۔چھٹیوں کے دوران والدین کی
جانب سے برتی جانے والی لاپرواہی کا خمیازہ معصوم طلبا کو بھگتنا پڑتا ہے۔بعض
والدین چھٹیوں کو صرف آرام کا وسیلہ سمجھ کراسے ضائع کردیتے ہیں۔چند والدین بچوں
کی شرارتوں ،شورو غل یا پھر دیگر وجوہات کی وجہ سے بچوں کو کسی اکیڈیمی یا ٹٹوریل
میں داخل کرتے ہوئے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ایسی روایتی سرگرمیاں بچوں کے لیے
اضمحلال کاسبب ہوتی ہیں۔ ماہرین نفسیات و تعلیم کے نزدیک اس طرح کافیصلہ بچوں کی
تخلیقی ،ذہنی و جسمانی نشوونما کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔چھٹیوں کی موثر و منظم
منصوبہ بندی سے بچوں کی ذہنی، جسمانی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ بخشا جاسکتا
ہے۔تعطیلات میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں بچوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو پروان
چڑھانے میں معاون ہوتی ہیں۔بچوں کی بہتر رہنمائی کے لیےعام طور پر والدین کے
سامنے درج ذیل چیلنجز ہوتے ہیں :
·
چھٹیوں کو موثر کیسے بنایا
جائے۔
·
کہاں کہاں جانے کا پروگرام
بنایا جائے۔
·
چھٹیوں میں اسکول کی جانب سے
دیے گئے کام کو کیسے اور کس وقت ختم کرایا جائے۔
تعطیلات کے دوران تفریحی و
تاریخی مقامات کی سیر سے بچوں کو جہاں لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے وہیں وہ
اپنے فاضل وقت کو کارآمد طریقے سے گزارتے ہوئے خاطر خواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ذیل
میں اس حوالے سے چند تجاویز پیش کی جارہی ہیں:
1)
بچوں کی صرف ضروریات ہی پورا
کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ انہیں وقت اور توجہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا والدین
اپنی مصروفیات میں سے بچوں کے لیے وقت نکال کر انہیں تفریحی مقامات کی سیر کرانے
کے ساتھ ساتھ ایسے مقامات کی بھی سیاحت کروائیں جن کے ذریعے انہیں اپنے ماضی اور
تاریخ کا علم ہو سکے۔ تاکہ تعطیلات میں بھی تعلیم سے ان کا لگاؤ برقرار رہے۔تعلیمی
سیر جیسے عجائب گھر، سائنس میوزیم اور تاریخی مقامات کی سیر و سیاحت سے طلبہ کو
سیکھنے اوربراہِ راست مشاہدہ کا موقع حاصل ہوتا ہے۔
2)
بچوں کے ساتھ روزانہ کسی
پارک، تفریحی مقام، نہر کے کنارے یا ساحل سمندر پر تفریح کا پروگرام ترتیب دیں۔
کھلی فضا،مناظر فطرت کے مشاہدہ کے علاوہ جسمانی اور ذہنی صحت پر شاندار اثرات مرتب
کرتی ہیں۔ خاص طور پر صبح کے وقت کلیوں کا چٹکنا اور پھول بننا، پرند وں کی
چہچہاہٹ، سورج و چاند کا طلوع و غروب ہونا،، ستاروں کا چمکناپوری کائنات کاآفاقی
نظام فطرت بچوں کو اللہ کے احکامات کی پیروی اور پاسداری کے اصول سکھاتے ہیں۔
3)
مطالعاتی دورہ کا پروگرام
بچوں کے ساتھ مل کر بنائیں۔ انہیں مشاورت میں شامل کریں اور باہمی ڈسکشن سے جگہ کا
تعین کیجیے۔ کتنے دن گزارنے ہیں اور جانے کے لئے کسی ذرائع آمدورفت کا انتظام کرنا
ہے۔
4)
سیاحت کے حوالے سے ہمارا ملک
کسی جنت سے کم نہیں ۔ یہاں سانسیں روک دینے والی قدرتی خوبصورتی جیسے برف سے ڈھکی
چوٹیاں، سرسبز سبزہ زار، بنجر چٹانیں اور چکردار پہاڑیاں، جنگلات، زرحیر میدان،
دریا، صحرا اور ساحلی علاقے، غرض ہمارا ملک کسی جنت سے کم نہیں۔ یہاں تاریخی
یادگاریں بھی موجود ہیں اور ایسے مقامات کی بھی کمی نہیں جو تفریح، تحقیق اور
ماحولیاتی سیاحت کے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔
مطالعاتی دورے کی منصوبہ بندی
کرتے ہوئے درج ذیل باتوں کو ضرور مدِ نظر رکھیں:
1)
موسم کی صورتحال کا علم ہو۔ کوشش کریں کہ مطالعاتی دورے پرجانے کا پروگرام
برسات کے موسم میں نہ بنے۔
2)
مکمل اخراجات کا تخمینہ
3)
تفریحی مقام کا گھر سے فاصلہ اور وہاں پہنچنے
کے لیے مناسب سواری کا انتظام
4)
لباس و دیگر ضروریات جیسے خدا نخواستہ بیماری
یا چوٹ وغیرہ لگنے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے سامان کی دستیابی
5)
تفریحی مقام پر رہائش/سستانے اور آرام کرنے کا
بندوبست
6)
تفریحی مقام کے حوالے سے ضروری معلومات کا حصول
7)
آنے جانے اور تفریحی مقام پر قیام کے متعلق
ٹائم ٹیبل کی تیاری
مطالعاتی دورے کے دوران درج ذیل باتوں کو مد
نظر رکھیں:
1) تفریح کے دوران ہر بچے کی خواہش
ہوتی ہے کہ وہ قدرت کے حسین مناظر اور نظاروں سے لطف اندوز ہو۔ بعض
اوقات تفریحی مقامات پر جانے والے بچے خطروں سے کھیلتے ہیں، دوران سفر گاڑی یا
ٹرین سے ہاتھ باہر نکالتے ہیں، بس کی چھتوں پر بیٹھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ
بچوں میں تحفظ کا احساس اجاگر کیا جائے اور سیروتفریح کے دوران نظم و ضبط کی
پابندی سکھائی جائے۔
از
مالک خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں