سائنس
ایجوکیشن روزمرہ زندگی میں بے حد معاون ہے ۔ایک معروف سائنسدان کا کہنا ہے کہ
سائنس اور ریاضی میں کمزور افراد اکثر چکرا کر غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ترقی یافتہ
ممالک نے اسی لیے سائنس اور ریاضی کی تعلیم پر خاص توجہ دی ہے اور ہر دن نت نئے
تجربات کی مدد سے سائنس ایجوکیشن پرخصوصی فوکس کیاجا رہاہے ۔ قدیم یونان میں علوم
ریاضی و الجبرانصاب تعلیم میں بنیادی
حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ باقی مضامین میں بھی برتری رکھتے تھے
کیونکہ ریاضی اور سائنس طلبہ و طالبات کی ذہنی گرہوں کو کھولنے اور مقیاس ذہانت
بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سائنس اور ریاضی پڑھتے
ہوئے رٹہ لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ
ان کے تصورات ہماری سمجھ میں آ رہے ہوتے ہیں اور غیر شعوری طور پر ہماری ذہنی سطح
میں اضافے کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔
برٹش سائنس ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈیم اتھن
ڈونلڈ کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر تک کے افراد کو ریاضی اور سائنس پڑھانے سے
زیادہ عقلمند آبادی پیدا ہو گی۔پروفیسر ڈونلڈ نے برٹش سائنس فیسٹیول سے اپنے خطاب
میں برطانیہ کے تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر زور دیااوریہ دلیل دی کہ
طلباء کو کم عمری میں ہی کسی مخصوص مضمون کی طرف رجحان بڑھا کر وہی پڑھنے کو کہا
جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو اپنی نجی زندگیوں کے بارے میں بہتر فیصلے
کرنے کا اختیار دینے کی ضرورت ہے، چاہے وہ ویکسینیشن ہو، موبائل فونز ہوں اور
موسمیاتی تبدیلی کی بات ہو۔پروفیسر ڈونلڈ کے خیال میں ان تمام چیزوں کے لیے ضروری
ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان سائنس میں دلچسپی لیں اور اسے سیکھیں۔
اگر ہم مسلم دنیا کا اقوام
عالم کے ساتھ موازنہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سائنسی تعلیم میں ہمارے کم رجحان
کی وجہ سے ہم اپنے طلبا میں سائنسی سوچ استوار کرنے میں دیگر ممالک سے بہت پیچھے
ہیں۔ طلبا کو دیگر اقوام کے شانہ بشانہ کھڑاکرنے میں ہم اپنے وسائل کو پوری طرح
بروئے کا نہیں لا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا کے کسی بھی ملک نے سائنس کے
فروغ میں دل چسپی نہیں لی، حالانکہ کئی اسلامی ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں
اور سائنسی تعلیم وتحقیق پر اٹھنے والے اخراجات بہ آسانی برداشت کرسکتے ہیں۔ لیکن
مفت کی دولت ملنے کے سبب ان ممالک کے لیے دنیا کی ہرچیز خرید لینا آسان ہوگیا ہے
جس کی وجہ سے انہیں سائنس اورٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرنے کی ضرورت بھی محسوس
نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہے کہ 55اسلامی ممالک صنعت وحرفت کے میدان میں مغربی اقوام
میں سے کسی ایک کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ تیل کی دولت ختم ہونے پر ان ممالک کا
انجام کیا ہوگا، اس کی انہیں کوئی پروا ہ نہیں ہے۔
اگر ہم اسلامی
دنیابالخصوص پاکستان کی اقتصادی پس ماندگی اورسائنس اورٹیکنالوجی کے شعبے میں اس
کی پستی کا ترقی یافتہ ممالک سے تقابل کریں توصورت حال مزید واضح ہوسکے گی۔55خود مختار اسلامی ممالک پر
مشتمل’’اسلامی دنیا‘‘کی مجموعی قومی پیداوار1150 ارب امریکی ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اس
کے مقابلے میں جرمنی کی پیداوار 2400ارب ڈالر، جاپان کی پیداوا ر5100ارب ڈالر
ہے۔(سائنس کی اعلیٰ تعلیم اورپاکستان ، ڈاکٹر عطاء الرحمان، صفحہ22-21)
دنیا
میں ہونے والی سائنسی تحقیق پراٹھنے والے کل مصارف میں اسلامی دنیا کا حصہ صرف ایک
فی صد ہے۔اس وقت دنیا بھر میں ایک سال کے اندر تقریباً ایک لاکھ سائنسی کتب اور
2لاکھ سائنسی مقالات شائع ہوتے ہیں۔ ان میں اسلامی ممالک سے شائع ہونے والی کتب
ومقالات کی کل تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔امریکہ میں ایک معیاری یونیورسٹی (اور
امریکہ میں ایسی بیسیوں یونیورسٹیاں موجود ہیں ) کا سالانہ بجٹ ایک ارب امریکی
ڈالر، یا اس سے زیادہ ہے، جب کے پاکستان میں سائنس وٹیکنالوجی پر کل 8کروڑ ڈالر
سالانہ خرچ کیے جاتے ہیں۔یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے
شعبے سے منسلک سائنس دانوں کی تعداد امریکہ میں ساڑھے نو لاکھ سے زائد، جاپان میں
تقریباً آٹھ لاکھ، بھارت میں ایک لاکھ36 ہزار اور پاکستان میں صرف12ہزار ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سکولوں
میں سائنس پڑھانے بلکہ رٹانے کا مطلب ہے کہ صرف وہ پڑھایا جائے جو کتاب میں لکھا
ہواہے۔ اس کے علاوہ طلباء کواور کچھ نہیں بتایا جاتا اور وہ چیزیں جو طلباء کلاس
میں پڑھتے ہیں اسے وہ اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ہمارے
اساتذہ اس چیز سے بے خبر سائنس پڑھاتے ہیں کہ اس سطح پر سائنس کی بچے کے لیے ضرورت
و اہمیت کیا ہےحالانکہ ضروری ہے کہ ہم بچے کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو کلاس روم میں پڑھائے جانے والے سبق کی مدد
سےبڑھانے اور بہتر کرنے کی کوشش کریں۔
ملک بھر کے
سائنس اورریاضی کے اساتذہ کے مابین نشستیں
اور کانفرنسیں ہونی چاہییں جن میں یہ اساتذہ سائنس اور ریاضی پڑھانے کے لیے منفرد
طریقے پیش کریں۔ بچوں کے تجربات او ر مشاہدات کو کلاس میں ڈسکس
کر کے استاد ان کے مزید سیکھنے کے مواقع پیدا کرے اور ان کے تصورات واضح کرے۔
سائنسی انداز فکر طلبا کو سوچنے اور ذہن میں ہر اٹھنے والے سوال کےجواب تلاش کرنے
پر ابھارتا ہے ۔یہ تخلیقی سوچ پیدا کرتا ہے۔ اگر بچوں کو کلاس میں سرگرمیوں کا
موقع دیا جائے تو وہ کڑی سے کڑی ملاتے اور سیکھتے چلے جاتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ذہین طلبا کی
کمی نہیں ہے جو یقیناً آگے بڑھنا اور کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہم ان طلبا کے سائنسی انداز فکرکو بگاڑتے ہیں
اور ان کے خیالات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہم انھیں وہی پرانے دقیانوسی سائنسی
نصاب پڑھانے میں مصروف ہیں اور ان کے سوالات کا تسلی بخش جواب نہیں دیتے۔ ہمارے
اساتذہ صرف انہیں امتحان کے لیے تیار کرتے ہیں، نہ کہ مستقبل کی زندگی کی تیاری
کرواتے ہیں۔ دنیا میں ہر لمحے ایک نئی سائنسی ایجاد یا دریافت ہو رہی ہے، نئی
ٹیکنالوجی پیش کی جا رہی ہے، کام کرنے کے بہتر اور موثر طریقے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔
اس تناظر میں آپ تصور کریں کے اب سے پندرہ ، بیس سال بعد دنیا بھر
کےطلباء کون سے تصورات پڑھ رہے ہوں گے ۔ لیکن ہم اپنے بچوں کو مستقبل کے لیے تیار
نہیں کررہے۔ لازم ہے کہ ان طلباء کی سائنسی سوچ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور
سائنسی بنیادوں پر ان کی تربیت کی جائے
تمام مقاصد کے حصول کے لیے سب سے اہم کردار
استاد کا ہے۔ ایک قابل سائنس ٹیچر ان طلباء کی تقدیر بدل سکتا ہےلیکن ہمارے اکثر
سائنس ٹیچر اس حوالے سے پیچھے ہیں۔ہمارے اساتذہ سائنس کی ڈگریاں تو لے کر آتے ہیں
لیکن ان معلومات کو بچوں تک کیسے پہنچایا جائے، پڑھایا کیسےجائے،
سائنسی نصاب کیسے مرتب کیا جائے، بچوں کے سیکھنے کو کیسے جانچا جائے، اس بارے میں
انہیں کچھ علم نہیں ہوتا۔ سائنس کے اساتذہ کی مناسب اور جدید تربیت انتہائی
ضروری ہے اور اس کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔
دنیا بھر میں سائنس کیسے
پڑھائی جاتی ہے ؟ اور کیا طریقےاستعمال کیے جاتے ہیں جن کی مدد سے بچوں میں سائنس
کا شوق بڑھایا جا سکتا ہے؟ کیا سائنس پڑھانے کے لیے کلاس روم سے باہر نکلنا ضروری
ہے؟ کیا ہر سبق کے لیے سائنس لیب کا استعمال ہونا چاہیے؟ یہ اور اس جیسے کئی
سوالات آج بھی ہمارے ملک میں اساتذہ کے تربیتی پروگرامز کا حصہ نہیں
ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سائنس اور ریاضی کی تدریس کو لگے بندھے طریقوں کی بجائے
جدید طریقہ ہائے تدریس سے پڑھایا جائے تا کہ ہمارے طلبا کی ذہنی نشوونما ہو سکے ۔
ان کے اذہان کے دریچے کھل سکیں اور وہ مسائل کے حل کے لیے خود سے تیار ہو سکیں۔ ان
کا مقیاس ذہانت بڑھ سکے اور وہ حقیقی معنوں میں عقلمند اور ذہین طلبا اور شہری بن
سکیں تا کہ ملک و قوم کے لیے مفید کردار ادا کر سکیں۔
از
مالک
خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں