جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں تین بنیادی جذبات پائے جاتے
ہیں۔خوف، غصہ اور محبت۔ لیکن جب بچہ بڑا ہوتاجاتا ہے تو اس میں دیگر جذبات
مثلاًحسد،نفرت وغیرہ بھی پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس طرح عادات گھریلوتربیت
کیوجہ سے بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں اسی طرح بچوں کے ڈر اور خوف بھی زیادہ تر گھریلو
تربیت کیوجہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں ۔بچوں کی بہتر تربیت اور اُن کے جذبات و احساسات
کی تعمیر کے لیے معلم اہم کردار ادا کرتا ہے۔وہ ناصرف اُن کے خوف کو دور کر سکتا
ہے بلکہ خوف کا مثبت استعمال کر کے بچوں کی شخصیت کو نکھا ر سکتا ہے۔
خوف کی
انواع و اقسام اور کیفیات:
ہر وہ شے جس سے بچہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرے اس سے بچے
کو خوف آتا ہے۔ جب بچے پانچ چھ ماہ کے ہوتے ہیں تو اس وقت ان میں برائے نام قسم کے
خوف ہوتے ہیں لیکن بچے کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ خوف کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے
اور ان میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔
بچے کے خوف اس کے قریبی ماحول میں انسانوں اور اشیاء سے منسلک
ہوتے ہیں۔ بچوں میں سب سے زیادہ خوف مافوق الفطرت اور پراسرارچیزوں سے پایا جاتا
ہے۔ بچوں میں عموماً جانوروں کاخوف پایا جاتا ہے بالخصوص ایسے جانور جن کو بچوں نے
پہلے کبھی نہیں دیکھاہوتا۔بچے عام طور پر ڈاکٹروں، کتوں،اونچی آواز،شور،طوفان
،اجنبی اشخاص ،اونچی جگہوں اور اندھیرے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔اس کے علاوہ بچے
گرنے سے بھی خوفزدہ ہوتے ہیںیا ایسی اشیا سے جو تکلیف دہ تجربات سے منسلک ہوں۔
اگر موقع بدل جائے تو بچے میں خوف کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے
۔مثلاً اگر بچہ اکیلا ہے تو پھر کتے کی موجودگی اس کے لیے خوف کاباعث بن سکتی ہے۔
لیکن اگر بچے کے پاس اس کی والدہ یاپھر ایسا بالغ آدمی جس پر بچہ بھروسہ کر سکے،
کھڑا ہو تو پھر وہ زیادہ خوف محسوس نہیں کرے گا۔
خوف
پیدا کرنے والے مواقع:۔
1)
ایک بچہ جس نے اپنی آنکھوں سے کسی حادثے کو وقوع پذیر ہوتے
دیکھا ہو تو وہ اس حادثہ والی جگہ کو خوفناک سمجھ کر وہاں جانے سے بھی ڈرتا ہے یا
اس آدمی سے ملنے سے بھی ڈرتا ہے جس کو اس نے کسی آدمی کو بے دردی سے مارتے دیکھا
ہو۔
2)
ایک بچہ اس وقت بھی خوف محسوس کرے گا جب اس نے کوئی غلط قسم کی
شرارت کی ہو اور وہ محسوس کرے کہ اس کے استاد، والدین اور دوسرے لوگوں کو پتہ چل
گیا تو پھر نہ جانے کیا ہو۔
3) سکول میں بچے اس وقت بھی خوف محسوس کرتے ہیں جب
انہیں کہا جائے کہ آپ کاٹیسٹ لیا جائے گا وہ سمجھتے ہیں کہ فیل ہونے کی صورت میں
انہیں سزا ملے گی یا پھر گھر سے بے عزتی ہوگی اور بعض اوقات وہ ٹیسٹ کے خوف سے
بیمار بھی ہوجاتے ہیں۔
4) بعض اوقات دوسروں سے کوئی بات سننے سے ہی خوف
پیدا ہوجاتا ہے ایک فرد سانپوں سے صرف اس لیے ڈرتا ہے کہ اس نے دوسروں سے سن رکھا
ہے کہ یہ خطرناک ہوتے ہیں اور نقصان دہ بھی۔
5) اکثر بچے سامعین کے سامنے بولنے سے ڈرتے ہیں اس
لیے نہیں کہ وہ بول نہیں سکتے بلکہ وہ خوف محسوس کرتے ہیں کہ سامعین کو خطاب کرنے
وہ بعض سامعین کی تضحیک اور تنقید کانشانہ بنیں گے۔
6) بعض بچوں کی پرورش ایسے گھر یا ماحول میں کی
جاتی ہے کہ جہاں بار بار انہیں خوفزدہ کر کے انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش کی جاتی
ہے جس سے بچوں کے لیے اُن خوائف سے نکلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
خوف کے
اچھے اثرات:۔
خوف کے
کچھ اچھے اثرات درج ذیل ہیں:۔
1)
خوف تحریک کاذریعہ بنتا ہے ۔ فیل ہونے کاخوف ہمیں مطالعہ کرنے
پر آمادہ کرتا ہے۔
2) ایک فرد کوئی کام کرتا ہے تو اُس کی بنیاد بھی
خوف ہو سکتا ہے کہ کہیں وہ توقع پر پورا نہ اترنے کی صورت میں ذلیل نہ ہوجائے۔
3) خوف جسم کوطاقت دیتا ہے۔ جذباتی حالت میں وہ
مشکل کام کیاجاسکتا ہے جو ایک فرد عام حالت میں نہیں کرسکتا ۔مثال کے طور پر ایک
فرد جس کے پیچھے کتا بھاگ رہاہو وہ پانچ فٹ کی اونچی دیوار بھی پھلانگ جائیگا جو
وہ عام حالت میں نہیں پھلانگ سکتا۔
4) کسی فرد کو تعمیری کاموں کی طرف لگانے کے لیے
بھی خوف کااستعمال کیاجاسکتا ہے ۔ ایک آدمی اپنے غصہ، محبت، نفرت یاحسد کی بنا پر
کوئی فعل سرانجام دے سکتا ہے لیکن نتائج کا خوف اس فرد کو حدود کے اندر رکھتا ہے۔
5) خوف کاعنصر ہی ہے جو ایک فرد کو روایتی اور
معاشرتی پابندیاں برقرار رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
6) خوف انسانوں کو نیک کاموں کی طرف راغب کرتا ہے۔
ایک مسلمان کو دوزخ کاخوف ہی نیک کام کی طرف مائل کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔
خوف کے
برے اثرات:
خوف کے
برے اثرات درج ذیل ہیں:۔
1)
خوف سے بے چینی ، بے خوابی، سردرد، اور تھکاوٹ ہوجاتی ہے۔
2) خوف سے تعلم کی اہلیت متاثر ہوتی ہے۔ فراموشی
میں اضافہ اور حافظہ میں کمی ہوتی ہے۔
3) خوف کی وجہ سے فرد کسی مسئلہ کی طرف توجہ مرکوز
نہیں کرسکتا اور ذہنی کشمکش کاشکار ہتا ہے۔
4) خوف کی وجہ سے سوچنے کاعمل شدید حد تک متاثر
ہوتا ہے۔
5) خوف کی وجہ سے معدہ کاعمل بھی متاثر ہوتا ہے۔
6) خوف انسانی شخصیت کو بھی کافی حد تک متاثر کرتا
ہے۔
خوف کی
روک تھام اور معلم کاکردار:۔
بچوں
میں خوف کی روک تھام کے لیے مندرجہ ذیل وسائل سے کام لیاجاسکتا ہے۔ اس میں معلم
اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
1)
خوف پیدا کرنے والی اشیاء یا مقامات سے بتدریج روشناس کرانے سے
خوف کی شدت کو کم کیاجاسکتا ہے۔ اس طرح تدریجی تربیت سے معلم بچوں میں موجود کئی
قسم کے خوف دور کرسکتا ہے۔
2) بچوں کے بارے میں یہ معلوم کیاجائے کہ وہ کن
چیزوں سے ڈرتے ہیں پھر ان اشیاء کے متعلق دلچسپ باتیں بتائی جائیں تاکہ بچوں میں
ان چیزوں سے انسیت بڑھے۔
3) بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کی استعداد سے
باہر ہوتے ہیں ۔ معلم کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے کام کرنے پر مجبور نہ کرے جو ان
کی استعداد سے باہر ہوں۔ استعداد سے باہر ہونے کی صورت میں بچے اس کام کو کرنہیں
پائیں گے اور خوف کاشکار ہوجائیں گے۔
4) بچوں میں خوف دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معلم
ان میں خود اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ معلم بچوں کو
مختلف کاموں کے لیے ذمہ داریاں سونپیں اور ان میں کام کرنے کے لیے پہل کاجذبہ پیدا
کرے۔
5) اگر کوئی بچہ خیالی خدشات اور توہمات کاشکار ہو
تو معلم کو چاہیے کہ وہ ایسے بچے کو کسی نفسیاتی کلینک میں علاج کے لیے بھیجے۔
6) بچوں سے خوف کو دور کرنے کے لیے استاد غصہ
کااستعمال بھی کرسکتا ہے ۔
7) معلم اور تعلیمی ادارہ کافرض ہے کہ وہ خوف سے
چھٹکارے کے لیے بچوں کی رہنمائی اور مشاورت کااہتما م کرے۔
8) معلم کو چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے تفریحی اور
تعمیری سرگرمیاں ترتیب دے اس سے اُن میں راحت اور خوشی کے جذبات پروان چڑھیں گے۔
9) معلم کو چاہیے کہ گھرکے لیے بچوں کو مناسب کام
دے تاکہ ان کے ذہن میں یہ خوف نہ آئے کہ کام نہ کرنے کی صورت میں اُن کی پٹائی ہو
گی۔
10) معلم کو چاہیے کہ
وہ بچے کی مسلسل تربیت کافریضہ سرانجام دے کیونکہ تربیت سے بچے کے رویے میں تبدیلی
آتی ہے۔
11)
معلم کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو فیل ہونیکی
دھمکی نہ دیتا رہے بلکہ ہر لمحہ ان کی حوصلہ افزائی کرتا رہے۔ حوصلہ افزائی سے بچے
میں پڑھنے کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے۔
12)
معلم کو چاہئے کہ وہ بچوں کو تضحیک اور تنقید
کانشانہ نہ بنائے بلکہ اُن کی نفسیات اور حالات و واقعات کے مطابق تعریفانہ اور
والہانہ جملے کہے۔
13)
سکول میں بچوں کو تفویض کیاجانے والا کام ایسا
نہ ہو جو ان کی بساط سے باہر ہو۔ ایسے کام سے بچوں میں خوف اور تشویش کی لہردوڑ
جاتی ہے۔ بچے اگر کسی مشکل کاشکار ہوں تو استاد کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کرے۔
14) جس طرح ایک لوہار
نرم اور گرم لوہے کو ہتھوڑے مار مار کر اپنی پسند کے مطابق شکل دیتا ہے ۔ اسی طرح
ایک معلم اپنی قابلیت سے بچوں کی تربیت کرکے ان کو اپنی خواہش اور پسند کے مطابق
ڈھال سکتا ہے ۔معلم کی تربیت سے ہی بچے ایسے خوائف سے دور رہ سکتے ہیں جو ان کی
تعلیم میں حائل ہوں۔
15)
بچوں کا خوف دور کرنے کے لیے اُن کے والدین سے
مسلسل رابطے اور رہنمائی بہت ضروری ہے۔بلاشبہ بچوں کی عمدہ تعلیم و تربیت معلم،
ادارہ اور والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
از
مالک
خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں