کھیل کھیل میں پڑھائی


تعلیم جسمانی اور مختلف قسم کے کھیل طلبا کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور صحت کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ بچپن میں فطری طور پر بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں جس سے اُن کے اعضائے جسمانی کی ورزش ہوتی رہتی ہے جو اُن کی بہتر نشوونما کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ورزش سے پھیپھڑوں میں تازہ ہوا اور آکسیجن کی رسائی ممکن بنتی ہے۔ کھیلوں سے جہاں بچوں کی بہتر نشوونما میں عملی معاونت ملتی ہے وہیں طلبا کی کردار سازی اور نفسیاتی تربیت میں بھی مدد ملتی ہے۔کھیلوں کی بدولت معاشرے کے دوسرے لوگوں سے مطابقت ، مل جُل کر کام کرنے اور تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس کی بنا پر اُن کی شخصیت اعلیٰ خطوط پر استوار ہو تی ہے۔ کھیل کے دوران بچے مل جل کر ٹیم کی صورت میں کھیلتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور ساتھی کھلاڑیوں سے تعاون کرنے کا میلان پیدا ہوتا ہے۔
زمانہ قدیم سے ہی مختلف قسم کے کھیل اور صحت مندانہ سرگرمیاں سکولز میں کروائی جاتی رہی ہیں تا کہ بچوں کو صحت مند بنا کر مطلوبہ اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔ تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ صحت مند بچے ہی تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جو بچے صحت مند نہیں ہوتے وہ سخت محنت کے باوجود بھی تعلیمی میدان میں بہتر نتائج فراہم کرنے سے محروم رہتے ہیں کیونکہ صحت مند دماغ صرف صحت مند جسم میں ہی ہو سکتا ہے۔اس لیے سکولز میں تعلیم جسمانی اور کھیلوں پر زیادہ سے زیادہ فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ جدید تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ بچے کو جو تعلیم کھیل ہی کھیل میں دی جائے وہ اس کی شخصیت کا لازمی حصہ بن جاتی ہے اور بچہ ایسے تعلم میں مکمل گرمجوشی سے حصہ بھی لیتا ہے تو نتیجتاً مطلوبہ اہداف ضرور حاصل ہوتے ہیں۔
چھوٹی کلاسوں میں کھیل کی سرگرمیاں
کھیل بچوں کامحبوب ترین مشغلہ ہی نہیں بلکہ زندگی کی علامت، صحت وعافیت کا ضامن، نشوونما میں معاون اور تعلیم وتربیت کاموثر ترین ذریعہ بھی ہے اس کے برعکس باقاعدہ تدریس عموماً ان کے لیے بیگار اور ان کی طبع نازک پر گراں بار ہوتی ہے۔ لکھنے پڑھنے جیسے خشک کام سے ان کی فطرت اکتاجاتی ہے۔ اس لیے چھوٹے بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم دینے اور مدرسے کے مختلف کاموں میں کھیل کی اسپرٹ پیدا کرنے پر غیر معمولی زور دینا ضرورت وقت ہے۔
ننھے بچوں کو کھیل کے زیادہ مواقع دیے جائیں اور کھیلوں کو بھی تعلیم وتربیت کاذریعہ بنایا جاتا ہے۔چھوٹی کلاسز میں بچوں کو ایک ہی جگہ بٹھا کر سارا دن کتاب پر توجہ مرکوز کروانا یا اس طرح کی کوئی دوسری سرگرمی کروانا جہاں اُن کے لیے بوریت کا باعث بنتا ہے وہیں اُن کے دلوں میں سکول کے ماحول سے نفرت کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ چھوٹے بچے ایک ہی جگہ بیٹھے رہنے سے ذہنی طور پرتھک جاتے ہیں جس سے موثر تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔
چھوٹے بچوں کے لیے کھیل کھیل میں تدریس کروائی جانی چاہیے تا کہ وہ کھیل کھیل میں سیکھ سکیں اور نہ صرف اس سے وہ لطف اندوز ہوں بلکہ موثر تدریس بھی ہو سکے ۔چھوٹے بچوں کے لیے ہر سبق کے حوالے سے کوئی نہ کوئی کھیل پر مبنی سرگرمی ڈیزائن کی جائے کہ جس سے وہ مکمل طور پر تندہی سے حصہ لیں اور نتیجتاً کچھ نہ کچھ سیکھ سکیں ۔چھوٹے بچے خاص طور پر کھیل کے رسیا ہوتے ہیں اور اگر سکول میں انہیں کھیلنے کے مواقع اور کھیل کی سرگرمیاں فراہم کی جائیں تو یقینی طور پر ان کے لیے سکول سے محبت اور سکول آنے کا شوق پیدا ہو گا جس سے اُن کی تعلیم و تربیت بہتر طور پر عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔
بڑی کلاسوں میں کھیل کی سرگرمیاں
تعلیم جسمانی اور کھیلوں کو بڑی کلاسوں میں خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ بڑی کلاسز میں بچوں کو صحت مند رکھنا اور زیادہ ضروری ہو جاتا ہے ۔ اگر انہیں کھیلوں میں مشغول رکھ کر اور مقابلے کی فضا پیدا کر کے ان کی طاقت کو مثبت رُخ نہ دیا جائے تو وہ بے راہ روی کا شکار ہو کر اپنی صلاحیتوں کو برباد کر سکتے ہیں ۔اس لیے عمر کے اس حصے میں جہاں انہیں مثبت رہنمائی کی اشد ضرورت ہے وہیں اُن کی صلاحیتوں کو مثبت رُخ دینے کے لیے کھیلوں کی ضرورت ہے۔
بڑی کلاسز کے کھیلوں میں فٹ بال، ہاکی، کرکٹ، باسکٹ بال، بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس اور اتھلیٹکس وغیرہ ہو سکتی ہیں جن کا باقاعدہ انعقاد مثبت نتائج کا ضامن ہے۔ ایک مثل مشہور ہے کہ جس قوم کے میدان آباد ہوتے ہیں اس کے ہسپتال ویران ہوتے ہیں ۔اس لیے ہمیں آج کھیلوں کو رواج دے کر اپنے میدان آباد کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم اپنے طلبہ و طالبات کو صحت مند بنا سکیں۔

کھیلوں کے فائدے
کھیلوں سے بچوں کو حقیقی مسرت نصیب ہوتی ہے، ان کاغم غلط ہوتا ہے، ان کی الجھنیں اور پریشانیاں دور ہوتی ہیں، ان کے چہرے شگفتہ رہتے ہیں، ان کے جذبات کی تسکین ہوتی ہے اور بحیثیت مجموعی ان کی شخصیت کو ہم آہنگی کے ساتھ پروان چڑھانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ کھیلوں سے بچوں کو مندرجہ ذیل فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
1.      زبان کی افزائش:
v     جب ڈرامائی کھیل کھیلے جاتے ہیں جس میں بچہ کوئی بھی کردار ادا کرتا ہے تو وہ اس کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے اور بولنے کی کوشش کرتا ہے اس سے اس کی زباندانی میں اضافہ ہوتا ہے۔
v     بچے کو چیز حاصل کرنے ، سوال پوچھنے ، یااپنی بات بتانے کے لیے اور کھیل کو چلانے کے لیے زبان استعمال کرنی پڑتی ہے۔
v      کھیل کھیلتے ہوئے بچہ لفظوں ، آوازوں اور جملوں کی مشق کرتا ہے اور کھیل میں ہی گرائمر سیکھتا رہتا ہے۔
2.      جسمانی فائدے:
کھیلوں میں جسم کوکافی حرکت دینی پڑنی ہے اور جسمانی محنت ومشقت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس لیے سانس کی آمدورفت ، دوران خون، نظام انہظام اور نظام اخراج وغیرہ میں باقاعدگی رہتی ہے، اعصاب اور عضلات پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے اور اعضا اپنی اپنی جگہ ٹھیک کام کرتے ہیں۔ محنت ومشقت کے لیے جسم میں توانائی اور امراض کامقابلہ کرنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ بحیثیت مجموعی صحت ٹھیک رہتی ہے اور نشوونما اور بالیدگی میں بڑی مدد ملتی ہے یعنی چلنے پھرنے، دوڑنے بھاگنے کے کھیلوں میں بچہ جسم کو استعمال کرتے ہوئے Gross Motor Skills کو ترقی دیتاہے اور چھوٹی چیزوں اور کھلونوں سے کھیلتے ہوئے اپنی دستی مہارت Fine Motor Skills کو تقویت بھی دیتا ہے۔
3.      ذہنی فائدے:
کھیلوں میں بچوں کو مختلف قسم کے حالات اور طرح طرح کے ہم جولیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ان سب سے نمٹنے کے لیے انہیں سوچنے سمجھنے اور ہروقت فیصلہ اور اقدام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ توجہ اور انہماک کی
تربیت ہوتی ہے۔ تجربات ومشاہدات میں اضافہ ہوتا ہے۔
4.      جذباتی و معاشرتی فائدے:
بچہ جب کھیلتا ہے تو اسے زبانی یااشاروں کی مدد سے دوسروں کے ساتھ رابطہ رکھنا پڑتا ہے جس سے کھیل میں شامل رہ سکتا ہے۔ اس طرح کرنے سے اسے دوسروں کی سوچ کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے۔ جب کھیل میں بچوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے تو دوسروں کے نقطہ نظر کی اہمیت کااندازہ ہوتا ہے۔
اجتماعی کھیلوں کے ذریعے بچے اپنے ہم جولیوں کے ساتھ تعاون و ہمدردی ، قاعدوں، ضابطوں کی پابندی ، مقابلہ ومسابقت میں اعتدال ، اطاعت وقیادت اور دھاندلیوں کامقابلہ اور اپنی باری کاانتظار کرنے کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ ہم جولیوں کاپاس ولحاظ کرنا، لاقانونیت کی حد تک بڑھتی ہوئی آزادی کو دوسروں کی خاطر محدود کرنا اور اپنی خواہشات اور ذاتی دلچسپیوں کو اجتماعی مفاد پر قربان کرنا بھی وہ منظم کھیلوں کے ذریعے سیکھتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں بچوں کے لیے تعلیمی سرگرمیاں ایسی ڈیزائن کی جائیں جو کھیلوں پر مشتمل تعلم پر مبنی ہوں وہیں بچوں کو سکولز میں مختلف ورزشیں اور کھیل باقاعدگی سے کروائے جائیں ۔یہ کھیل اور ورزشیں کسی ماہر ٹرینر کی نگرانی میں کروائے جائیں اور موسم اور وقت کو ضرور مدِ نظر رکھا جائے لیکن واضح رہے کہ اگرمذکورہ اوصاف کے بجائے کھیلوں ہی کو مقصود بنادیا جائے گا تو ان کامظاہرہ صرف کھیل کے میدانوں ہی میں ہوگا۔
ضروری نہیں کہ روزمرہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی ان اوصاف کامظاہرہ ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ کھیل کو صرف ذریعہ سمجھا جائے اور مختلف کاموں میں کھیل کی اسپرٹ پیدا کرکے رفتہ رفتہ ان اوصاف کو پروان چڑھانے کی فکر کی جائے۔
از
مالک خان سیال

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں