بچوں کو اوائل عمری میں اگر پسندیدہ عادات و اطوار کا پابند
بنانے کی کوشش نہ کی جائے تو بچے اپنے تجربے اور دوسروں کی تقلید کر کے کچھ نہ کچھ
عادات ڈال ہی لیں گے اور ایسی صورت میں قوی اندیشہ اسی بات کا ہوتا ہے کہ پسندیدہ
کی عدم موجودگی میں ان کے عادات و اطوار عموماً نا پسندیدہ ہی ہوں گے جو ان کی
سیرت و شخصیت کو سب کی نظروں میں برا بنا دیں گے اور بعد میں اصلاح کرنا بھی مشکل
ہو جاتاہے۔
1)
بچوں میں بگڑنے کی عموماً درج ذیل وجوہات ہوتی ہیں جن کی بنا
پر ان میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب تک صحیح اسباب کی تشخیص کر کے ازالے کی کوشش نہ
کی جائے بچے کا سدھرنا بہرحال مشکل ہوتا ہے۔بچے اپنے ماحول کی پیدا وار ہوتے ہیں
اور اپنے گردو پیش لوگوں کو جو کچھ کرتے دیکھتے ہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر
انہی کی تقلید کرتے ہیں ۔اگر گھریلو ماحول اچھا نہ ہو گا اور گھر کے لوگ مختلف قسم
کی خرابیوں میں مبتلا ہوں گے تو بچے پر لازمی طور پر ان خرابیوں کا اثر پڑے گا۔
2)
والدین یا گھر کے دوسرے افراد کے باہمی تعلقات کی ناخوشگواری
بھی بچوں کے بگاڑ کا موجب بنتی ہے ۔روز کی تو تو میں میں ،جھگڑا بکھیڑا اور شکوہ
شکایت اچھے بھلے گھر کو جہنم بنا دیتی ہے۔جو بچے ایسے گھروں میں پلتے ہیں وہ مختلف
قسم کی اخلاقی اور ذہنی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ایسے سکولز اور ادارے جہاں
اساتذہ کے باہمی تعلقات خوشگوار نہ ہوں بچوں کے بگاڑ کا اڈہ بن جاتے ہیں۔
3)
ناروا سلوک خواہ والدین کی طرف سے ہو یا اساتذہ کی طرف سے ،
بہن بھائیوں کی طرف سے ہو یا جماعت کے ساتھیوں اور ہم جولیوں کی طرف سے یہ بھی
بچوں کے بگاڑ کی وجہ بن جاتا ہے مثلاً نفرت ، تحقیر، تمسخر، بار بار کی مار پیٹ یا
ڈانٹ پھٹکاروغیرہ۔
4)
بعض کو تاہیوں ، کمزوریوں یا جسمانی نقائص کی وجہ سے جب ایک
بچے کو عام طور پر کمتر سمجھا جانے لگتا ہے تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر بگڑنے
لگتا ہے۔
5)
بچے اپنی صحبت سے بہت گہرا اثر لیتے ہیں اور برے اور بگڑے ہوئے
بچوں کی صحبت میں پڑ کر اکثر شریف والدین کے بچے بھی بگڑ جاتے ہیں۔
6)
بچے بہت سی باتیں کھیل میں اپنے ہم جولیوں سے سیکھتے ہیں
۔متوازن شخصیت پروان چڑھانے کے لیے اچھے ہم جولیوں کی صحبت نہایت ضروری ہے۔اپنے ہم
عمر بچوں کی صحبت سے محرومی بھی بگاڑ اور خرابیوں کا موجب ہوتی ہے۔
7)
فرصت کے اوقات کے لیے اگر مناسب مصروفیات اور تعمیری مشاغل کا
بندوبست نہ ہو تو بے کاری بھی بچوں کے بگڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔
8)
بچوں سے بعض کوتاہیاں اس لیے بھی سرزد ہو تی ہیں کہ وہ بعض
ناروا باتوں کا تجربہ کر کے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ دیکھیں ایسا کرنے سے کیا ہوتا
ہے اور یہی تجربہ نادانی کے باعث بگاڑ کا موجب بن جاتا ہے۔
9)
بچوں میں خود اعتمادی اور قوت ارادی کی کمی بھی بعض اوقات ان
کے بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔
10) بہت سی نا زیبا حرکات
بچوں سے اس لیے بھی سرزد ہوتی ہیں کہ وہ بڑا بننااور ہم جولیوں میں نمایاں ہونا
چاہتے ہیں۔جب اس جذبے کی تسکین کے لیے مناسب راستہ نہیں ملتا تو غلط راستہ اختیار
کرتے ہیں۔
11)
بچوں میں محبت ،شفقت اور جائز ناز برداری سے محرومی بھی بگاڑ
کا موجب بن سکتی ہے۔
12)
غیر معمولی لاڈ پیار بھی بچوں کے بگڑنے کا بہت برا سبب ہے۔
13)
اعلیٰ تخیلات، پاکیزہ تصورات اور معیاری نصب
العین کا فقدان بھی بچوں کے بگڑنے کا ایک سبب ہے۔
14) کاہلی و سستی اور نکما
پن خواہ خود غرضی ،لاپرواہی اور بے تعلقی کی بنا پر ہو یا جسمانی و ذہنی کمزوریوں
کے باعث یہ بھی بچوں کے بگاڑ کا موجب بنتا ہے۔
15)
دن بدن بڑھتی ہوئی فحاشی ، بے حیائی اور فیشن
پرستی حالیہ دور میں بچوں کے بگڑنے کا بہت بڑا سبب ہے۔
16) سنسنی خیز فلمیں ،
جاسوسی ناول ، عریاں تصاویر اور فحش لٹریچر کی بدولت بھی ہزاروں بچے بگاڑ کا شکار
ہو رہے ہیں۔
معلم کا کردار
اکثر والدین اور اساتذہ بچوں کی بری حرکات پر انہیں یا تو سزا
دیتے ہیں یا کڑی نگرانی کر کے کوشش کرتے ہیں کہ وہ آ ئندہ باز آ جائیں۔اگرچہ یہ
دونوں طریقے بھی بسا اوقات کارگر ثابت ہوتے ہیں ۔ بچے کو جب کسی نا شائستہ حرکت کے
نتیجے میں سزا بھگتنا پڑتی ہے تو وہ درد اور تکلیف کے تلخ تجربات کی وجہ سے باز آ
جاتا ہے ۔اسی طرح جب کسی لغو حرکت کے اعادے کا زیادہ دنوں تک موقع نہیں ملتا تو اس
کی طرف میلان کمزور پڑجاتا ہے لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سزا کی وجہ سے
بچہ اور زیادہ بے باک ہو کر بری عادات کی طرف راغب ہو جائے۔اس لیے سزا یا کڑی
نگرانی پر بہت زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
ہر بچہ کے بگاڑ کی نوعیت اور اسباب جدا جدا ہوتے ہیں۔اس لیے سب
کا علاج بھی ایک ہی نسخہ سے نہیں کیا جاسکتا۔سب سے پہلے معلم کے لیے ضروری ہے کہ
وہ بگاڑ کے بنیادی اسباب کا پتہ لگائے اور کوشش کرے کہ اصل سبب دور ہو جائے۔
والدین اور معلم اگردرج ذیل تدابیر اختیار کر یں تو بچوں کے ہر
قسم کے بگاڑ کو روکنے میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے۔بچے کی کوتاہیوں کے باعث معلم کے
رویے میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ اُس سے غیر مشروط محبت کیجئے یعنی اس کی ذات نہ
کہ صفات سے اور اپنے قول و فعل اور سلوک وبرتاؤسے اسے اپنی محبت و شفقت کا یقین دلائیے۔
بچوں کو دلچسپی ، عمر اور صلاحیت کے مطابق تعمیری مشاغل اور گھر کی ذمہ داریوں میں
حصہ لینے کے مواقع دیں۔بچوں کو ان کی کوتاہیوں پر تنہائی میں پیار سے سمجھائیں۔
دوسروں کے سامنے ٹوکنے اور سزادینے سے گر یز کر یں ۔ بچے بہر حال نادان اور
ناتجربہ کار ہوتے ہیں اور بہت سی حرکات بنیادی خواہشات اور جبلی تقاضوں سے مجبور
ہو کر کر گزرتے ہیں اس لیے اُن سے بہت زیادہ یا ناممکن توقعات وابستہ نہ کریں ۔
بچوں کو کھیل اور اچھے ہم جو لیوں سے ملنے جلنے کے موقع فراہم
کریں۔بچے کو اعتماد میں لیجئے اور سبق آموز کہانیوں ،واقعات وغیرہ کی مدد سے
اچھائیو ں سے لگاؤ اور برائیوں سے نفرت پیدا کرائیے۔بچے میں بگاڑ زیادہ ہو جانے کے
سبب اُسے کسی دوسرے ماحول میں لے جائیں جہاں لوگ اس کے عیوب سے واقف نہ ہوں اور اس
کی شخصیت کا احترام کر یں۔ امید ہے اس طرح وہ نئے ماحول میں اپنا کھویا ہوا مقام
حاصل کر لے گا اور اسے برقرار رکنے کی کوشش میں کوتاہیوں سے بچے گا۔
بچے کی اعلیٰ خطوط پر تربیت والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمہ
داری ہے اور دونوں کو کما حقہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہو نا چاہیں۔ معلمین کو
سکولز میں ہر قسم کے بچوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہی عمر ہے کہ جس میں بچہ بگڑ بھی
سکتا ہے اور سنور بھی۔ معلم کی تھوڑی سی غفلت سے بچے کی زندگی تاریک ہو سکتی ہے
اور تھوڑی توجہ سے روشن بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معلم ہر بچے کو انفرادی توجہ
دے۔ اُن کے انفرادی اختلافات ،میلان طبع اور پسند ناپسند کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوتے
ان کی اس طر ح تر بیت کرے کہ ان کی طبیعت کی کجی دور ہو سکے۔ انہیں مارپیٹ یا ڈرا
دھمکا کر نہیں مشورے دے کر ان کی شخصیت کو نکھارے۔
معلم خود بطور رول ماڈل بچوں کے سامنے نہایت اعلیٰ اوصاف کا
مظاہرہ کرے گا تو یقیناًبچے بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے اعلیٰ اوصاف ہی اپنائیں گے۔
از
مالک خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں