کچی پکی

ماہر تعلیم فروبل کے نظریے کے مطابق بچے کی اندرونی فطرت تقاضا کرتی ہے کہ اسے خود بخود نشوونما پانے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نرسری کلاسز کے بچوں کی تعلیم عام طور پر سرگرمیوں پر ہی مشتمل ہوتی ہے۔فروبل کے مطابق انسانی ذہن مسلسل نشوونما پاتا ہے۔ اس نشوونما کے دوران بچے کی فطری صلاحیتیں جو بچے کی شخصیت میں پوشیدہ ہوتی ہیں اجاگر ہوتی ہیں۔اس مسلسل نشوونما میں اگر کوئی خامی رہ جائے تو وہ بچے کی آئندہ ساری زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔
نرسری میں بچے کی حیثیت ایک بیج کی سی ہوتی ہے جس میں نشوونما کی صلاحیتیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔استاد کے لیے ضروری ہے کہ بچے کے لیے ایسا سازگار ماحو ل اور سامان مہیا کرے جس میں بچہ اپنی فطری صلاحیتوں کی خود بخود نشوونما کر سکے۔اس نشوونما کے لیے زبانی تدریس کی بجائے آرٹ اور تصویری کہانیوں سے بھی موثر کا م لیا جاسکتاہے۔
تدریس بذریعہ آرٹ اینڈ کرافٹ
آرٹ ایک تخلیقی عمل ہے۔ایسا عمل جس میں تخیل اور تخلیقی فکر شامل ہیں۔خیالات کو مناسب ترتیب دینے کے مشاغل سے مدد لی جاتی ہے۔اس میں آرٹ، احساسات و خیالات کے اظہار کے ذریعے مدد لی جا سکتی ہے۔
v     علم کا کوئی شعبہ آرٹ کی لچکدار خاصیت کی برابری نہیں کر سکتا۔اپنی اس خصوصیت کے باعث آرٹ مختلف قسم کی شخصیات میں رچ بس جاتا ہے۔آرٹ کے تجربات ہر بچے کو اپنے آپ کو پہچاننے میں مدد دیتے ہیں۔آرٹ کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار بچہ، اپنی انفرادی صلاحیتوں اور ذہنی پختگی کے مطابق کر سکتا ہے۔ اس لیے اس کی اپنے آپ پربھروسہ کرنے اور فیصلہ کرنے کی قوت مضبوط ہوتی ہے اور وہ اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو ترقی دیتا ہے۔
v     تعلیم کا مقصد بچے کو ایک متوازن اور مضبوط شخصیت میں ڈھالنے کی کوشش کرنا ہے۔اگر بچے کو نرسری میں ہی آرٹ روشناس کروا دیا جائے تو اکثر اوقات بچہ آرٹ کے ذریعے اپنے مسائل کا حل تلاش کر لیتا ہے۔ اگربچوں کو آرٹ کے مختلف مشاغل میں مصروف کر دیا جائے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مسابقت کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
v      آرٹ میں بچوں کے اظہار کا طریقہ ذاتی اور جذباتی ہوتا ہے۔اگر بچوں کو کہیں کہ درخت کی تصویر بنائیں تو وہ مختلف بنائیں گے۔
v      آرٹ ذہین بچوں کے لیے ہمیشہ سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث ہے مگر آرٹ کے معالجانہ انداز نے ان بچوں کے لیے بھی جو مختلف قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں اور ان بچوں کے لیے جو کہ کند ذہن ہیں۔ اپنی اہمیت ثابت کر دی ہے۔
v      آرٹ کے مشاغل بچے میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں ۔مثلاً ایک بچہ جسے بولنے میں دقت ہوتی ہے اور وہ احساس کمتری کا شکار ہے ۔ایسے بچے کی مدد آرٹ ورک میں مشغول رکھ کر کی جا سکتی ہے۔
v       آرٹ مسائل کے حل کرنے کی مہارت کو بھی ترقی دیتا ہے۔
تدریس بذریعہ تصویری کہانیاں:
کسی دلچسپ واقعہ کو خواہ وہ حقیقی ہو یا فرضی دلچسپ انداز میں بیان کرنا کہانی سنانا کہلاتا ہے۔ لوگ قدیم زمانے ہی سے کہانیوں کے شوقین رہے ہیں۔ جیسا کہ کئی قومیں قصے کہانیاں شوق سے سنا کرتی تھیں ۔ اس بات کے تاریخی شواہد موجود ہیں کہ بچپن میں بہادری اور حب الوطنی کے متعلق سنی کہانیوں نے بعض لوگوں کو بہادری کے بڑے بڑے کارنامے انجام دینے کا راستہ دکھایا ۔
بچے خاص طور پر کہانیاں سننے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اچھی کہانیاں اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہیں۔ کیونکہ بچے خود کہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اس لیے قدیم زمانے ہی سے کہانیوں کو تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کہانیوں سے بچوں کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے ۔ذوق اور کردار کی تشکیل میں بھی مدد ملتی ہے۔اخلاق کی تربیت ہوتی ہے اور مختلف مضامین کی تدریس میں شوق اور دلچسپی پیدا کی جا سکتی ہے۔استاد اور طلبا میں دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں بھی کہانیاں اچھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
تصویری کہانیاں سناتے وقت درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
v     کہانی بچوں کی ذہنی سطح اور فہم کے مطابق ہوتی ہے
v      انداز بیان اور کہانی کے تاثرات ایسے ہوں کہ بچوں کی دلچسپی قائم رہے۔ کہانی کے دوران بچے یہ محسوس کریں کہ انہیں کسی خاص سبق یا موضوع کے لیے تیار کرنے کے لیے کہانی سنائی جا رہی ہے۔
v      کہانی کی طوالت میں بچوں کی عمر کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ وہ کوئی چیز کتنے عرصے تک توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سن سکتے ہیں۔
v      چھوٹے بچوں کے لیے کہانیاں ایسی ہونی چاہیں جس سے بچوں کی ضروریات کی تکمیل کے لیے رہنمائی ملے۔ کیونکہ اس طرح بچوں کی دلچسپی زیادہ دیر تک قائم رہتی ہے۔
v      ایک اچھی تصویری کہانی وہ ہوتی ہے جو زیر بیان واقعات کی تصویر کھینچے اور بچے خود کو ان واقعات میں شامل محسوس کریں۔
v      کہانی سنانے کے لیے استاد کو باقاعدہ تیاری کرنا چاہیے اس کے لیے کافی مشق کی ضرورت ہے ۔استاد کو کہانی کے لکھنے اور کہنے کے فن کو بغور مطالعہ کرنا چاہیے۔
v      کہانی کے واقعات کو اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ تسلسل نہ ٹوٹنے پائے ۔کہانی سے جو خاص مقصد حاصل کرنا ہو اسے مد نظر رکھا جائے۔
v      استاد کہانی سنانے کے دوران اگر ایسی تصاویر استعمال کرے جو کہانی سے زیادہ مطابقت رکھتی ہوں تو زیادہ موثر تدریس ہو گی۔
v     کہانی سناتے وقت گفتگو میں زیر و بم ہونا چاہیے۔
v      کہانی کے دوران سوالیہ انداز میں بات کرنا یا وقفہ دینا کہانی کو زیادہ موثر بناتا ہے۔اس سے بچوں میں تجسس پیدا ہو گا۔
v      کہانی سناتے وقت استاد کو بچوں کی طرف متوجہ ہوناچاہیے۔اس طرح بچوں کی حرکات و سکنات کا استاد کو پتہ چلتا ہے کہ بچے کتنی دلچسپی لے رہے ہیں۔
الغرض آرٹ اور تصویری کہانیوں کی مدد سے تدریس کے عمل کو زیادہ دلچسپ اور مفید بنایا جا سکتا ہے۔آرٹ کی اشیاء اور تصاویر بچوں کے لیے جہاں توجہ کا باعث ہوتی ہیں وہیں ان کی دلچسپی اور عدم غفلت کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ انہیں بطور تدریسی معاون استعمال کیا جا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اساتذہ اور انتظامیہ اس طرح کی سرگرمیوں کو سکولوں میں رواج دیں تا کہ تعلیم و تعلم کی اشاعت کا صحیح معنوں میں حق ادا کیا جا سکے۔
از
مالک خان سیال

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں