ایک
مثالی اور قابل مدرس اپنے طلبہ و طالبات کو صرف زیور تعلیم سے ہی آراستہ نہیں کرتا
بلکہ ان کی کردار سازی کے ذریعے ان کے کردار کو بھی بہتر بناتا ہے ۔ طلبہ و طالبات
اپنے اپنے معلم/ معلمہ کے کردار و شخصیت سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور اس کا
انداز اور فلسفہ تعلیم و تربیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہوتا ہے۔ اچھا اور ذمہ دار مدرس
اپنے طلبہ کی نصابی اور تدریسی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کی کردار سازی کے حوالہ سے
اہم کردار ادا کرتا ہے اور اگر تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کی کردار
سازی نہ کی جا سکے تو تعلیم و تربیت کا سارا عمل بے سود بن جاتا ہے۔
معلم
کی تعلیم و تربیت کا اثر طلبہ کے اندر تا دم آخر برقرار اور جاری رہتا ہے۔ لیکن
قابل افسوس امر یہ ہے کہ پاکستان کے نظام تعلیم میں سارا زور طلبا کی بہترین
پوزیشنز اور اچھے سکورز کے حصول پر دیا جاتا ہے۔ اور ان کی کردار سازی ،اخلاقیات،
ادب آداب اور معاشرتی تربیت کے اہم ترین پہلو کو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہی طلبہ و طالبات اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مستقبل میں
جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کا معاشرے کے دیگر لوگوں کے ساتھ بول چال
کا انداز، رویہ، اخلاق، قوت برداشت، درگزر، خود اعتمادی اور بردباری کا معیار وہ
نہیں ہوتا جو معاشرہ کو مطلوب ہوتا ہے۔ اس لیے وہی طلبہ و طالبات عملی زندگی میں
معاشرتی عدم مطابقت کا شکار ہو کر بذات خود بہت ساری الجھنوں اور مسائل میں گھر
جاتے ہیں۔
تعلیمی
اداروں کا اولین مقصد اپنے طلباء و طالبات کی کردار سازی اور کریکٹر ایجوکیشن ہونا
چاہیے تاکہ اپنے کردار کو بہتر بنا کرادارے کے تعلیم یافتہ افراد معاشرے کے کامیاب
افراد بن سکیں اور ملک پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
بچوں
میں تعلیمی بہتری لانے کے لیے اُن کے اندر قوت فیصلہ، خود اعتمادی، آگے بڑھنے کا
جذبہ ، تجسس اور اچھے خیالات کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے جہاں
نصاب میں مفید اور اخلاقیات پر مبنی اسباق شامل ہونا ضروری ہے وہیں ہم نصابی سر
گرمیوں اور بزمِ ادب و غیرہ کے ذریعے طلباء و طالبات کے کردار میں عملی بہتری لانے
پر خصوصی توجہ بھی تمام تعلیمی اداروں کی اولین ترجیحات ہونی چاہییں۔ نئی نسل اور
طلبہ کی کردار سازی کا اہم ترین ہدف صرف اور صرف اساتذہ کرام کے ذمے ہے۔ طلبہ
وطالبات کی کردار سازی میں بہت سارے عوامل کارفرماہیں۔چند ایک کا ذکر درج ذیل ہے:
سکول اسمبلی:
طلبہ
و طالبات کی کردار سازی میں سکول اسمبلی کے مختلف مراحل اہم ترین کردار ادا کرتے
ہیں۔ صبح سکول اسمبلی میں بر وقت حاضری، تلاوتِ قرآن، نعت ، قومی دعا، قومی ترانہ
اور ہر نئے دن کا پیغام(صباحی خطبہ)سب طلبہ و طالبات کی اخلاقی ، سماجی ، انفرادی
و اجتماعی اور روحانی تربیت و کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کسی
بھی تعلیمی ادارہ میں صباحی اسمبلی ادارہ کے مجموعی و حقیقی نظم و ضبط اور کار
کردگی کا بہترین عکس ہوتی ہے۔ صباحی اسمبلی میں مختلف جماعتوں کے طلباء کو روزانہ
مختلف ذمہ داریاں سونپ کر اُن کی کردار سازی کے مختلف پہلوؤں میں بہتری لائی جا
سکتی ہے اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔نمایاں کار کردگی کے حامل
طلبہ کو مختلف انعامات وغیرہ سے نواز کر باقی طلبہ کی حوصلہ افزائی بھی کی جا سکتی
ہے۔
ہفتہ وار بزم
ادب:
ہفتہ
وار بزم ادب جیسے اہم پروگرامز کی بدولت طلبہ و طالبات کے اندر اظہار خیال میں
آسانی ، گفتگو کرنے کے آداب اور خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا
ہوتا ہے۔ طلبہ و طالبات ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور اپنی پوزیشن کوبر قرار رکھنے
کی لگن میں مسلسل کوشش کر تے رہتے ہیں۔ اس طرح اُن کے اندر بے پناہ مثبت تبدیلیاں
رونما ہوتی ہیں۔غزالی ایجو کیشن ٹرسٹ کے تمام سکولز میں ایک ہی طرز پرہر جمعہ کو
ہفتہ وار بزم ادب منعقد کر وایا جاتا ہے۔
بزم
ادب میں طلبہ و طالبات کی کردار سازی کو مد نظر رکھتے ہوئے سرگرمیوں کا انتخاب کیا
جاتا ہے۔ بزمِ ادب کے انعقاد کی مختلف صورتیں ہیں۔مثلاً ہفتہ وار پورے سکول کا
مجموعی یا جماعت وار بزم ادب وغیرہ۔بزمِ ادب کے مختلف عناصر مثلاًتلاوتِ قرآن
مجید، نعت ، شاعری، (نظم و غزل) رول پلے، ڈرامہ، تقاریر اور ملی و قومی نغمات
وغیرہ کے ذریعے طلبہ کی کردار سازی کو مطلوبہ اور تعمیری جہت کی طرف بڑھایا جا
سکتا ہے۔ بزمِ ادب کی تیاری کے لیے طلبہ کے اندر تحقیق و جستجو، مطالعہ کتب و
رسائل ، لائبریری کا دورہ ، اخبارات و میگزین کا مطالعہ، انٹرنیٹ کا استعمال اور
ٹیلی ویژن اور ریڈیو سے استفادہ کی عادت کو پختہ کیا جا سکتا ہے۔
اسکاؤٹنگ:
اسکاؤٹنگ
تحریک بین الاقوامی سطح پر نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی، اخلاقی، معاشرتی اور روحانی
تربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ نوجوان اپنے اپنے معاشرے میں
عوامی فلاح و بہبود میں تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسکاؤٹنگ اور گرلز
گائیڈتحریک کے ذریعے نوجوان طلبہ و طالبات کی شخصیت میں مثبت تبدیلیاں ، مثالی
کردار، احساسِ ذمہ داری، مفید شہری ، معاشرتی و قومی سطح پر فرائض اور ذمہ داریوں
سے آگاہی اور ادائیگی، جسمانی ، ذہنی اور اخلاقی تربیت مفید مہارتوں اور دستکاریوں
جیسی صفات پیدا کر کے کردار سازی کے ہدف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس تحریک کے
ذریعے طلبہ و طالبات کے اندر خود اعتمادی، قوت برداشت، ملکی حالات سے آگاہی اور
مسائل کے حل کے مثبت طریقے، متوازن خوراک، غذا کی اہمیت، حب الوطنی اور اچھی صحت
کے اصولوں سے آگاہی پیدا کر کے کردار سازی کے فریضہ کو سر انجام دیا جا سکتا ہے۔
کھیل کود:
طلبہ
و طالبات کی کردار سازی اور تربیت میں کھیل کود کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ایک
متوازن اور خود اعتماد شخصیت کی تشکیل و تکمیل میں تعلیمی و نصابی سر گرمیوں کے
ساتھ ساتھ کھیل کود بہت ضروری ہے۔ انسانی شخصیت میں بہت ساری خوبیاں نصابی کتب
پڑھنے سے نہیں بلکہ صرف اور صرف کھیل کود کے ذریعے پیدا ہوتی ہیں۔ کھیل کود کے
دوران مختلف خاندانی پس منظر کے حامل افراد، تعلیم و تربیت، مزاج ، نفسیات اور
فطرت رکھنے والے افراد کے باہمی ربط سے افراد میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے، حقیقت
کا سامنا کرنے ، اپنی غلطی کا اعتراف اور معذرت کرنے، امیر کی اطاعت، نظم و ضبط کی
پیروی ، رواداری اور قربانی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں۔
کھیل
کے اصول و ضوابط کی پیروی سے گھریلو اور ذاتی زندگی اور دیگر معاشرتی معاملات میں
بھی نظم وضبط، قائد کی پیروی، وقت کی پابندی اور اصول پسندی کی عادت پیدا ہوتی ہے۔
طلبہ دوبارہ ذہنی سر گرمی کی مشق کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔جن سے اُن کی کار کردگی
میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ کھیل کود کے دوران ہی طلبہ و طالبات کا مختلف مذہبی،
سیاسی اور معاشرتی و معاشی خیالات و نظریات رکھنے والے طلبہ و طالبات سے واسطہ
پڑتا ہے۔ تبادلہ خیالات کا موقع ملتا ہے۔ جس سے وہ اپنا موقف دلائل کے ساتھ پیش
کرنے، دوسروں کی مدلل گفتگو سے قائل ہونے اور تنگ نظری و انتہا پسندی کے ناسور سے
بچنے کے مواقع حاصل کرتے ہیں۔
اداروں کا
ماحول:
بچے
کی تربیت اور کردار سازی کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ادارے کا مجموعی ماحول
ہوتا ہے۔ کوشش کی جانی چاہیے کہ جہاں اساتذہ بچوں کو تربیتی ماحول فراہم کریں اس
کے ساتھ ساتھ مین گیٹ، کمروں ، راہداریوں اور مختلف جگہوں پر اقوال زریں، احادیث
اور سنہری اصول اور تربیتی مواد و مضامین لگوائے جائیں تا کہ بچوں کو ان سے روشناس
کروایا جاسکے۔مثلاً پانی پینے کی جگہ پر پانی پینے کے آداب کا پوسٹر لگایا جائے۔
نماز کی ترغیب:
کردار
سازی میں ارکان اسلام بالخصوص نماز کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔ اس لیے سکولز میں
نماز کی خصوصی ترغیب دلائی جانی چاہیے۔رجسٹر حاضری پر حاضری لگاتے وقت نمازوں کی
حاضری کا خصوصی طور پر جائزہ لیا جائے۔ سکولوں کے اندر نماز ظہر کا باجماعت اہتمام
کیا جائے۔والدین سے نما زفجر و دیگر نمازوں کے حوالے سے معلومات لی جائیں اور
باجماعت نمازوں کی تاکید کی جائے۔
لباس کے لیے
اقدامات:
صاف
، کھلا اور موزوں لباس طلبہ و طالبات کی شخصیت کے لیے بہت اہم ہوتا ہے ۔ اس لیے
طلبہ و طالبات کو صاف ستھری یونیفارم پہننے کی خصوصی تاکید کی جانی چاہیے۔بچیوں کے
لیے شروع جماعتوں سے سکارف کا اہتمام کیا جائے تا کہ پردے کی عادت کو بچپن سے ہی
طالبات کی شخصیت کا حصہ بنایا جا سکے۔ بڑی جماعتوں میں طالبات کے لیے بڑی چادر
اوڑھنے یا گاؤن پہننے کی پابندی کی جائے۔
ادبی و اصلاحی
سوسائٹی:
طلبا
کی کردار سازی کے لیے ضروری ہے کہ سکولوں میں بچوں کی ادبی و اصلاحی سوسائٹیاں
بنائی جائیں جن میں بچے خود تربیتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں۔ سوسائٹی
کے صدر اور سیکرٹری وغیرہ کے لیے بچوں کو منتخب کیا جائے اور ذمہ داریاں تفویض کی
جائیں۔ بچوں کی یہ سوسائٹیاں نہ صرف سکول کے اندر بلکہ اپنے علاقوں میں بھی مختلف
مہمات کے ذریعے تعمیری و تربیتی اقدامات کو فروغ د ے سکتی ہیں۔ جیسے صفائی مہم،
صلوٰۃ مہم، السلام علیکم مہم وغیرہ۔
از
مالک
خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں