قوموں
کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کا دارومدار افراد کی سیرت و کردار پر ہے۔ سیرت و
کردار کی تشکیل صحیح تعلیم و تربیت کے بغیر نا ممکن ہے۔ مدرسہ وہ جگہ ہے جہاں
افراد کی تعمیر کی جاتی ہے اور مستقبل میں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار
کیا جاتا ہے۔تشکیل کردار کے لیے مدرسہ میں کتابی علم کی رٹوائی سے ہٹ کر ایسی
فعالیتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جو طالب علم کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار
لانے کے ساتھ ساتھ اس میں ضبط اور قیادت کے اوصاف پیداکرتی ہیں۔اس قسم کی فعالیتوں
کو ہم نصابی سرگرمیوں کا نام دیا جاتا ہے۔
ہم
نصابی سرگرمیاں یا مشاغل وہ سلسلہ ہے جو روایتی نصاب کا حقیقی جزو نہ ہونے کے
باوجود نصاب کا ایک اہم حصہ ہیں جن کے بغیر تعلیم و تربیت ناقص اور غیر موثر ہے۔ہم
نصابی سرگرمیوں کا مقصد طلبا کی جبلتوں کو اجاگر کرنا اور ان کے اندر قائدانہ
اوصاف پیدا کرنا ہے۔عام طور پر سکول کے اندر کورس کے علاوہ کروائی جانے والی
سرگرمیوں کو غیر نصابی سرگرمیاں قرار دیا جاتا ہے حالانکہ مدرسہ کے اندر ہونے والی
ہر وہ سرگرمی جو بچے کو تعلیمی میدان میں کسی طرح بھی سپورٹ کرے نصاب کے زمرے میں
آنی چاہیے۔
ہم
نصابی سرگرمیاں دور جدید کی کوئی نئی اختراع نہیں بلکہ بعض ملکوں میں زمانہ قدیم
ہی سے ہم نصابی مشاغل کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اسپارٹا والوں کو ایسے مضبوط اور
توانا افراد کی ضرورت تھی جو دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں چنانچہ وہاں بچوں کو شروع
ہی سے سخت زندگی کا عادی بنایا جاتا تھا۔انہیں باقاعدہ ورزش کروائی جاتی، کھیلوں
میں شریک ہونا پڑتا ،گرمی، سردی، بھوک اور پیاس کی شدت برداشت کرنا پڑتی تاکہ وہ
سخت جان بن جائیں۔ یہی حال اسپارٹا کی حریف ریاست ایتھنز کا تھا وہاں بھی سخت
جسمانی تربیت اور فنون حرب کی تربیت دی جاتی۔لیکن یہاں کے نظام تعلیم کی امتیازی
صفت یہ تھی کہ ہم نصابی مشاغل کے ساتھ ساتھ علوم کی طرف بھی مناسب توجہ دی جاتی
تھی تا کہ جسم اور ذہن دونوں کی نشوونما ہو ۔ تعلیم کی اس جامعیت کی وجہ سے اہل
ایتھنز بالآخر اسپارٹا والوں پر غالب آ گئے۔
قدیم
یونان میں افلاطون کی درسگاہ کا نصاب جمناسٹک، ادب، موسیقی اور ریاضی پر مشتمل
تھا۔ جمناسٹک کا مقصد صحت مند ذہن کے لیے جسم کی تربیت کرنا ،قوت مدافعت اور جرات
کو صورت اظہار دینا اور روحانی جذبہ کو مناسب جلا بخشناہے۔
مسلمانوں نے
تشکیل کردار کو بنیادی اہمیت دی اور افراد کی ہمہ جہت نشوونما سے ہی پوری دنیا میں
اپنا لوہا منوایا۔حضرت عمرؓ نے ہم نصابی سرگرمیوں کے پیش نظر امت کو تجویز فرمایا
کہ
’’اپنے بچوں کو
تیراکی، شہسواری، مشہور ضرب الامثال اور اچھے اشعار سکھاؤ‘‘
امام غزالیؒ
ارشاد فرماتے ہیں
’’مدارس میں کھیل
کود کا اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ طلبا دماغی کاوش کے بعد تازہ دم ہو جائیں اس کی
ضرورت اس وجہ سے بھی ہے کہ طالب علم کی یادداشت تازہ ہو جاتی ہے اور اس میں نئی
طاقت پیدا ہو تی ہے اور دماغی کام سے اکتاہٹ نہیں ہوتی”
البدری نے کھیل کی اہمیت یوں واضح کی ہے
البدری نے کھیل کی اہمیت یوں واضح کی ہے
’’اگر طالب علم
کو کھیل کود سے روکا جائے اور مسلسل مطالعہ کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کا حوصلہ
پست ہوجائے گا۔ اس کی قوت فکر اور دل کی تازگی برباد ہو جائے گی اور مطالعہ اس کے
لیے بیماری بن جائے گا اور اس کی زندگی پر فکر و پریشانی کے بادل چھا جائیں گے
اوروہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ سبق سے جان چھڑائے۔
پستالوزی کے
خیال میں ’’تعلیم کا اصل کام بچے کی قدرتی، مناسب اور متوازن نشوونما میں مدد کرنا
ہے تا کہ اس کی تمام پوشیدہ ذہنی اور روحانی قوتیں اجاگر ہو سکیں۔
نصاب
کے ساتھ ساتھ موسیقی، ڈرامہ، آرٹ اینڈ کرافٹ، قصہ کہانیاں، کیمپنگ اور کھیل
نوجوانوں کو مجموعی طور پر ذہنی تفریح کا ماحول مہیا کرتے ہیں۔یہ سرگرمیاں بڑے
دوررس نتائج کی حامل ہیں ۔ ان کے مثبت اثرات بچوں کی پوری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔
ہم
نصابی سرگرمیاں یوں تو ہر عمر کے طلبا کے لیے مفید ہیں لیکن ثانوی مدارس میں تعلیم
حاصل کرنے والے بچے اپنی عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جسے زندگی کا تغیر پذیر دور
کہا جاتا ہے۔ وہ بچپن کی حدود کو پھلانگ کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہوتے
ہیں اس عمر میں ضروری ہے کہ ان کے خیالات،جذبات اور توانائیوں کی صحیح سمت میں رہنمائی
کی جائے کیونکہ یہ جوان امنگوں کا دور ہوتا ہے اور بچے ہر دم متحرک رہنا پسند کرتے
ہیں ۔اس عمر میں اگر بچوں کے قدم غلط سمت اٹھ جائیں تو وہ معاشرے کے قابل فخر شہری
بننے کی بجائے غلط راہوں پر چل کر نہ صرف اپنی زندگیوں کو برباد کر لیتے ہیں بلکہ
اپنے خاندان ،ملک اور قوم کے وقار کو بھی خاک میں ملا دیتے ہیں۔
با
ضابطہ درس و تدریس کے علاوہ مدرسہ کی ہم نصابی سرگرمیاں بچوں کی ذہنی صحت پر
خوشگوار اثر ڈالتی ہیں۔ بچوں کی مناسب نشوونما کے لیے کھیل اور تفریح لازمی ہے۔ ہر
مدرسے میں کھیل اور تفریح کا مناسب انتظام ہونا چاہیے۔ معلم کو اس امر کا خیال
رکھنا چاہیے کہ ہر بچہ کسی نہ کسی کھیل میں ضرور حصہ لے۔ کھیل میں شرکت سے جسم کے
مختلف اعضاء کو حرکت کا موقع ملتا ہے۔بچوں میں مسرت کے جذبے ابھرتے ہیں ، ان کی
توانائی بڑھتی ہے ، انہیں چند اصولوں اور ضابطوں کا احترام کرنے اور دوسروں سے مل
کر تفریح کرنے کی تربیت ملتی ہے ۔اس کے علاوہ کھیل کود میں حصہ لینے سے ذہنی صحت
ہی میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ درسی مضامین سمجھنے کی صلاحیت بھی بڑھتی ہے۔
بچوں
کو اس بات کی اشد ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی فطری صلاحیتوں کو اجاگر کر کے ان کو جلا
بخشی جائے تاکہ ان کے رخ کا صحیح تعین ہو سکے۔ طلبا کے گروہی مشاغل ان کے طبعی
رجحان کی غمازی کرتے ہیں۔ مقرر، فنکار، کھلاڑی، ادیب، قائدغرض سب افراد کے لیے عمر
کا یہی حصہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں ہم نصابی
سرگرمیوں کی نوعیت کا انحصار صدر معلم کی ذاتی دلچسپی، طلبا کی تعداد، طلبا کی عمر
اور مدرسے کے مالی وسائل پر ہوتا ہے۔ مختصر طور پر ان سرگرمیوں کو پانچ گروپوں میں
تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔علمی
و ادبی فعالیتیں:
اس
گروپ میں مختلف مضامین کی سوسائٹیاں ، بزم ادب، مباحثے، مذاکرات، تقاریر، نمائشیں
اور مدرسے کا رسالہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں سے طلبا کی قوت فکر کی نشوونما
ہوتی ہے اور وہ اپنے خیالات کو مجتمع کر کے انہیں منطقی انداز میں دلائل کے ساتھ
منظم طور پر پیش کرنے کا طریقہ سیکھتے ہیں۔ بہترین اور موثر اظہار کے لیے وسیع
مطالعہ کرتے ہیں اس سے ان کے خیالات میں گہرائی پیدا ہوتی ہے اور ذہنی افق وسیع تر
ہوتا ہے۔ ان مشاغل سے صحیح استفادہ کیا جائے اور طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کومناسب
رہنمائی و تربیت ملے تو اچھے مقرر اور ادیب پیدا ہوتے ہیں۔
۲۔تفریحی
سرگرمیاں:
ڈرامے،
ساکت اور بولتی تمثیلیں ، غزل، گانے ، قوالی اور خاکے وغیرہ تفریحی سرگرمیوں میں
شامل ہیں ۔یہ سرگرمیاں نصابی بوجھ کی گھٹن دور کر کے بچوں کی تفریح طبع کا باعث
بنتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بچوں میں خود اعتمادی اور عمیق مشاہدہ کرنے
کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے ۔ اگر بچے استاد کی رہنمائی میں خود ڈرامہ لکھیں تو ان کی
تخلیقی قوتوں کی نشوونما ہوتی ہے۔
۳۔معاشرتی
فعالیتیں:
سکاؤٹنگ،
گرل گائیڈ، شہری دفاع، واک، سیر و سیاحت، ابتدائی طبی امداد اور ہلال احمر وغیرہ۔
ان سرگرمیوں سے طلبا کو مختلف مسائل پر غور و فکر کرنے اور حل کرنے کی تربیت ملتی
ہے۔ سکول سپرٹ پیدا ہوتی ہے ، خدمت خلق کی تربیت ملتی ہے اورمدرسے کے ماحول کی
یکسانیت سے پیدا ہونے والی تکان اور بوریت دور ہو جاتی ہے ۔
۴۔
کھیل:
ہم
نصابی سرگرمیوں میں کھیل ہی ایک ایساعنصر ہے جس میں طلبا سب سے زیادہ دلچسپی لیتے
ہیں۔ اکثر طلبا اور بہت سے پڑھے لکھے افراد کے نزدیک ہم نصابی سرگرمیوں سے صرف
کھیل کود مراد ہے۔ مدارس میں مختلف قسم کے کھیل کھیلے جاتے ہیں ان کھیلوں میں فٹ
بال، والی بال، کبڈی، ہاکی، رسہ کشی، کرکٹ، باسکٹ بال، بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس اور
اتھلیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔
کھیلوں
کے ذریعے طلبا میں ذہنی بیداری، مستقل مزاجی، خود انضباطی، دلیری، خود اعتمادی،
قیادت اور رہبری کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں اور ان کی فاضل توانائی کا اخراج بھی ہوتا
ہے۔ کھیل بچوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔
اسی لیے ماہرین کھیل کے میدانوں کو بے چھت کا سکول کہتے ہیں۔
۵۔متفرق
مشاغل:
ان
میں موسیقی، مصوری، نقاشی، باغبانی، مطالعہ قدرت، رائفل کلب، ٹکٹیں، سکے، آٹو گراف
اور اہم
شخصیات
کی تصویریں جمع کرنا جیسے مشاغل شامل ہیں۔سکولوں کی
ورکشاپس، دستکاری کے نمونے اور بک بنک جیسے بہت سے مشاغل طلبا کی دلچسپی کا باعث
بنتے ہیں۔ ان تمام انفرادی و اجتماعی سرگرمیوں میں اساتذہ کی رہنمائی بہت ضروری
ہے۔
درحقیقت
ہم نصابی سرگرمیوں کی اہمیت تدریسی سرگرمیوں سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ ان مشاغل کے
ذریعے بچوں کی ذہنی نشوونما کے علاوہ ان کی جسمانی ،اخلاقی اور روحانی نشوونما
ہوتی ہے۔ہم نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے درج ذیل اقدامات اشد ضروری ہیں۔
1)
مدارس میں ہم نصابی
سرگرمیوں کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ کا فقدان ہے کیونکہ تربیت اساتذہ کے پروگراموں
میں ہم نصابی فعالیتوں کے موثر انتظام اور انعقاد کی تربیت نہیں دی جاتی اس لیے
تربیت اساتذہ کے پروگراموں میں ہم نصابی فعالیتوں کے انتظام و انصرام سے متعلق ایک
علیحدہ مضمون شامل نصاب کیا جائے۔
2)
لائبریری بہت سی ہم نصابی
فعالیتوں کا گہوارہ ہے ہمارے اکثر ثانوی مدارس میں کتب خانے انواع و اقسام کی
کتابوں کے سٹور ہیں۔ لہٰذا کتب خانہ میں کتابوں سے استفادے کا بہترین انتظام کیا
جائے اور تمام طلبا کو کتب خانہ سے استفادہ کا پابند کیا جائے۔
3) ہم نصابی سرگرمیاں آج بھی
غیر نصابی سرگرمیاں ہی تصور ہوتی ہیں۔ اس غلط تصور کو ختم کرنے کے لیے بورڈ کے
امتحانات میں ہم نصابی سرگرمیوں کے الگ نمبر رکھے جائیں۔
4)
سالانہ خفیہ رپورٹ(ACR)میں تدریسی
سرگرمیوں کے نتائج کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی ہم نصابی فعالیتوں کے فروغ میں دلچسپی
کے لیے علیحدہ کالم بنایا جائے۔
5)
ثانوی مدارس کے بین
المدارس مقابلہ جات (ٹورنامنٹ) جب قریب ہوتے ہیں تو ایک یا دوہفتے پڑھائی ختم کر
کے صرف کھیلیں کروائی جاتی ہیں جبکہ باقی پورا سال ہم نصابی فعالیتیں بالخصوص کھیل
شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔رئیس مدرسہ اور انتظامی افسران پورا سال ہم نصابی
فعالیتوں کے انعقاد کو یقینی بنائیں ۔باقاعدگی سے ان سرگرمیوں کی نگرانی اور
معائنہ کریں۔
6)
لڑکیاں معاشرتی رویوں کی
وجہ سے ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتیں لڑکیوں کو اسلامی احکامات کے مطابق
پردے کا اہتمام کرتے ہوئے ہم نصابی فعالیتوں کی ترغیب دی جائے۔
ہم نصابی
سرگرمیوں کے تعین یا انعقاد کے سلسلے میں اسلامی حوالے سے مندرجہ ذیل رہنما اصول
مد نظر رکھنے چاہئیں:
1)
اسلام ان تمام امور کو
جائزقرار دیتاہے جو ذکر الٰہی سے غفلت کا سبب نہ بنیں اور جن سے وقت کے ضیاع
کااحتمال نہ ہو۔
2) کھیلوں میں اسلامی ضابطہ
حیات کی پابندی ہو ۔
3)
شعر و شاعری میں بے ہودہ
اورمشرکانہ خیالات سے گریز کیا جائے۔
4)
ہم نصابی مشاغل کا اسلامی
احکام و حدود اور تقاضوں کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ان میں بے ہودگی، فحش کلامی،
عریانی اور فحاشی کے پروگرام قطعاً شامل نہیں ہونے چاہئیں۔
ہم نصابی
سرگرمیوں کے فائدے
ہم نصابی
سرگرمیوں کے بے شمار فائدے ہیں جن میں سے مندرجہ ذیل زیادہ اہم ہیں:
1.
فطری اور نفسیاتی تقاضوں
کی تکمیل
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں کی فطری اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کرتی ہیں۔ بچپن اور لڑکپن
کے ادوار میں بچوں کے اندر گروہ بندی کا جذبہ بہت شدید ہوتا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے
گروہ تشکیل دے کر اپنا لیڈر چن لیتے ہیں اور مختلف قسم کی کھیلوں اور سرگرمیوں میں
حصہ لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے جوش، جذبے اور توانائی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔
ہم نصابی سرگرمیاں مثلاً کھیل کود، سیرو تفریح، مطالعاتی دورے، ڈرامے، مباحثے اور
دیگر فنکشنز وغیرہ بچوں کے فطری تقاضوں کو پورا کر کے ان کو تسعید کا سامان مہیا
کرتی ہیں۔ اس طرح بچے اپنے جذبات کو مثبت راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
2.
جسمانی نشوونما
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں کو جسمانی اور زہنی ورزش کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ بچپن
کے زمانے میں بچوں کے جسمانی اعضاء بڑی تیزی سے بڑھتے ہیں ۔ اس دور میں ان کو
مناسب ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نصابی سرگرمیاں مثلاً کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، بیڈ
منٹن، والی بال، سٹیج ڈرامے، مباحثے، سیرو سیاحت اور مطالعاتی دورے نہ صرف بچوں کو
ذہنی دلچسپی کا سامان مہیا کرتی ہیں بلکہ ان کی جسمانی نشوونما میں بھرپور کردار
ادا کرتی ہیں۔
تھکن سے بچاؤ
کلاس
روم میں کئی کئی گھنٹے اساتذہ کے لیکچر سننے اور کتابوں کے مطالعہ میں مصروف رہنے
سے بچے تھکن اور بوریت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کو جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ ہو جاتی
ہے۔ اس صورت حال میں ہم نصابی سرگرمیاں ان کے جوش و جذبے کو بیدار کرتی ہیں اور وہ
جسمانی اور زہنی طور پر دوبارہ چاک و چوبند ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ تفریح کا
وقفہ اور جسمانی ورزش کے پیریڈ بچوں کو تروتازہ کر دیتے ہیں۔
3.
معاشرتی تربیت
ہم
نصابی سرگرمیاں جیسے کھیلیں، ڈرامے، مباحثے، مطالعاتی دورے اور دیگر اجتماعی
فعالیتیں بچوں کو مل جل کر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں ۔ ان سرگرمیوں سے طلبہ
و طالبات میں تعاون کے جذبات کو فروغ ملتا ہے اور ان میں ہمدردی، ایثار، مساوات
اور انصاف جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔
4.
صلاحیتوں کی نشوونما
جہاں
نصابی سرگرمیاں سے بچوں کی ذہنی نشوونما ہوتی ہے وہاں ہم نصابی مشاغل ان بے شمار
خوابیدہ صلاحیتوں اور جوہروں کو منظر عام پرلاتے ہیں مثلاً:
v سکاؤٹنگ،
گرل گائیدنگ اور طبی امداد سے بچوں میں ہمدردی کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔
v
اجتماعی کھیلوں سے اشتراک عمل اور تعاون کے
جذبات پیدا ہوتے ہیں اور بچوں میں قائدانہ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں۔
v مباحثوں
اور تقاریر سے بچے اچھے مقرر اور خطیب بنتے ہیں۔
v
کھیل
کود سے جسمانی نشوونما میں مدد ملتی ہے ۔ اس سے بچوں کی صحت اچھی رہتی ہے جیسے
مشہورمقولہ ہے کہ صحت مند جسم ایک صحت مند ذہن رکھتا ہے۔
v
ہم
نصابی مشاغل سے بچوں میں خود اعتمادی، وسیع القلبی، تعاون اور حوصلہ مندی کے اوصاف
پیدا ہوتے ہیں۔
v
بزم
ادب، سکول میگزین اور مطالعاتی دوروں سے بچوں میں تحقیق اور جستجو کے جذبات جنم
لیتے ہیں اور ان میں ادب سے لگاؤ پیدا ہوتا ہے۔
v سٹیج
ڈراموں اور ورائٹی شوز سے بچے اداکاری سیکھتے ہیں۔
v پہاڑی
مقامات پر سیرو تفریح سے بچوں میں کوہ پیمائی کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
5.
نظم و ضبط کا قیام
چونکہ
تمام ہم نصابی سرگرمیاں باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دی جاتی ہیں اور ان
میں طلبہ و طالبات کو چند قواعدو ضوابط کے تحت حصہ لینا ہوتا ہے ۔ اس لیے ان مشاغل
سے بچوں میں نظم و ضبط کے اوصاف پیدا ہوتے ہیں مثلاً کرکٹ، ہاکی، فٹبال اور ٹینس
جیسی کھیلوں میں کھلاڑیوں کو مخصوص قوانین پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
6.
اخلاقی تربیت
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں کے اخلاق کو سنوارتی ہیں ۔ ان سے بچوں میں نہ صرف خوداعتمادی
اور حوصلہ افزائی جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں بلکہ وہ کشادہ ذہن کے ساتھ زندگی کے
مسائل کا سامنا کرنا سیکھتے ہیں ۔ کھیلوں سے ان میں محنت، اطاعت، دیانت داری اور
نظم و ضبط جیسی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔
7.
اشتراک عمل اور تعاون کا
جذبہ
ہم
نصابی مشاغل میں بچے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا سیکھتے ہیں اور ان میں وسیع
القلبی اور خود اعتمادی جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں ۔ اس طرح گروہی تحریکات سے بچوں
میں معاشرتی فہم و دراک پختہ ہو جاتا ہے۔
8.
جمہوریت کی تعلیم
ہم
نصابی سرگرمیاں کے باعث بچوں میں جمہوری اقدار کو فروغ ملتا ہے جس کے نتیجے میں وہ
ایک دوسرے سے مشورہ کرنا، تعمیری تنقید کرنااور اکثریت کے فیصلے کا احترام کرنا
اور اظہار خیال کرنا سیکھتے ہیں۔
9.
اپنی مدد آپ کا جذبہ
ہم
نصابی سرگرمیاں بچوں میں خود اعتمادی، بلند حوصلگی اور کام کرنے کا شوق پیدا کرتی
ہیں۔ بچے دوسروں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھتے ہیں۔
10.فرصت
کا صحیح استعمال
مشہور
مقولہ ہے: بے کار ذہن شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔ ہم نصابی سرگرمیاں طلبہ و طالبات
کو مصروف رکھتی ہیں۔ وہ اپنی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو با مقصد فعالیتوں پر صرف
کر سکتے ہیں۔ اس طرح بچوں کا وقت ضائع نہیں ہوتا اور وہ اپنے فرصت کے لمحات کا
صحیح استعمال کرتے ہیں۔ مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچے کھیل کود، تفریحات،
ڈراموں، مباحثوں اور سیروسیاحت جیسی دیگر سرگرمیوں میں دلچسپی سے حصہ لیتے ہیں۔
11.
اساتذہ اور طلبہ و طالبات
کے تعلقات
ہم
نصابی سرگرمیاں طلبہ و طالبات کو اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر مختلف منصوبوں میں حصہ
لینے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح اساتذہ کے قریب آکر ان کا شخصیت کا مطالعہ
کرنیاور مسائل کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر اساتذہ کی شفقت میں
اضافہ ہو جاتا ہے اور بچوں کے دل سے ان کا بے جا خوف نکل جاتا ہے۔ بچوں کی
کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔
12.قائدانہ
صلاحیتوں کی تربیت
ہم
نصابی مشاغل میں بچے گروہی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں جن میں مختلف کھیلیں ،
مباحثے اور
مطالعاتی دورے
وغیرہ شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں میں بچے اپنے قائد کی قیادت میں حصہ لیتے ہیں اور
قائدانہ صلاحیتوں کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔
13.شخصیت
اور کردار کی بھرپور تربیت
نصابی
سرگرمیوں کا دائرہ کار کمرہ جماعت تک محدود رہتا ہے جہاں طلبہ و طالبات نصابی کتب
کے مطالعہ سے علم حاصل کرتے ہیں مگر ہم نصابی مشاغل نہ صرف بچوں کے نفسیاتی تقاضوں
کو پورا کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت اور کردار کی بھرپور نشوونما کرتے ہیں۔ ان سے
بچوں میں معاشرتی فہم پیدا ہوتا ہے ۔
14.
وفاداری کا جذبہ
ہم
نصابی سرگرمیوں کے ذریعے انٹر سکول مقابلوں میں بچے مختلف کھیلوں اور دیگر مشاغل
مثلاً ڈراموں، مباحثوں، تقاریر، بزم ادب، حسن قرات وغیرہ میں اپنے ادارے کی
نمائندگی کرتے ہیں ۔ ان مقابلوں میں مختلف سکولوں کے بچوں کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔
جیتنے والے بچوں کو انعامات دیے جاتے ہیں۔ بچے بڑے فخر کے ساتھ یہ اعزازات وصول
کرتے ہیں ۔ کامیاب ہونے والے بچوں اور ان کے اداروں کو شہرت ملتی ہے۔ اس طرح بچوں
میں اپنے ادارے سے وفاداری کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
مدرسے
کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے افراد پیدا کرناہے جواخلاقی
قدروں کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں بلندسے بلند معیارعطاکر سکیں ۔ ہمارے ہاں تعلیمی
اداروں بالخصوص ثانوی مدارس میں ہم نصابی سرگرمیوں کو ایک بوجھ ، زائد تفویض کار
اور وقت کاضیاع سمجھا جاتا ہے۔ ہم نصابی سرگرمیوں کو نصاب کا حصہ سمجھتے ہوئے اس
بات کی شدید ضرورت ہے کہ ان سرگرمیوں کی تنظیم نو کی جائے۔ اساتذہ ،طلبا اور
والدین ان سرگرمیوں کی افادیت کو سمجھتے ہوں تاکہ ان سے بہتر طور پر استفادہ کیا
جا سکے۔ن قابل فہم اور آسان ہونی چا ہیے ۔
از
مالک خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں