کردار
سازی تعمیر انسانیت کا عمل ہے جس میں جاگنے سے لے کر سونے تک کے تمام اعمال و
افعال کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ ایک فرد اپنی نشست و
برخاست اور معاشرتی رسم و رواج سے تشکیل پانے والی عادتوں میں کسی نہ کسی حد تک
دوسروں سے مختلف ہوتا ہے۔ البتہ ہر قبیلے، قوم اور ایک خطے میں رہنے والوں کی
عادات اور زندگی کے کئی پہلو یکساں ہوتے ہیں۔
اگر
انسان کی عادات و اطوار اور افکارو کردار کا بغور مطالعہ کیا جائے اور ان کی
یکسانیت یا اختلافات کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو جنیاتی اور ماحولیاتی اثرات ،
والدین اور اساتذہ کی تربیت ، معاشرے کی دی ہوئی اقدار اور فرد کی عقل و بینش ہی
کردار سازی پر اثرانداز ہونے والے اہم عناصر ہیں۔ نفسیات اور طب کے علم کے مطابق
بچوں میں جو توارث جینز کے ذریعے در آتا ہے اس کے اثرات بچوں کے کردار پر اثر
انداز ہوتے ہیں اور کئی عادات بھی انھی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ مثلاً بائیں
ہاتھ سے لکھنے والوں کی عادت تربیت سے نہیں بدلی جا سکتی ہے کہ یہ جنیاتی اثرات سے
تشکیل پاتی ہے۔
کردار
سازی پر خاندان اور نسل کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ارباب بست و کشاد وڈیروں اور اہل
ثروت کے بچوں میں جو غرور اور تفاخر جڑ پکڑ لیتا ہے وہ ان کی تربیت میں رکاوٹ بن
جاتا ہے۔ یہ نسلی عصبیت بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے خاندانوں
کی کمی نہیں جو مالی طور پر تواناہوں یا کمزور لڑنے بھڑنے اور اپنی برتری جتانے
میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ایسے خاندان شادیاں عموماً اپنے خاندان میں کرتے ہیں اور ان
کی تعلیم و تربیت میں مربی بے پناہ مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں۔ یہ احساس برتری
مرتے دم تک ان کے ساتھ رہتا ہے۔
نسلی
تفاخر کی اہم مثال ابوجہل کے اپنے قاتلوں کو وہ آخری الفاظ ہیں جو اس کے غرور اور
احساس خود پسندی و برتری کے عکاس ہیں کہ میری گردن سر کے ساتھ رہنے دینا تاکہ
لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ کسی سردار کا سر ہے۔ ضد کے علاوہ سرداری بھی حق تسلیم
کرنے میں اسے آڑے آتی رہی۔
کردار
سازی کے عمل کو متاثر کرنے والے محرکات میں ماحول کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اسے
وسیع تر تناظر میں دیکھا جا ئے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مختلف خطوں میں بسنے والی
قومیں عادات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی بسر کرنے کے
تقاضے ماحول اور موسم کے مطابق ہوتے ہیں۔ لباس بھی موسمی تقاضوں کے مطابق ہوتا ہے۔
اگر اسے محدود معنوں میں لیا جائے تو جس ماحول میں بچے پروان چڑھتے ہیں اس سوسائٹی
کے اثرات تیزی سے قبول کرتے ہیں۔ یہ مقامی ماحول اور معاشرہ مثبت اور منفی دونوں
طرح کے اثرات مرتب کرتا ہے۔یہ محرک مربی کے لیے بسا اوقات آسانیاں اور سہولتیں اور
بعض اوقات مشکلات بھی پیدا کرتا ہے۔
جہاں
معاشرہ مہذب اور تعلیم یافتہ ہوگا وہاں بچوں کی تربیت آسان ہوگی اور جہاں جاہلیت ،
مذہب سے دوری ، بے عملی اور تعلیمی لحاظ سے پس ماندگی ہوگی وہاں بچے خودروپودوں کی
طرح بڑے ہوتے ہیں جن کی تربیت و کردار سازی جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتی ہے۔
کردار
سازی اور تربیت میں والدین کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے ،اس قدر زیادہ کہ دیگر کوئی
عنصر اس قدر موثر نہیں۔ ایک حدیث مبارکہ کے مطابق ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
اس کے والدین ہی ہوتے ہیں جو اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بناتے ہیں‘‘تو گویا بچوں
کے مستقبل کی کنجی والدین کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ یہ ایسی ذمہ داری اور فریضہ ہے جس
کا قیامت کے دن والدین سے پورا حساب لیا جائے گا۔ ہر راعی کو اپنی رعایا کے بارے
میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ دراصل بچوں کے رجحانات کی تشکیل اور ترجیحات قائم کرنے
میں والدین کی کاوشوں ،خواہشات اور عملی کردار جیسے عناصر بچے کے مستقبل پر اثر
انداز ہوتے ہیں۔
آج
کے مادی دور میں والدین عموماً یہی خواہش رکھتے ہیں کہ ان کا بچہ بڑا آدمی بن جائے
اور بڑے سے مراد صاحب ثروت اور صاحب اختیار ہو۔ ایسے بچے ہنر مند تو ہوتے ہیں لیکن
خدا سے تعلق کمزور ہوتا ہے اور باکر دار شخصیت نہیں بن پاتے۔ تو خدا کے حضور یہ تر
جیحات طے کرنے پر جواب تو دینا ہوگا۔ نفسیات کی جدید تحقیقات کے مطابق بچے کی
شخصیت کی تعمیر ابتدائی چند سالوں میں ہو جاتی ہے اور عمر کا یہ دورانیہ سراسر
والدین کے زیر سایہ ہوتا ہے۔ والدین تربیت میں کوتاہی برتیں تو بگاڑ پیدا ہو گا۔
حد سے زیادہ
پریشر سے بچے جھوٹ بولتے ہیں۔ بچوں کی ضروریات پوری نہ کی جائیں تو بچے چوریاں
کرتے اور غلط راہوں پر نکل جاتے ہیں۔ والدین کی مصروفیات بچوں کی نگرانی میں آڑے
آئیں تو بچے بے عمل اور خواہشات کے غلام بن جاتے ہیں۔مختصر یہ کہ گھر بچے کی تعلیم
و تربیت و تعمیر سیرت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔
بچے
کی تعمیر سیرت و کردار میں سکول اور اساتذہ نہایت فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ بچے کی
شخصیت کی تعمیر کے لیے بنیادیں اگرچہ گھر میں والدین اٹھاتے ہیں لیکن اساتذہ ایک
خاص نظم و ضبط کے ساتھ تعلیم دے کر اس کی سیرت اور شخصیت کو سنوارتے اور پروان
چڑھاتے ہیں۔اگر سکول کے اندر یہ فریضہ معلمین کی غفلت اور لا پروائی کے سبب بطریق
احسن انجام نہ پائے تو بچوں کی شخصیت میں کجی اور کوتاہی رہ جاتی ہے جس کے سبب
انہیں اگلی جماعتوں میں جہاں اکثر معاملات میں شرمندگی کا سامنا ہوتا ہے وہیں
انہیں مختلف النوع جملے جیسے کہاں سے پڑھ کے آئے ہو۔ لگتا ہے آپ کو کوئی استاد
نہیں میسر آیاوغیرہ بھی سننے پڑھتے ہیں۔
مختلف
علم و فنون میں مہارت، اصلاح و تربیت ، زمانے کی اونچ نیچ اور بچے کے جملہ پہلوؤں
کی نشو و نما تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔تعلیمی اداروں میں ہی قسمت نوع بشر
تبدیل ہوتی ہے اور تعلیم و تربیت اور کردار سازی جیسے عظیم فریضے کی تکمیل ہوتی
ہے۔
معاشرتی
ترقی اور تعلیم و تنظیم کی ذمہ داری اداروں کے ذریعے سر انجام دی جاتی ہے۔ دنیا
بھر میں جو نسلیں پروان چڑھ رہی ہیں ان کے پس پشت مختلف ممالک کا نظام تعلیم ہوتا
ہے اور نظام تعلیم ان مقاصد کی تکمیل کرتا ہے جو قوم اپنے اپنے نظریہ حیات کے
مطابق طے کرتی ہے۔ ایک ایسی مملکت جہاں مسلمان بستے ہوں وہاں کے نظام تعلیم کا
بنیادی فریضہ سیرت و کردار کے لحاظ سے اچھے مسلمان بنانا ہی ہونا چاہیے۔
از
مالک خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں