تعمیرِ شخصیت

نسل انسانی کی پرورش کی ذمہ داری بنیادی طور پردولوگوں پر ڈالی گئی ہے والدین اور اساتذہ ، یہ ذمہ داری اس قدر اہمیت کی حامل ہے جو کہ نظر انداز نہیں کی جاسکتی اور شاید یہ ایک واحد کام ہے جس میں ایک سے زیادہ لوگوں کی رہنمائی درکار ہے۔ پیدائش سے لے کر اپنے قدموں پر کھڑے ہونے تک ہر بچہ ماں باپ اور اساتذہ کی رہنمائی کاطلب گاررہتا ہے۔
ایک کامیاب انسان بنانے میں والدین اور خاص طور پر ماں کابڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن بعض بچے دنیا میں ہمارے ارد گرد ایسے موجود ہوتے ہیں کہ جن کو یہ والدین کی نعمت میسر نہیں ہوتی اس لیے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ بچے جو اس صورتِ حال کاشکار ہیں یا پھر اگر کسی بھی وجہ سے والدین بچے کی پرورش نہ کرسکیں تو پھر آخراُن بچوں کی تربیت کس کی ذمہ داری ہے؟ تو اس کے بدلے ہم سب یہی کہیں گے کہ اساتذہ، اس صورتِ حال کے پیش نظر اساتذہ کی اہمیت اور ان کے کندھوں پر نسلوں کی پرورش کی ذمہ داری کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک سچا واقعہ یقیناًہم سب کو یہ سوچنے پر مجبور کردے گا کہ ایک استاد کس طرح اثر انداز ہوکر لوگوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے۔ ایک کالج کے سوشیالوجی کے پروفیسر اپنی کلاس کو اس شہر کے غریب ترین محلے میں بچوں کے بارے میں جاننے (Case Study) کے لیے لے گئے۔ دوسوطالب علموں کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیاگیاتمام طلباء کی رائے یہ تھی کہ اس قدر غربت اور افلاس میں ان بچوں کے کامیاب ہونے کی امید کی ہی نہیں جاسکتی ۔
                25سال کے بعد اسی ادارے کے ایک دوسرے سویالوجی کے پروفیسر نے تجسّس کی بنا پر اپنی کلاس کو اس بات پر راضی کیا کہ اس فائل میں جن بچوں کے نام ہیں ان کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔بیس طالب علم یاتو کہیں اور چلے گئے تھے یازندہ نہیں تھے باقی 180میں 176کامیاب کی منزلیں غیر معمولی طور پر طے کرکے ڈاکٹر ، وکیل یابزنس مین بن چکے تھے۔ یہ جاننے کے بعد پروفیسر اور اس کی کلاس کا تجسّس اتنا بڑھا کہ اُنہوں نے مزید جاننے کے لیے ان سب کو ڈھونڈنا شروع کیا تاکہ پوچھ سکیں کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ ہر ایک سے اُنہیں ایک ہی جواب کہ یہ سب ایک استاد کی بدولت ہوا۔ اب تو اس استاد کو ڈھونڈنا اور تفصیل پوچھنا سب کے لیے ناگزیر تھا۔ خوش قسمتی سے وہ ٹیچر زندہ تھے وہ سب ان تک پہنچ گئے اور دریافت کیا کہ ایسا کیا جادو ان کے پاس تھا جس نے ان کے طالبعلموں کوکامیابی سے ہمکنار کیا۔ ٹیچر کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُنہوں نے جواب دیا یہ تو بہت آسان تھا کیونکہ میں نے ان بچوں کو دل کی گہرائی سے پیار کیا اور ان کے لیے کامیابی کی خواہش کی۔
کتنے افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنی آسان بات ہمارے ہاں اساتذہ کو ابھی تک سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ٹیچر بننا کوئی نہیں چاہتا جب ڈاکٹر یا انجینئر بننے کی ساری کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو تنگ آکر ٹیچر بن جاتے ہیں۔ جتنے ٹوٹے ہوئے دل سے اساتذہ اپنا کام کرتے ہیں ویسے ہی نتائج کے حامل ان کے طالب علم ہوتے ہیں۔ خاص طور پرہمارے ہاں پرائمری سطح پر بالکل غیر تربیت یافتہ اساتذہ کے ہاتھوں میں معصوم ذہنوں کی باگ ڈور سونپ دی جاتی ہے۔ جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کے پہلے سات سال ہی ذہن کی شعوری اورغیر شعوری نشوونما کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں۔
ایک پیار کرنے والے استاد سے اس کے طلباء کی والہانہ محبت سے تو ہم سب واقف ہیں لیکن شاید اس کے اثرات کو(Under Estimate) کرلیتے ہیں۔ میراذاتی تجربہ ہے کہ اکثر والدین آکر ٹیچر سے کہتے ہیں کہ مہربانی کرکے آپ ہمارے بچے سے کہہ دیں کہ وہ دودھ پیاکرے یارات کوجلدی سوئے یا یہ کہ وہ دانت برش کیاکرے کیونکہ ہمارے بچے کاکہنا ہے کہ اگر میرے ٹیچر کہیں تو میں مان لوں گا۔
ذرااندازہ لگائیے ایک استاد بچے کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ ہمارے ہاں تو معاملہ ہی کچھ الٹ ہے۔ سکولوں میں صرف سلیبس ختم کروانا اساتذہ کاواحد مقصد ہے۔ جو تعلیم طالب علموں کو دی جارہی ہے وہ محض ڈگریوں تک محدود ہے۔ پھر یہ گلہ کیاجاتا ہے کہ اس پیشے میں عزت نہیں رہی، طالب علم ٹیچر کا احترام نہیں کرتے، کیسے کریں احترام، ہم نے انہیں دیاکیا ہے ۔
نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی اخلاقیات پر بھی توجہ دیں۔ ہمارے ہاں اخلاقیات پر بہت کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ چھوٹے بچوں کو کہانیاں سننے کاشوق بھی بہت ہوتا ہے استاد خود بھی موقع کی مناسبت سے چھوٹی چھوٹی کہانیاں بنا کر سنا سکتے ہیں۔ بڑی کلاسز کے بچوں کے لیے حقیقی دنیا کی باتیں بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔ ہمارے اردگرد ہر وقت نئی نئی کہانیاں جنم لیتی ہیں اور معجزات رونما ہوتے ہیں۔
ایک اچھا استاد بڑی آسانی سے اپنے طالب علموں کو حالات سے آگاہ بھی رکھ سکتا ہے اور اچھے برے کی پہچان بھی کرواسکتا ہے۔ بچوں کو خواب دیکھنے اور بڑی بڑی باتیں کرنے سے کبھی نہ روکیں۔ خواب دیکھنے والے بچے ہی زندگی میں کامیاب ہوتے ہیں۔
ایک واقعہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے کافی ہے کہ خواب دیکھنے سے کیا مراد ہے ۔ ایک دس سال کابچہ جس کاباپ ایک بہت بڑے اصطبل کار کھوالہ تھا، گھوڑے پالنے کابڑا شوق رکھتا تھا۔ ایک روز کلاس میں استاد نے بچوں سے اپنی زندگی گزارنے کے بارے میں مضمون لکھنے کو کہا۔ اس بچے نے اپنے ایک خواب کو خوبصورت ڈرائنگ کی شکل دے کر کاغذ پر اتارا ۔استاد نے دیکھ کر اسے بہت ڈانٹا کہ کیوں خوابوں کی دنیا میں رہتے ہو، اتنے غریب ہو کر تمہیں یہ سب سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ یہ کہہ کر استاد نے بچے کو فیل کردیا اور کہا ایک ہفتے کے اندر اندر نیا مضمون لکھ کر لاؤورنہ سکول نہ آنا۔
وہ بچہ بڑا پریشان ہوا لیکن اس نے مضمون نہ بدلا اور ایک ہفتے کے بعد وہی مضمون لے کر دوبارہ استاد کے پاس گیا اور کہا میں مضمون نہیں تبدیل کروں گا اور سکول چھوڑ دیا۔ بیس سال بعد وہی استاد کسی دعوت پر اپنی کلاس کے بچوں کو لے کر ایک زرعی فارم لے گیا۔ استقبال کرنے کے لیے ان کاوہی طالب علم کھڑا تھا جس نے کبھی یہ خواب دیکھا تھا۔ ایسا ہی تھا جیسے اس نے تصویر میں بنایاتھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ ٹیچر بہت شرمندہ تھا کیونکہ اس کامیابی میں اُس کاحصہ نہیں تھا۔
حوصلہ افزائی کی اہمیت:
بچوں کی نشوونماپر ایک استاد کاکیااثر ہوسکتا ہے۔ ایک سکول میں ایک تجربہ کیاگیا ۔ ایک کلاس میں بچے بڑی اچھی طرح اپنا کام کرتے تھے ان کی ٹیچر ان کو ہر وقت یہ احساس دلاتی تھی کہ وہ بہت اچھے بچے ہیں۔ دوسری طرف اسی طرح کی ایک کلاس کے بچے کچھ سست واقع ہوتے تھے کیونکہ ان کی ٹیچر ان کو یہ کہتی تھی کہ تم کچھ کرہی نہیں سکتے۔
تجربے کے طور پر پہلی ٹیچر کو دوسری کلاس کے بچے دے دئیے گئے اور دوسری ٹیچر کو پہلی کلاس کے بچے دئیے گئے ۔ کچھ عرصے کے بعد پتہ چلا کہ اچھا کام کرتے ہوئے بچوں نے اس ٹیچر کے پاس آنے کے بعد سے کام کرنا چھوڑ دیا اور فیل ہونا شروع ہو گئے اور دوسری طرف نالائق بچے جو کہ اس ٹیچر کے پاس بھیج دئیے گئے تھے جو بچوں کی حوصلہ افزائی کرتی تھی، بہترین نتائج دکھانے لگے۔ اندازہ لگائیے ایک استاد کی حوصلہ افزائی بچوں پر کیا اثر ڈال سکتی ہے۔
کوئی کام بذاتِ خود چھوٹا یابڑا نہیں ہوتا بلکہ اس کام کے نتائج ہی اس کام کے چھوٹے یا بڑے ہونے کاتعین کرتے ہیں ۔ہم نے خود تعلیم کے شعبے کو بے معانی نتائج کی بنا پر چھوٹا بنادیا ہے اور محض چند پیسوں کے عوض وقت گزارنے کاایک ذریعہ بھی، یقیناًیہ سب اس لیے ہوا ہے کہ اساتذہ اپنی اہمیت سے ناواقف ہیں۔
قرآن پاک کی پہلی آیت نازل ہوئی تو خدا اور اس کے بندے کے درمیان استاد اور شاگرد کارشتہ قائم ہوا۔
’’اے محمدﷺاپنے پروردگار کانام لے کر پڑھ جس نے (عالم کو) پیدا کیا جس نے انسان کوجمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھو تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں بتائیں جن کااسے علم نہ تھا۔‘‘(96-1-4)
علم کی اہمیت ہی سے علم دینے والے کی اہمیت کابھی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔ تعلیم دینا تو نبیوں کاشیوہ اور پیغمبروں کی میراث ہے اور ساتھ ہی ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کی سنت بھی۔ تعلیم دینا تو افضل ترین پیشہ ہے جو کہ دنیا کے عظیم ترین دانش وروں نے اپنایا۔ ارسطو، افلاطون، امامِ غزالی، ابن خلدون، امام ابوحنیفہ اور امام مالک جیسے لوگ جو علم کاسرچشمہ بھی ہیں ۔
جب اساتذہ اپنا فرض انصاف سے پورا کرتے ہیں تو جو عزت واحترام ان کے حصے میں آتی ہے اس کااندازہ صرف وہ استاد ہی لگاسکتا ہے(اس موقع پر وہ واقعہ قابلِ بیان ہے) جب خلیفہ ہارون رشید اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ جمعے کی نماز پڑھنے مسجد گئے تو وہاں ان کے بیٹوں کے استاد بھی نماز پڑھنے آئے ہوئے تھے۔ جیسے ہی نماز ختم ہوئی دونوں لڑکے بھاگے کہ استاد کے جوتے کو ن اٹھا کر لاتا ہے اور خلیفہ ہارون رشید کی آنکھیں عقیدت سے بھر آئیں جب اُنہوں نے دیکھا کہ ایک بیٹے نے ایک جوتا اُٹھایا ہوا ہے اور دوسرے نے دوسرا جوتا اُٹھایا ہواتھا اور استاد کاانتظار کررہے تھے۔ یقیناًاگر ہم نے اس معاشرے کو اچھے استاد دئیے تو یہ معاشرہ بھی ہمیں ایسے ہی طالب علم دے گا۔
از
مالک خان سیال

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں