ابتدائی طبی امداد

ابتدائی طبی امداد مریض کی جان بچانے کی ابتدائی اور ہنگامی کاوش ہے تا کہ مرض کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔روز مرہ زندگی میں کبھی کبھار ہمارے ساتھ اور اکثر دوسرے افراد کے ساتھ کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ رونما ہو جاتا ہے جس میں دوسرے افراد کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے تا کہ زیادہ نقصان سے بچا جا سکے۔ اس لیے بچوں کو مختلف حادثات و واقعات کے پیش نظر ابتدائی طبی امداد سے آگاہ کرنا اور علاج کی تربیت دینا بے حد ضروری ہے ۔طلبا کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تربیت دینا نہ صرف ان کے لیے بلکہ دوسرے افراد کے لیے بھی سود مند ہے۔ طبی امداد سے آگاہی ہمارے اساتذہ ، والدین اور طلبا کے لیے نہایت ضروری ہے۔
اگر طلبا کو ابتدائی طبی امداد سے روشناس کرایاجائے تو یقینی طور پر وہ مختلف حادثات کی صورت میں اپنی اور دوسرے لوگوں کی حفاظت بہتر انداز میں کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ مریض کو ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے علاج معالجے کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں جس سے مرض کی نوعیت کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔اس لیے سکولز میں وقتاً فوقتاً مختلف ایسے پروگرامات کروانے چاہییں جن سے بچوں کو ابتدائی طبی امداد سے آگاہی دی جا سکے اور مختلف حادثات اور بیماریوں کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اور ابتدائی علاج کی تربیت دی جا سکے۔
ابتدائی طبی امداد کے لیے حادثہ کی معلومات جاننا ضروری ہے کہ بیماری کیسے شروع ہوئی یا حادثہ کیسے ہوا۔ اگر متاثرہ شخص ہوش میں ہو تواس سے ان واقعات کے متعلق احتیاط سے پوچھا جائے جن کے نتیجے میں بیماری یا زخم پیدا ہوا۔اگر متاثرہ شخص بے ہوش ہو تو یہ معلومات موقع پر موجود لوگوں سے حاصل کی جائیں ۔ مثلاً اگر یہ پتہ چل جائے کہ متاثرہ شخص کو گرتے وقت چوٹ لگی تو متعلقہ زخم پر فوری توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔اسی طرح اگر بے ہوش شخص اپنے اعضا ء کو جھٹکتا ہو یا اس کے منہ سے جھاگ جاری ہو تو یہ امکان ہو گا کہ اس کی بے ہوشی مرگی کے دورے کی وجہ سے ہے۔ متاثرہ شخص کے دوستوں اور رشتہ داروں سے پوچھیں کہ وہ کسی خاص بیماری میں مبتلا تو نہیں یا وہ کوئی خاص دوا تو نہیں استعمال کر رہا ۔اس سے اس کی بیماری کی وجہ سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
چند ضروری اشیاء کا ایک فرسٹ ایڈ باکس ہر گھر میں موجود ہونا چاہیے۔ اس میں تکونی پٹی، کاٹن رول، پلاسٹک کی چپکنے والی پٹی، قینچی، تھرمامیٹر، برنال، پایوڈین اور آیوڈیکس وغیرہ لازماً ہوں۔اس کے علاوہ سر درد اور بخار کے لیے پیراسیٹامول اور پونسٹان کی گولیاں اور پیٹ خراب ہونے کی صورت میں اوآر ایس یا نمکول وغیرہ بھی ہو۔گھر میں رکھی جانے والی اس فرسٹ ایڈ کٹ کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے اوراس میں ایسی ادویات نہ ہوں جن کی مدت استعمال ختم ہو چکی ہو۔
ذیل میں چند ایمرجنسی مسائل اور ان کے ابتدائی طبی علاج کے حوالے سے چند سفارشات تحریر کی جا رہی ہیں جن سے طلبہ و طالبات کی آگاہی ضروری ہے تا کہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کر سکیں۔
1)     ۱گر کانٹا چبھ جائے
اگر کسی بچے کو سو ئی یا کانٹا چبھ جائے تو سب سے پہلے سوئی یاکانٹے کو باہر نکالیں ۔ خون بہنے کی صورت میں خون کو روکیں اور متاثرہ جگہ پر پایو ڈین ٹنکچر لگا کر پٹی باندھ دیں۔ کانٹا جسم کے اندر ٹوٹ جانے کی صورت میں کو شش کر یں کہ کانٹا نکل سکے بصورت دیگر درد کو روکیں۔
2)     حلق میں کچھ پھنس جائے تو
حلق میں کو ئی چیز پھنس جانے کی صورت میں مریض کو سامنے کی طرف جھکا کر اس کی پشت پر کندھوں کے درمیان کھلے ہاتھوں سے پانچ مرتبہ زور دار ہاتھ ماریں۔ یہ طریقہ کار گر نہ ہونے کی صورت میں پیٹ پر دباؤ دیں ۔ ایسا کرنے کے لیے مریض کے پیچھے کھڑے ہو کر دونوں بازوؤں سے اس طرح گھیرا ڈالیں کہ ایک ہاتھ کی ہتھیلی اوپر اور ایک کی نیچے کی طرف ہو۔ مر یض کے بے ہوش ہونے اور سانس نہ لینے کی صورت میں فوری طور پر ہسپتال لے جائیں۔
3)     اگر موچ آ جائے
کسی پٹھے کے زیادہ کھچ جانے یا پھٹ جانے کی صورت میں موچ آجائے تو مریض کو زیادہ چلنے پھرنے مت دیں ، متاثرہ جوڑ یا ہڈی کی حرکت کو کم کر دیں تاکہ سوجن کم ہو سکے۔ متاثرہ جگہ پر گرم کپڑا لپیٹ کر باندھ دیں تاکہ حرکت نہ ہو سکے۔ اگر ہڈی کے ٹوٹنے کا خطرہ ہو تو مر یض کو فوراًہسپتال لے جائیں اور ڈاکٹر کے مشورے سے پلاسٹر آف پیرس کی پٹی کروائیں۔
4)     کٹ لگ جائے تو
اگر جسم کے کسی حصے پر کٹ لگ جائے تو دیکھیں اگر زخم معمولی ہے اور زیادہ خون نہیں بہا تو پایو ڈین کے ٹنکچر کو زخم اور اردگرد کی سطح پر لگائیں اور پٹی باندھ دیں۔ زخم گہرا ہونے کی صورت میں سب سے پہلے خون کے بہاؤ کو روکیں اور پھرٹنکچر لگا کر پٹی باندھیں۔ کپڑا اتنی سختی سے نہ باندھا جائے کہ دوران خون ہی رک جائے۔
5)     اگر بجلی کا جھٹکا لگے
بجلی کا جھٹکا لگنے کی صورت میں بے ہوشی ، سانس کی رکاوٹ اور دل کی د ھڑکن کی بندش ہو سکتی ہے ۔ طبی مدد کے لیے سب سے پہلے پلگ یا سوئچ کے بند ہونے کو یقینی بنائیں یا اگر تاریں گری ہوئی ہیں تو انہیں ہٹائیں یا مریض کو بجلی کے منبع سے دور کریں ۔اس دوران اپنا بچاؤ بھی اشد ضروری ہے۔غیر موصل اشیاء مثلاً لکڑی اور ربڑ وغیرہ کا استعمال ایسی صورت میں مفید ہو سکتا ہے۔بجلی سے متاثرہ مریض کو علیحدہ کرنے کے بعد اس کی نبض اور سانس کا معائنہ کریں اور سانس بند ہونے کی صورت میں مصنوعی تنفس دیں ۔ سانس اور نبض نارمل ہو جائے تو جلنے کے زخم کا ابتدائی طبی علاج کر یں یا ہسپتال منتقل کر یں ۔
6)     شہد کی مکھی کاٹ لے تو
اگربھڑ یا شہد کی مکھی کاٹ لے تو متاثرہ جگہ پر خارش مت کر یں ورنہ تکلیف زیادہ ہو گی ۔ کاٹے کی جگہ پر پانی اور صابن یا ڈیٹول والے پانی سے دھو ئیں پھر برف کی ٹکور کریں ۔
7)     اگر نکسیرپھوٹے
کسی وجہ سے اگر نکسیر پھوٹ پڑے تو مریض کو کر سی پر بٹھائیں اور اس کے جسم کا اگلا حصہ نیچے کی طرف جھکا دیں۔مر یض کے ناک کے نتھنو ں کو دونوں انگلیوں سے پکڑ کر دبا دیں ۔ برف دستیاب ہو تو ناک کے اوپر برف کی ٹکور کریں یا سر پر پانی ڈالیں۔اگر خون پھر بھی جاری رہے تو کاٹن کی پٹی کو ناک کے اندر نتھنوں کے اندر پر یشر کے ساتھ رکھ دیں اور اس کا ایک سرا باہر رکھیں تاکہ اسے نکالا جا سکے۔
8)     جل جانے کی صورت میں
بعض اوقات شعلوں ، کھولتے ہوئے مادوںیا کیمیکلز سے جسم جل جاتا ہے ۔ جلنے کی وجہ کوئی بھی ہو زخموں کا طریقہ علاج ایک جیسا ہے ۔ اگر جسم کا بہت زیادہ حصہ جل چکا ہو تو اسی وقت ایمبولینس کے لیے فون کر یں ۔جلنے کی مختلف صورتوں میں طبی مدد بھی اس کے مطابق ہوتی ہے۔کسی کو کپڑوں میں آگ لگنے سے اسے اس طرح لٹائیں کہ جلا ہوا حصہ اوپر کی طرف ہو اور اس پر خوب پانی ڈالیں یا پھر کمبل یا دری میں لپیٹ دیں تاکہ شعلوں کو ہوا نہ مل سکے۔
اگر جسم گرم پانی یا سیال مادے سے جلا ہے تو اوپر پہنے ہوئے کپڑوں میں حرارت موجود ہو گی ۔انہیں احتیاط سے علیحدہ کر دیں کیو نکہ کپڑوں میں موجود حرارت سے مزید زخمی ہونے کا امکان ہے۔
 اگر زخم کسی کیمیکل کی وجہ سے ہو اہے تو کپڑوں کو اتارنا ضروری ہے مگر یاد رہے کہ اپنے ہاتھوں کو اس کیمیکل سے بچانے کے لیے کچھ پہن لیں ۔ متاثرہ عضو کو پانی کے ٹب میں کم از کم 10منٹ لٹا دیں ۔ جلی ہو ئی جگہ پر برف ہر گز مت لگائیں ۔ زخم شدید ہو تو طبی مدد طلب کرنے میں ہرگز تاخیرمت کر یں ۔
9)     اگر دم گھٹنے لگے
گیس اور دھوئیں سے متاثر ہونے کی صورت میں آکسیجن کی کمی کا مسئلہ پیدا ہو تا ہے ۔ جس وجہ سے کھانسی اور دم گھٹنے کی علامات ظاہر ہو تی ہیں ۔ اگر متاثرہ شخص تنگ یا بند گلی میں موجود ہے تو دروازے اور کھڑکیا ں کھول دیں یا مریض کو کھلی جگہ پر لے آئیں ۔ اگر مر یض کا سانس بند ہو یا ہلکا چل رہا ہو یا سانس میں شور آ رہا ہو تو یہ یقین کر یں کہ اس کے منہ میں کو ئی چیز تو نہیں پھنسی ہو ئی ۔ اگر مر یض بے ہو ش ہو تو سانس کی بحالی کی پو زیشن میں لٹا دیں۔ خطرے کی صورت میں فوراً ہسپتال سے رجوع کر یں ۔
10)            آنکھ پر چوٹ لگ جائے تو
آنکھ پر چوٹ لگنے کی صورت میں مر یض کو اس طرح لٹائیں کہ ممکنہ حد تک حرکت نہ ہو ۔ متاثرہ آنکھ کا معائنہ کر یں ۔ آنکھ کی چوٹ آنکھ میں کسی چیز کے چلے جانے مثلاً گرد کے ذرات ، شیشے کے ٹکڑے ، آنکھ کے بال ، دھات کے ٹکڑے اور کیمیکلز وغیرہ سے ہو سکتی ہے۔ عام درجہ حرارت کے پانی سے آنکھ کو اچھی طرح دھوئیں ۔ اس کے لیے ضروری ہو گا کہ مریض اپنی متاثرہ آنکھ کھلی رکھے یا اپنا چہرہ پانی میں ڈبو کر آنکھ بار بار جھپکے ۔ اگر آنکھ میں کو ئی چیز چبھ گئی ہو اور اندر گھسی ہو ئی ہو یا آنکھ میں اس سے زخم ہو گیا ہو تو پانی مت ڈالیں اور فوراًڈاکٹر سے رجوع کر یں ۔
11)            اگر کتا کاٹ لے
کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو کسی بھی صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں اور اس کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔اگر کاٹنے والا کتا باؤلا ہو تو بیس دن تک پیٹ میں پنسلین کے ٹیکے لگوائیں۔
12)            مچھلی کا کانٹا پھنس جائے تو
مچھلی کا کانٹا گلے میں پھنس جانے کی صورت میں روٹی کا نوالہ کھلائیں۔ کانٹا اس میں پھنس جائے گا، اس طرح اگر نگل بھی لیا جائے تو تکلیف نہ دے گا ۔
13)            اگر پن پیٹ میں چلی جائے
ہڈی یا پن پیٹ میں چلی جائے تو مر یض کو کیلے زیادہ مقدار میں کھلائیں یا اسبغول کا چھلکا کھلائیں۔ اس طر ح پن پیٹ سے باہر نکل جائے گی۔
14)            دانت بھنچ جائے تو
کسی وجہ سے دانت کے بھنچ جانے کی صورت میں مر یض کی ناک کو دونوں انگلیوں کے ساتھ دبائیں ۔ دباؤ پڑنے سے منہ کھل جائے گا۔
15)            اگر سانپ کاٹ لے
سانپ کے کاٹنے کی صورت میں کاٹے والی جگہ کو صابن سے دھو دیں ۔ کاٹے والی جگہ سے دو سے چار انچ اوپر جسم کی طرف مضبوطی سے کپڑا باندھ دیں مگر خون کا بہا ؤ نہ رکنے پائے۔ ایک صاف ستھرے بلیڈ یا چاقو سے ایک چوتھائی انچ کا کٹ لگائیں اور زخم پر منہ لگا کر زہر کھینچ کر تھوک دیں۔ جتنی جلدی ہو سکے مر یض کو ہسپتال منتقل کر یں ۔
16)            پانی میں ڈوبنے کی صورت میں
پانی میں ڈوبنے کی صورت میں مر یض کو پانی سے نکالنے کے بعد اوندھے منہ لٹا دیں اور منہ کو اندر سے صاف کر یں ۔ پیٹ کے نیچے کو ئی گدی وغیرہ رکھ کر کمر پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالیں تاکہ پانی پیٹ سے نکل جائے ۔ سانس بند ہو نے کی صورت میں مصنوعی طر یقے سے سانس بحال کر یں اور ڈاکٹر سے رجوع کر یں ۔
از
مالک خان سیال

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں