جو ہو ذوقِ تحقیق پیدا

اکثرکہا جاتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے جمود کا شکا ر ہیں اور اس کی ایک اہم وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ سالہا سال سے ہمارے اساتذہ ایک ہی طرز سے تدریس کرتے آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر لیکچر کے ذریعے معلومات فراہم کرنا یا درسی کتاب کا پڑھا دینا اور پھر طالب علم سے توقع کرنا کہ وہ صرف درسی مواد کو یا د کر لے اور امتحانی پرچہ میں وہی کچھ اگل دے۔ یوں امتحانات میں زیادہ سے زیادہ نمبر لینا ہماری تدریس اور امتحانات کا مقصد ہے۔ اس طریقہ تدریس سے طالب علم نہ صرف یکسانیت اور بوریت کا شکار ہوتا ہے بلکہ یاد کیا ہو ا علم بھی جلد بھول جاتا ہے۔ اس کے اندر علمیت نام کی کوئی چیز نہیں رہتی اور اس طرح وہ اظہار رائے کی صلاحیت سے محروم ہو جا تا ہے۔
مروجہ امتحانی نظام نے استاد کو بھی فراہمی معلومات تک محدود کردیا ہے اور اس طرح اس نے اپنے اسلوب تدریس و تربیت میں جمود اور ٹھہراؤ کو مرکزی حیثیت دے دی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے اساتذہ اور طلبا اپنے اندر تنقیدی، تجزیاتی، تخلیقی اور مشاہداتی مہارات پیدا نہیں کر سکے۔ یہ اوصاف اس وقت پیدا ہو سکتے ہیں جب ہم تعلیمی اداروں میں ریسرچ کلچر کو فروغ دیں۔ حقیقت میں جب تک ہم اپنے تعلیمی اداروں میں تحقیقی ذوق پیدا نہیں کریں گے تدریسی انقلاب نا ممکن ہے۔
تعلیمی تحقیق کو سادہ زبان میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نظام تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے منظم اور مرتب انداز میں معلومات جمع کر کے تجزیہ کریں اور اس کی روشنی میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے متعدد سوالوں کے جوابات تلاش کریں۔ مثلاً اساتذہ کا تعلیمی معیار کیا ہے؟ طلبا کے اندر مطلوبہ صلاحیت و قابلیت میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا؟ مروجہ طریقہ تدریس میں کیا خامیاں ہیں؟ طلبا کے اندر سیکھنے کے عمل میں کون سی مشکلات پیش آتی ہیں؟ ہمارا موجودہ نظام تعلیم اور طرز تعلیم طلبا کو مستقبل کا اچھا انسان بنانے میں ناکام کیوں ثابت ہو رہاہے؟ ہمارے نظام امتحانات سے معیار تعلیم میں اضافہ کیوں نہیں ہو رہا۔
غرض یہ کہ اس طرح کے لا تعداد سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا ضرور ی ہے اور اس کے لیے تحقیقی عمل کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ہر استاد کا تحقیقی سرگرمیوں میں شریک ہونا ضروری ہے۔ البتہ سرکاری سطح پر وسائل کی فراہمی اور مناسب سہولیات و حوصلہ افزائی بنیادی ضرورت ہے۔
بحیثیت مجموعی یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کے ریسرچ کلچر کو فروغ دیا جائے کیونکہ ایک اچھا استاد وہی ہے جو تدریس و تحقیق میں کمال پیدا کرے۔ تحقیق درحقیقت ایک استاد کو مستعد، متحرک، فعال اور جدید معلومات سے با خبر رکھتی ہے۔ اگر پڑھانے والا صحیح اور جدید معلومات فراہم کرے گا تو اس سے طلبا بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ تحقیق ہی قیادت فراہم کرتی ہے اورایسی قیادت کے بغیر تعلیم کی اصلاح ممکن نہیں۔ اس ضمن میں چند تجاویز درج ذیل ہیں۔
v    تعلیمی اداروں میں تحقیق کے لیے مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں۔خصوصاً تربیت کا انتظام ہو تا کہ معیار تعلیم بلند ہو
v     ایجوکیشن کالجز کے نصات میں تحقیق اور ایکشن ریسرچ سے متعلق کورسز ہوں
v     قومی سطح پر ایجوکیشن ریسرچ بورڈ بنا یا جائے جسے ماہرین تعلیم سپر وائز کریں۔اس بورڈ میں مختلف تحقیقی اداروں کو نمائندگی دی جائے تا کہ ایک تو ان کے کام میں ربط پیدا ہو سکے ،دوسرے تمام تحقیقات کی جانچ پرکھ ہو سکے، تا کہ تحقیقی نتائج کے پیش نظر تعلیم میں بہتری کے لیے پالیسی سازی اور منصوبہ بندی کی جاسکے۔
v     تعلیم وتحقیق کے لیے یونیورسٹیوں کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس سے تعلیم وتحقیق کے کام کو فروغ حاصل ہو گا۔
v     اداروں کے سربراہان اپنے سٹاف کی میٹنگ میں تعلیمی مسائل کی نشاندہی کریں اور ان کے حل کے لیے بحث و تمحیص کا موقع فراہم کریں۔ موزوں حل کے لیے اساتذہ اپنی آراء دیں۔ ہر رائے کا تجزیہ کرکے موزوں حل تلاش کیا جائے، اس کی آزمائش کی جائے اور حاصل شدہ نتائج کی بنیاد پر تدریسی عمل میں اصلاح اور ترمیم عمل میں لائی لائے اور اس عمل کو مسلسل جاری رہنا چاہیے۔
v    اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ مختلف تعلیمی مسائل کے حل کے لیے اپنے مشاہدات اور دیگر علمی ماہرین کے تجربات سے استفادہ کریں۔ اساتذہ، فن تحقیق سے متعلق کورسز کا مطالعہ کریں۔چھوٹے چھوٹے تعلیمی مسائل پر تجرباتی تحقیق یا ماہرین کی آراء (بیانیہ تحقیق) سے رہنمائی لے کر اپنی تدریس کو بہتر بنائیں۔
v    اساتذہ کوایسے تعلیمی جرائد فراہم ہونے چاہییں کہ اساتذہ تازہ، تخلیقی، مشاہداتی، تجرباتی اور معلوماتی مضامین کا مطالعہ کر سکیں تا کہ وہ ذہنی جمود سے نکلیں۔ مزید برآں ہر استاد کو چاہیے کہ وہ سال میں کم از کم ایک تحقیقی مضمون تیار کرے۔ اپنی سٹاف میٹنگ میں پیش کر کے کسی جریدے میں شائع کروائے۔ ایسی سرگرمیوں سے استاد کی پیشہ ورانہ معلومات میں لازماً اضافہ ہو گا۔
الغر ض حکومتی سطح پر تعلیمی تحقیقی کلچر فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ تحقیقی کلچر کو اپنا کر ہم اپنے تعلیمی اداروں میں تدریسی و تعلیمی بہتری لا سکیں۔
از
مالک خان سیال

1 comments:

تحقیقی کلچر کو اپنا کر ہم اپنے تعلیمی اداروں میں تدریسی و تعلیمی بہتری لا سکتے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں