قرآن
پاک سیکھنا اور سکھانا دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے ۔اس کے بارے میں خود
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’و لقد یسر نا القرآن للذکر فھل من مدکر‘‘(یعنی ہم نے
قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا)اور
آنحضور ﷺ کا فرمان ہے کہ’’ خیر کم من تعلم القرآن و علمہ‘‘ (یعنی تم میں سے بہتر
وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے)۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن و سنت
کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ، قرآن و سنت کے مطابق اپنی عملی زندگیاں گزارتے رہے
اس وقت تک مسلمان دنیا بھر کے امام رہے اور دنیا کی ہر قوم اُن سے مغلوب ہوئی مگر
جب انہوں نے علم و دانش کی صحبت کو خیر باد کہہ دیا اور علم و عمل کو پسِ پشت ڈال
کر دنیاپرستی میں دلچسپی لینا شروع کی تو اُن کی قیادت چھین لی گئی ۔
ہمارے
پیارے نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر
تم ان کو مظبوطی سے پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ یہ دو چیزیں قرآن اور سنت
ہیں۔آج ہم نے قرآن کو غلافوں میں لپیٹ کر رکھ دیا ہے اور اگر پڑھتے بھی ہیں تو
بغیر سوچے سمجھے ۔یہ جانے بغیر کہ یہ ہم سے کیا کہہ رہا ہے۔علامہ اقبالؒ فرماتے
ہیں
قرآ ن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
حضرت
عبداللہ بن عمرؓ کا قول ہے کہ میرے اونٹ کی نکیل گم ہو جائے تو میں قرآن سے پوچھتا
ہوں اور قرآن مجھے بتاتا ہے کہ میری نکیل کہاں پڑی ہے۔یہ ہے قرآن کو سمجھنے کا
صحیح مفہوم کہ یہ تو ہمارے ہر مسئلے کا حل بیان کرتاہے مگر افسوس کے ہم اس کو سمجھ
کر پڑھتے ہی نہیں۔قرآن مجید جیسا نازل ہوا تھا جوں کا توں آج بھی ویسا ہی ہے۔اس
میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔اگر تبدیل ہوئے ہیں تو اس کے پیروکار جنہوں نے اسے
سمجھ کر کبھی پڑھا ہی نہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن پاک کا فہم حاصل کریں
اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ قرآن پاک ہم سے کیا خطاب کر رہا ہے۔اگر ہم قرآن پاک
سے سچا اور پکا رشتہ استوار کر لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ آج بھی ہم اپنا کھویا ہوا
مقام حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے تمام مسائل کا حل قرآن کریم سے تلاش کر سکتے ہیں۔
آج
ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبا و طالبات کو قرآن کریم کا فہم دیا جائے اور انہیں قرآن
کریم کا ترجمہ سکھایا جائے تا کہ نونہالوں کو قرآن کریم کے معانی و مفہوم سے آگاہ
کر کے سچا اور پکا مسلمان بنایا جا سکے اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریقوں کے
مطابق اُن کی شخصیت کی تعمیر کی جا سکے تا کہ یہی طلبا بڑے ہو کر فہم القرآن کے
نور کی بدولت ملک و ملت کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دے سکیں۔
فہم القرآن کے
مقاصد:۔
سکولز میں بچوں
کو قرآن کریم کا فہم دینے کی بدولت وہ اس قابل ہو سکیں گے کہ
v قرآن
مجید کے بہت سے الفاظ اور آیات کا خود سے ترجمہ کر سکیں۔
v قرآن
مجید کا فہم حاصل کر کے اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں ڈھال سکیں۔
v قرآن
کے لائے ہوئے نظامِ زندگی کو اپنا سکیں۔
v قرآن
کریم میں دیے گئے عنوانات سے روزمرہ زندگی میں استفادہ کر سکیں۔
v قرآن
کریم کی روشنی میں اپنی کردار سازی کر سکیں۔
پرائمری
جماعتوں میں فہم القرآن
ابتدائی
کلاسز سے ہی طلبا کو قرآن فہمی کی طرف راغب کرنا ضروری ہے۔اس مقصد کے لیے نرسری
کلاس میں تسمیہ، تعوذ ، پہلا کلمہ وغیرہ جہاں بچوں کو زبانی یاد کروایا جائے وہیں
ان کا ترجمہ یا د کروایا جائے گا تا کہ بچہ جان سکے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔اسی طرح
ہر اگلی کلاس میں تھوڑا تھوڑا نصاب بڑھایا جائے جیسے چھہ کلمے، نماز، تیسویں پارے
کی آسان آسان سورتیں وغیرہ کوترجمے کے ساتھ بچوں کی یادداشت کا حصہ بنایا جائے۔اس
سے بچوں کو جہاں قرآن کا آہستہ آہستہ فہم حاصل ہو نا شروع ہو گا بلکہ وہیں ان کو
دیگر مضامین کے سمجھنے میں بھی آسانی پیدا ہو گی۔انہی ابتدائی کلاسز میں بہتر ہو
گا کہ بچوں کو جو پڑھائیں اُس کے ہر لفظ کا ترجمہ سکھائیں۔بچوں کو اعراب کی پہچان
کروانا اور اعراب کے مطابق پڑھنے میں مہارت سکھائی جائے۔
مڈل اور ہائی
جماعتوں میں فہم القرآن
مڈل
جماعتیں(ششم، ہفتم اور ہشتم)بچے کی فکری، علمی اور شخصی تعمیر کے لحاظ سے سب سے
اہم جماعتیں ہوتی ہیں۔اس عمر میں ضرورت ہوتی ہے کہ اُن کی صلاحیتوں اور طاقتوں کو
قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کی روشنی میں اپنی شخصیت کو تعمیر کرنے کی طرف لایا
جائے۔ان جماعتوں میں بچے کے لیے باقاعدہ فہم القرآن کورس کا آغاز کردینا ہی ضروری
ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ہائی جماعتوں میں قرآن کریم کو مزیدگہرائی تک سمجھنے اور اس
کی تفسیر کر سکنے کی قابلیت حاصل کی جاسکتی ہے مگر ضروری یہ ہے کہ آغاز ابتدائی
کلاسز سے کیا جا چکا ہو تا کہ دور رس نتائج کا حصول ممکن ہو سکے۔
ہائی
جماعتوں میں بچوں کو گرامر کی مدد سے قرآن پڑھایا جائے۔اس سلسلے میں ماضی، مضارع،
امر اور نہی وغیرہ کی قرآن پاک کے الفاظ سے پہچان کروائی جائے۔ کوئی سا بھی آسان
عربی گرامر کا کتابچہ مارکیٹ وغیرہ سے لے کر اس سے بچوں کو پہلے گرامر کروائی جائے
اُس کے بعد وہ اس قابل ہو جائیں گے کہ خود قرآن پاک کا ترجمہ کر سکیں۔فہم القرآن
کورس کوقرآن پاک میں سے جہاں چاہیں وہیں سے شروع کیا جا سکتا ہے کیونکہ سارا قرآن
ہی باعث ہدایت و رہنمائی ہے مگر نمونے کے دیے گئے فہم القرآن کے طریقے کی بدولت
بغیر کسی اضافی محنت اور خاص وقت کے نہ صرف قرآن کو سیکھا جا سکتا ہے بلکہ بقیہ
قرآن پاک کو سمجھنے کا شاخسانہ بھی نکلتا ہے۔
ششم:سورۃ
فاتحہ +سورۃ بقرہ 141آیات(ایک پارہ)
ہفتم:سورۃبقرہ 142تا286آیات
(ڈیڑھ پارہ)
ہشتم:سورۃ آل
عمران(200آیات)
نہم:سورۃ
نسا(176آیات)
دہم:سورۃ
الانعام( 165آیات) + سورۃ الانفال(75آیات)
طریقہ کار:۔
1)
پہلے سال مکمل سال میں
سورۃ فاتحہ (سات آیات) اور سورۃ بقرہ (پہلی 141آیات)یعنی پہلا
مکمل پارہ لفظی اور با محاورہ ترجمہ کے ساتھ ششم سے دہم تک کے تمام طلبا و طالبات
کو یاد کروایا جائے گا۔
2)
روزانہ کم از کم ایک آیت
ہر لفظ کے ترجمہ و مفہوم کے ساتھ بچوں کو یاد کروائی جائے گی۔
3)
بچوں کا روزانہ کی بنیاد
پر جائزہ لیا جائے گا اور ہر ایک لفظ کا معنی اور مفہوم سُنا جائے گا۔
4) ہر رکوع و آیت کے موضوعات
تفصیل سے بچوں کو بتائے جائیں گے نیز ہفتہ وار بنیادوں پر بچوں کا جائزہ لیا جائے
گاکہ وہ کس حد تک سیکھ رہے ہیں۔مزید برآں بچوں کو والدین کو بھی سیکھی جانے والی
معلومات سکھانے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے گی تا کہ قرآن کریم کا نور اُن کے گھر
تک بھی پھیل سکے۔
5) آیات کے اندر بتائے جانے
والے موضوعات پر بچوں کی ڈسکشن اور دروس رکھے جائیں گے۔
6) فہم القرآن کے لیے عربی
اور اسلامیات کے پیریڈز کو بخوبی استعمال کیا جا سکتا ہے۔یہ پیریڈز متبادل ایام
میں بھی رکھے جا سکتے ہیں اور روزانہ اس کے لیے دس منٹ اسلامیات یا عربی کے پیریڈ
سے مختص کیے جا سکتے ہیں۔بہرحال بہتر ہو گا کہ فہم القرآن کے لیے الگ پیریڈ رکھا
جائے جس کا دورانیہ پندرہ سے تیس منٹ تک ہو۔
7) قرآن پاک کے آخری پارے کی
آخری بیس سورتوں کو بھی بامر ضرورت نصاب میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
از
مالک
خان سیال






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں