اپنی اولاد کو کامل مسلمان
بنانے کے لئے علمِ دین سکھانا بے حد ضروری ہے مگر
آج دینی تعلیم کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر بچہ ذرا ذہین ہوتواس کے
والدین کے دل میں اسے ڈاکٹر، انجینئر ، پروفیسر ، کمپیوٹر پروگرامر بنانے کی خواہش
ہوتی ہے اور اگر بچہ کند ذہن ہے یا شرارتی ہے یا معذور ہے تو جان چھڑانے کے لئے
اسے کسی مدرسے میں داخلہ دلا دیا جاتا ہے ۔
بظاہر اس کی وجہ یہی نظر آتی ہے کہ والدین کی
اکثریت کا مقصد محض دنیاوی مال وجاہ ہوتی ہے، اُخروی مراتب کا حصول ان کے پیشِ نظر
نہیں ہوتا ۔ والدین کو چاہيے کہ پہلے اپنی اولاد کو ضروری دینی تعلیم دلوائیں اسے
کم ازکم نماز وروزہ کے مسائل، دیگرفرائض و واجبات ، حلال وحرام ، خریدوفروخت، حقوق
العباد وغیرہ کے شرعی احکام سکھا دئيے جائیں ۔
اس کے بعد چاہیں تو وہ دنیاوی تعلیم بھی
دلائیں لیکن بہتر یہی ہے کہ اسے درسِ نظامی(یعنی عالم کورس) کروائیں تاکہ وہ عالم
بننے کے بعد معاشرے میں لائق ِ تقلید کردار کا مالک بنے اور دوسروں کو علمِ دین بھی
سکھائے ۔
بطورِ ترغیب علمِ دین سیکھنے
کے چند فضائل ملاحظہ ہوں :
سرکارِ مدینہ ﷺ نے فرمایاکہ :
''جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر
چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے اور بے شک فرشتے
طالب العلم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین
وآسمان میں رہنے والے حتیّٰ کہ پانی کی مچھلیاں طالب علم کے لئے استغفار کرتی ہیں
اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر
اور بے شک علما ء وارثِ انبیاء علیہم السلام ہیں اور انبیاء علیہم السلام درہم و دینار
کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوسِ قدسیہ تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں توجس نے اسے
حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ حاصل کرلیا ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب السنۃ،باب فضل
العلماء والحث علی طلب ا لعلم،الحدیث۲۲۳،ج۱،ص۱۴۵)
طبرانی شریف میں حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم
اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ پیارے محبوب ، دانائے غیوب صلَّی اللہ
تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:
''جو بندہ علم کی جستجو میں جوتے یا
موزے یا کپڑے پہنتا ہے ، اپنے گھر کی چوکھٹ سے نکلتے ہی اس کے گناہ معاف کردیئے
جاتے ہیں ۔''
(المعجم الاوسط، باب المیم،الحدیث ۵۷۲۲،ج۴،ص ۲۰۴)
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ
ﷺ اپنی مسجد میں دومجلسوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :
" یہ دونوں بھلائی پر ہیں مگر
ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے ، ایک مجلس کے لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں ، اس کی
طرف راغب ہیں ، اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے۔ اور دوسری مجلس کے لوگ خود بھی فقہ
اور علم سیکھ رہے ہیں اور نہ جاننے والوں کو سکھا بھی رہے ہیں ، یہی افضل ہیں ، میں
معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ''
پھر آپ ﷺ انہی میں تشریف فرما
ہوئے ۔
(سنن الدارمی، المقد مۃ ،باب فی
فضل العلم ،الحدیث ۳۴۹، ج۱،ص۱۱۱ )






0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں